زمانہ گواہ ہے

نغمانہ حسیب

زمانہ ازل سے ابد تک مقرر کیا جا چکا ہے ایک پیمانے کی طرح، اور انسان اس غلط فہمی میں رہا کہ وقت گزر رہا ہے۔ غور کریں وقت کا کوئی بچپن نہیں کوئی جوانی نہیں کوئی بڑھاپا نہیں، تو کون گزر رہا ہے؟ وقت یا خود انسان؟ کیونکہ یہ مراحل انسان پر آتے ہیں، وقت پر نہیں۔ وقت کے پیمانے پر چلتے چلتے ہر انسان اپنی باری پر اتر جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ وقت نہیں گزرتا ہم گزر رہے ہیں۔ تہذیبوں کے قافلے اس وقت کی پٹڑی سے گزر کر اتر گئے اور یہی سمجھتے رہے کہ وہ خود نہیں بلکہ وقت گزر رہا ہے۔ انسان عقل کے خسارے میں ہی رہا۔

اکیسویں صدی سے گزرتی اس تہذیب کا غرور اس کی ترقی ہے۔ اور زعم اس بات کا کہ جو ہمارے پاس ہے وہ پچھلی کسی تہذیب کے پاس نہیں ہے۔ لیکن کبھی یہ بھی سوچا کہ جو ان کے پاس تھا وہ ہمارے پاس نہیں۔ انسان کی فکر قدیم اور جدید میں ہی بٹی رہی۔ ہر دور کا انسان خود کو جدید اور اپنے جد کو قدیم گردانتا آ یا۔

دور جدید کے کرونا کو ہی لے لیں۔ اس تہذیب کا اعتماد دیکھیں جو اپنے ہی ترقی یافتہ اجتماعی وجود کا بت بنائے اس کو پوج رہا تھا۔ لہروں کو کنٹرول کر کے کائنات سے باہر جست لگا چکا تھا۔ پھر کچھ ایسی ہوا چلی کے ایک نہ نظر آنے والی چیز نے اس تہذیب کی بے پناہ ترقی کے دعوں کی بنیادیں ہلا دیں اور دنوں میں اس ترقی یافتہ تہذیب کے بت کی آنکھوں میں ٹھہرا غرور بے بسی کے آنسو بن کر بہہ گیا۔ یہ کوئی بائیو وار تھی یا قدرتی آفت حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ہمیں تو وہی دکھایا اور سنایا جاتا ہے جو دکھانا اور سنانا مقصود ہوتا ہے، لیکن درحقیقت انسان اپنی تہذیب و ترقی کے جال میں پھنس گیا ہے۔ خسارہ نہیں تو اور کیا ہے۔

ویلیم بلیک اپنی نظم بارش میں بارش کا منظر انتہائی خوبصورتی سے الفاظ میں قید کرنے کے بعد بتاتا ہے کہ سب سے زیادہ بارش سے لطف اندوز وہ پتے ہوں گے جو درختوں کے اوپر اونچائی پر واقع ہیں۔ اور جب وہ سیر ہو جائیں گے تو باقی ماندہ پانی نیچے والے پتوں تک پہنچ پائے گا۔ ہم بھی نیچے والے پتے ہیں، غیر اہم اور مطیع ہیں۔ وسائل، دولت، طاقت، معلومات، سچ اور جھوٹ کی کیمیا گری انہی کی رسائی میں ہے جو بلندی پر واقع ہیں، جبکہ نیچے والوں کے لیے صرف حبس اور تشنگی۔

تو معلومات کا یہ خزانہ کس کام کا؟ قومی اور بین الاقوامی میڈیا سے شروع ہو کر سوشل میڈیا کے لکھاریوں تک، دعویٰ اور جواب دعویٰ کا نہ تھمنے والا سلسلہ ہے لیکن سچ تک رسائی ہی نہیں۔ شور تو ہے لیکن آواز کوئی نہیں۔ سچ اور حقیقت پر طاقت کے پردے ہیں۔ معلومات کے بے پناہ وسائل اور اس تک رسائی کے باوجود ہم ’نچلے پتے‘ در حقیقت نہیں جانتے کی حقیقت کیا ہے۔

اور کیسی ترقی کیسی تہذیب؟ فطرت انسانی تو نہ بدلی۔ ہوس اقتدار، انسان کی انسان پر، اقوام کی اقوام پر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ اللہ نے بتا دیا انسان کو کہ اس نے قبیلے اور گروہ شناخت کے لیے بنائے۔ لیکن زمانہ گواہ ہے کہ یہ شناخت انسان کی انسان پر گرفت کی شدید خواہش میں بدل گئی۔ جہاں انفرادی طور پر ہر انسان دوسرے انسان کو محکوم بنانا چاہتا ہے، وہیں اقوام کی اجتماعی نفسیات میں بھی دوسروں پر حاکم بننے کی شدید خواہش موجود ہے۔

اور خالق کے اصول نہیں بدلتے۔ اقوام اپنی اجتماعی غلطیوں کی سزا زوال اور ناپید ہونے کی شکل میں بھگت کے رہتی ہیں۔ زمانہ گواہ ہے، کیونکہ انسان تو زمانے پر اپنا متعین سفر طے کر کے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس کی گرد میں کھو گئے، لیکن زمانہ گواہی دینے کے لئے موجود رہا کہ ساری طاقت اقتدار اور دولت حاصل کرنے کے باوجود انسان خسارے میں رہا۔

انشقاق کا عمل دریافت کیا، ایٹم کو توڑ کر اس کو قابو کرنے کے دعوے کیے۔ لیکن خیرو شر صاف اور گندے خون کی نسوں کی طرح انسانیت کے اجتماعی وجود میں بھی بہتی ہیں۔ یہی انشقاق طاقتور قوموں کے ہاتھ میں کمزور قوموں کا معاشی اور معاشرتی استحصال کرنے کے لیے ایک ہتھیار بن گیا۔ قابو میں ہے تو خیر اور بے قابو ہے تو کائنات کے خاتمے کا سبب بن جانے والا آ خری دھماکہ، وجہ صور ہو جیسے۔ ترقیوں کا خسارہ بھگتنا تو خود انسان نے ہی ہے آ خر۔

انسان کی سب جان لینے کی خواہش بھی جب شدید ہو گئی تو رموز کائنات کی طرف متوجہ ہوا۔ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے خواہش کی۔ وہ علم حاصل کرنے کی ہوس کا شکار ہوا تو علم بھی نافع نہ رہا اور تخلیقات کی گھمن گھیری میں کھو گیا جبکہ اہم خالق تھا۔ آج کا ترقی پسند انسان خالق کوقدیم جانتا ہے اور تخلیقات کو جدید۔ حالنکہ یہ کائنات جب حضرت انسان کے لیے ٹھکانا بنائی گئی تو تمام عوامل، ذرائع اسی وقت اس کی گود میں ڈال دیے گئے تھے۔

البتہ وقت کے پیمانے پر دانوں کی طرح پھینک دیے گئے جو کہ ہر تہذیب اپنی اپنی باری پر چنتی آ ئی، اور دریافت و ایجاد کا سہرا اپنے سر سجاتی آ ئی۔ انسان علم کا ایسا اسیر ہوا کہ کبھی سیر نہ ہوا، اور آ گہی کا عذاب بخوشی اٹھاتا رہا۔ عقل کی ڈگڈگی پر تحقیق کا تماشا محض سجائے علم کے سراب سے کبھی سیراب نہ ہو پایا۔

تاریخ کا ابہام ہی دیکھ لیں۔ انسان اپنے حال میں کم ہی رہتا ہے، یا ماضی کے گڑھے مردے اکھاڑنے کا جنون یا تخیلاتی ٹائم مشین پر سوار مستقبل کی سیریں۔ اور وقت کی لمحاتی اکائی حال سے اکثر غافل۔ فرد ہو یا قوم پنڈولم کی طرح آ گے پیچھے۔ تاریخ گزری انسانیت کے مھبم نقش توچھوڑ جاتی ہے لیکن بہت سے عوامل ایسے ہیں جو اس کو غیر یقینی بنا ڈالتے ہیں۔ مختلف اقوام کے مورخین کی بیک وقت بیان کردہ تاریخ میں ایک قوم کا بہادر دوسری قوم کا دشمن ہوتا ہے۔

اقتدار کے حصول کی ہوس، علاقے اور وسائل پر قابض ہونے کی خواہش سے شروع ہوکر انسانیت کے اذہان پر حکومت کرنے کی کوشش میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اور قرآن جو ہر علم کا دیباچہ ہے تاریخ بیان کرتے ہوئے بہت سی اقوام کا حال بتاتا ہے، جو وقت کے وسیع سمندر میں قوی ہیکل لہر کی طرح بلند ہو کر آ خرجھاگ ہوگیں۔ خسارہ نہیں تو اور کیا ہے۔ انسان لاشعوری طور پر لافانی طاقت کے لاحاصل سفر پر ہمیشہ سے روانہ ہوا اور وقت کے پیمانے پر لاپتہ ہوگیا۔

لیکن انسان کا اصل خسارہ سبق حاصل نہ کرنے میں ہے۔ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ اس خسارے کا گواہ خالق نے زمانے کو بنایا یہ شروع میں بھی موجود تھا، اور آخر تک موجود رہے گا۔ لیکن حضرت انسان خود کو حاضر اور وقت کو غائب سمجھتا رہا۔ خود گزر رہا ہے، جبکہ سمجھتا ہے کہ زمانہ گزر رہا ہے۔ اس خسارے سے مستثنیٰ بھی ہیں کچھ لوگ، اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس ایمان اور نیک عمل کی دولت ہے۔ ورنہ تو خود زمانے سے پوچھ لیں انسان کی عشق لا حاصل کی داستان، جو اس نے کی دولت سے، اقتدار سے، بے پناہ کی آگہی سے، غصب سے، غضب سے، ترقی سے، دوام سے اور سب سے بڑھ کر خود اپنے آپ سے۔