انوشے اور یاسر لائیو ویڈیو کے دوران لڑ پڑے

پاکستانی فلم و ڈرامہ انڈسڑی سے تعلق رکھنے والے اداکار یاسر حسین اور پاکستانی میزبان انوشے اشرف کے درمیان لائیو ویڈیو کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

اداکار یاسر حسین وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیے جانے والے ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ کے خلاف تو تھے ہی مگر اب پاکستانی برانڈز کی جانب سے ترکش اداکارہ کو برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر کچھ زیادہ ہی نالاں نظر آرہے ہیں
یاسر حسین آج کل بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے اداکاروں کو پاکستان شوبز انڈسٹری میں ملنے والے کام کے خلاف بول رہے ہیں، پاکستان شوبز انڈسٹری کے فنکار اس موضوع پر بٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں، کچھ فنکاروں کا کہنا ہے کہ فنکاروں کے فن کی کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ ترکش ڈرامے کی کامیابی کے بعد ترک اداکار بھی پاکستان میں آئیں گے جس سے مقامی فنکاروں کا نقصان ہوگا
گزشتہ روز کراچی میں ہونے والی بارش کے دوران میزبان انوشے نے یاسرحسین کا لائیو انسٹا سیشن کے ذریعے انٹرویو کیا، انٹرویو کے دوران انوشے کی جانب سے یاسر حسین سے سوال کیا گیا کہ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ پاکستان میں بین الاقوامی اداکاروں کو نہیں آنا چاہیے، اور انہیں یہاں کام نہیں ملنا چاہیے ؟
اس پر جواب دیتے ہوئے یاسر حسین کا کہنا تھا کہ ’ اگر کوئی باہر سے اداکارہ پاکستان آتی ہے تو اُسے پہلے یہاں آ کر ایک سال محنت کرنی چاہیے جیسے ہماری اداکارائیں دن رات محنت کرتی ہیں۔‘

یاسر حسین نے ترکش اداکارہ ایسرا بیلجک سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ پاکستان آئی بھی نہیں، وہ تو اپنے شوٹ بھی اپنے ملک میں کروا رہی ہیں، وہ پاکستان آتی کراچی یا پشاور میں اُن کا اشتہار تیار ہوتا تو یہاں کی عوام کو بھی پیسہ ملتا
اس پر انوشے اشرف کا کہنا تھا کہ ایک یا دو کمرشل سے کیا ہو جاتا ہے، انوشے نے بھارتی اداکارہ کرینہ کپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی کافی سارے پاکستانی برانڈ کی ایمبیسیڈر بن چکی ہیں۔

یاسر حسین کا انوشے کی اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اُنہیں اس بات پر حیرانی ہو رہی ہے کہ اگر آپ نہیں سمجھ رہی تو باقی عوام کیسے سمجھے گی کہ باہر کے اداکاروں کو پاکستانی برانڈ ز کے ایمبیسیڈرز بنانا ہمارے فنکاروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔