ایک محترمہ ٹیکسی ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کر رہی ہے

ایک محترمہ ٹیکسی ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کر رہی ہے حالانکہ پچھلی سیٹیں خالی ہیں ۔ (ممکن ہے کہ محترمہ ٹیکسی ڈرائیور کی اہلیہ ہو۔)
• ایک شخص مسجد کے آگے سے گزر رہا ہے ، جب کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اور وہ نماز ادا کئے بغیر آگے گزر جاتا ہے۔ (ممکن ہے اس آدمی نے دوسری مسجد میں نماز پڑھ لی ہو۔)
• آپ ایک آدمی کے پاس سے گزرتے ھیں اور اسے سلام کرتے ہیں مگر وہ جواب نہیں دیتا۔ (ممکن ہے اس شخص نے آپ کے سلام کی آواز سنی ہی نہ ہو۔)

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر میں کسی بھائی کو اس حال میں دیکھوں کہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رہے ہیں تو میں یہی حسنِ ظن رکھوں گا کہ کسی اور نے اس کی داڑھی کے اوپر شراب انڈیلی ہے۔
اور اگر کسی بھائی کو پہاڑ کی چوٹی پر یہ پکارتے ہوئے سنوں: “انا ربکم الاعلی” (میں تمھارا عظیم ترین رب ہوں) تو میں یہی گمان کروں گا کہ وہ قرآن کی تلاوت کر رہا ہے۔

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کے لئے خود اپنے اعمال کی نیتوں کو جاننا مشکل ہے اور وہ دسروں کی نیتوں کے بارے میں فیصلے صادر کرتا پھرتا ہے۔
ہم اکثر معاملے کے صرف ایک رخ کو دیکھتے ہیں، لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ دوسرے رخ کو مثبت طرح سے لیں. تاکہ لوگوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی حق تلفی نہ ہو۔
دوسروں سے متعلق ہمیشہ نیک گمان رکھیں.
—-


افضال احمد ( راولپنڈی)