تعلیموشعور ‘ترقی اوراسلام تحریر: ڈاکٹر فرح ناز راجہ

تعلیموشعور ‘ترقی اوراسلام
تحریر: ڈاکٹر فرح ناز راجہ
✍جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے،
جہاں ابن سینا “القانون فی الطب” کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے،
اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم کو ساتھ لے کر چلنا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا.
پھر وقت بدل گیا ہمارے “اقابرین” کوے کے حلال و حرام پر مناظرے کرنے لگے، اور ہم نے اپنے نصاب میں وہ علوم شامل کردیے، جن میں نہ ہماری دنیوی ترقی تھی نا آخرت کی کامیابی، جہاد اور مجاہدین ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگے، کھیرے، ککڑی، کیلے، مسواک کا سائز، ہمارے اہم مسائل میں شامل ہوگئے،آمین تیز آھستہ پڑھنے پر کفر کے فتوے لگناشروع ھوگئے۔فرض کے بعد دعاجائز ھے ناجائزھے پر جھگڑے ھونے لگے۔اور پھر ھلاکوخان چنگیزی فوج نے مسلمانوں کے سروں سے فٹ بال۔کھیلے اور کوپڑیوں کے مینارکھڑے کردئے۔علمی کتابیں دریامیں بہادئے گئے۔اور مسلمان ایک ھزار سال پیچھے چلے گئے۔اور آج پھر وھی صورتحال ھیں
اور آج ہم اس حیرانگی کا شکار ہیں کہ “تبدیلی آ کیوں نہیں رہی۔”
جبکہ ھماراعلمی معیار یہ ھے کہ ھم لارڈ میکالے کے نصاب سے باھر ھی نہیں نکل سکے۔۔۔۔
جب تک ہم تعلیم اور شعور کو ایک دوسرے سے مر بوط نہیں کریں گے ہم ترقی نہیں کر سکتے ۔۔ مندرجہ بالا پوری تحریر میں میں نے ماضی کو اسلیئے پیش کیا کہ مسلمان یہ سمجھ سکیں کے وہ ماضی میں دنیا کی تمام قوموں سے سب سے آگے اور عطیم تر کیونکر کہلاتے رہے ۔۔۔
تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،
مرد ہو یا عورت سب کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے ۔۔۔۔ یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اس سے نہیں چھین سکتا۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق بھی تعلیم ہی کی بدولت ہے۔۔۔ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔۔۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لے لینا نہیں ہوتا بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہوتا ہے
تہزیب اور تمیز سیکھنے کے عمل کو شعور کہا جاتا ہے شعور اور تعلیم دونوں لازم و ملزوم ہیں اگر آپ نے صرف تعلیم حاصل کی اور آپ کو اپنی زات کا ادراک حاصل نہیں ہوا تو تعلیم بیکار ہے ۔۔۔۔
اسی لیئے لفظ تعلیم کواگر شعور کے ساتھ مربوط کر دیا جائے تو زیادہ موثر اور معنوی اعتبارسے وزن دار ہوجائے گا
کسی بھی معاشرے کے لیئے علم کے ساتھ شعور اس لیئے لازمی ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے ۔۔۔
علم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر علم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے انسان اشرف المخلوقات کا درجہ پر تب فائز ہوتا ہے جب وہ تعلیم حاصل شعوری طور پر بھی بیدار ہو۔۔۔۔۔
اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گےا ہے آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔
حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کےلئے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو اعلٰی تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائیں بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا جانتا ہو اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کر سکے ۔۔۔۔
جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ،ان کی شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گے ہے ۔۔۔۔۔محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہوگئے ہیں کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا۔۔ آج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اسلیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹہ لگانا ۔۔۔۔
بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے بچوں کو بدتمیزی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیا ہو۔۔۔۔
مگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسطرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علی شعور اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپہ ہیں ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہیں جو اپنی سرداری ،چوہدراہٹ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے اوراسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچیھے رہ گیا ہے مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے فتح کیا ہے مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں پر منحصر کرتے ہیں ان کا ملکی حفاظتی بجٹ تو اربوں روپے کا ہوتا ہے مگر تعلیی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ،
اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے علم کی اہمیت سے صرف انکار کرنا ممکن نہیں۔
زمانہ قدیم سے دور حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے فطرت بشری سے مطابقت کی بناپر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اس کے ابتدائی آثار ہمیں اسلام کے عہد مبارک میں ملتے ہیں چنانچہ عزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کےلئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے ۔چنانچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے جوکاتب وحی تھے ایسی طرح لکھنا سیکھا تھا اسی بات سے ہم اندازہ لگاسکتے ہے کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوران کا حصول کتنی ضروری ہے۔جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے تو ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا ملک دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔