گندم کا خوفناک بحران ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔ محکمہ خوراک کی پالیسیاں غذائی بحران پیدا کر رہی ہیں ۔ حکومت درآمد کنندگان کی طرف نہ دیکھے، گند م خود درآمد کرے:میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک بھر میں گندم کی قیمت بڑھنا شروع ہو گئی ہے جو جلد ہی ایک خوفناک بحران کی صورت اختیار کر کے عوام کی مصیبت میں اضافہ کرے گی ۔ گندم بحران میں مافیا کی کارستانیوں کے ساتھ متعلقہ اداروں کی نا اہلی کا بھی کردار ہے ۔ جب محکمہ خوراک ہی ملک میں خوراک کا بحران پیدا کر رہا ہو تو اسے ملک و قوم کی بدقسمتی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ایک طرف گندم کی قیمت کم کرنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں اور دوسری طرف فلور ملز پر ٹیکس عائد کئے جا رہے ہیں جس سے آٹا مزیدمہنگا ہو جائے گا ۔ فوڈ بیوروکریسی نامعلوم وجوہات کے سبب غذائی مارکیٹ کو مسلسل تلپٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں گندم کی خریداری کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں ، فلور ملز کو گندم خریدنے کی اجازت اس وقت ملی جب اس کام کے لئے حکومت کے وسائل ختم ہو گئے جبکہ 15 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور اب تک ایک کلو گندم بھی درآمد نہیں کی گئی ہے ۔ نجی شعبہ نے اب تک 72500 ٹن گندم کی درآمد کے لئے 122پرمٹ حاصل کئے ہیں جنھیں استعمال میں نہیں لایا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ محکمے واضح وجوہات کے سبب کچھوے کی چال چل رہے ہیں ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 8.25 ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا تھا مگر اب تک صرف6.45 ملین ٹن گندم خریدی جا سکی ہے جس پر ذخیرہ اندوز بغلیں بجا رہے ہیں ۔ ملک میں گندم کی قلت کے باوجود حالیہ بجٹ میں گندم کی درآمد پر سبسڈی کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے جو حیران کن ہے اور اگر درآمدکنندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا تو اربوں روپے کا انتظام کرنا بھی ایک مسئلہ ہو گا ۔ پنجاب میں گندم کی قیمت 1450 روپے من مقرر کی گئی ہے جسکی قیمت بڑھ کر 1950 روپے من تک پہنچ چکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سندھ میں گندم کی قیمت اٹھارہ سو روپے من تک پہنچ چکی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبہ کی طرف دیکھنے کے بجائے فوری طور پر خود گندم درآمد کرنا شروع کرے ورنہ گندم کا بحران سارے ملک کو لپیٹ میں لے لے گا ۔

— —
میاں زاہد حسین
03008233364 ۔ 03432226888
سابق وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنا لوجی ، سند ھ
صدرپاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم (پی بی آئی ایف )
سینیئر وائس چیئرمین بزنس مین پینل(بی ایم پی)
صدرآل کراچی انڈسٹریل الائنس (اے کے آئی اے) َ
چیئر مین آل پاکستان لبر یکنٹس مینو فیکچررز ایسو سی ایشن (ایپلما)
سابق چیئرمین کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)