کراچی کو اندھیرے میں ڈبونے کی سازش کے بنیادی کردار کون ؟

کراچی میں لوڈ شیڈنگ کی صورت حال ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے یہ معاملہ حکومتی ایوانوں پارلیمنٹ عدالتوں اور اب تو نیب انکوائری تک چلا گیا ہے لیکن سخت گرمی کے موسم میں شہری بجلی کی عدم فراہمی اور گھنٹوں لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ کے الیکٹرک کے اندرونی ذرائع اور حکومتی شخصیات بھی یہ بتا رہی ہیں کہ آنے والے دن آنے والے دن زیادہ سخت ہوں گے صورتحال ایسی ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال کا صحیح طریقے سے علاج تلاش نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں کراچی اندھیرے میں ڈوب جائے گا اور کے الیکٹرک کے ذمہ دار بھی صورتحال کو جوں کا توں چھوڑ کر بھاگ سکتے ہیں اگر ایسا ہوگیا تو کراچی کی بجلی کی صورتحال کو کون سنبھالے گا ؟

کے الیکٹرک کی موجودہ انتظامیہ اور اس کے پیچھے کار فرما بااثر لوگوں کا ایک گروپ اپنے فوائد سمیٹ چکا ہے کے الیکٹرک سے اچھا خاصا مال بنانے کے بعد اب ابراج گروپ اور اس کے کرتا دھرتا لوگ مالی مشکلات کے سامنا کر رہے ہیں اندرونی ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے پاس کے الیکٹرک کو چلانے کے لیے مطلوبہ رقم نہیں ہے جس دور میں کہ الیکٹرک کے سسٹم میں پیسہ لگانا چاہیے تھا اسے بہتر بنانے کے لئے فنڈنگ ہونی چاہیے تھی اس زمانے میں انویسٹمنٹ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر اب کمزور ہوتا جارہا ہے کے الیکٹرک کے پاس مطلوبہ بجلی فراہم کرنے کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم کمزور ہوچکا ہے نئے گریڈ اسٹیشن بنائے نہیں گئے اب ان میں وقت لگے گا بار بار پاور فیل ہو جانے کی وجہ انفراسٹرکچر اور بوسیدہ مشینری ہے ان آلات میں اگر کے الیکٹرک کی موجودہ انتظامیہ مالی بحران کا شکار ہو کر بھاگ گئی تو حکومت پاکستان کے لئے کراچی کے شہریوں کو بجلی فراہم کرنا ایک درد سر بن جائے گا کیوں کہ پہلے ہی حکومت پاکستان کے ماتحت کام کرنے والے مختلف ادارے بری طرح بدحالی کا شکار ہیں ماضی میں کے الیکٹرک جب حکومت کے پاس تھی تو اس کا برا حال تھا اسی لئے نجکاری کی گئی تھی کراچی سے پشاور تک جتنی بھی تقسیم کار کمپنیاں بنائیں گی ان سب کا برا حال ہے اور لوڈشیڈنگ عروج پر ہے کراچی کی صورتحال پر بھی اندرون سندھ اور دیگر علاقوں کی لوڈشیڈنگ سے بہتر بتائی جاتی ہے سخت گرمی کے موسم میں اندرون سندھ بلوچستان اور پنجاب کے اور کے پی کے میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے لیکن کراچی میں ابھی تک اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے کے الیکٹرک کے پاس ادائیگیوں کی رقم نہیں ہے اس لئے آنے والے دنوں میں مالی بحران بڑھ سکتا ہے یا تو اسے فرنس آئل اور گیس فراہم کی جائے یا اس کی مالی مدد ہو ورنہ صورت حال بہتر ہو سکتی ہے فوری طور پر کراچی میں کوئی دوسری کمپنی کے کور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے چین کی شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی پوری صلاحیت رکھتی ہے کہ کراچی کے بجلی کے نظام کو سنبھال سکے لیکن اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے افسران اور کراچی مخالف سوچ رکھنے والے لوگوں نے شنگھائ الیکٹرک کے آگے بڑھنے میں رکاوٹیں پیدا کی اور اب تک سارا کنٹرول امراض گروپ کے پاس ہے جو مالی بحران کا شکار ہو چکا ہے اگر وفاقی حکومت اپنے فیصلے درست انداز میں کرے اور وفاقی حکومت میں وزیر اعظم کے پرانے دوستوں کا عمل دخل کام ہو جائے تو شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی آگے بڑھ کر کراچی کے معاملات کو سنبھال سکتی ہے ۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ شنگھائی الیکٹرک کمپنی کو آگے بڑھنے سے روکنے والے کردار وہی ہیں جنہوں نے ماضی میں پی ٹی آئی کے لئے فنڈنگ کی تھی اور اب اس حکومت میں رہتے ہوئے کہ الیکٹرک کے معاملات سے مالی فوائد سمیٹ رہے ہیں یہ لوگ اپنی بوٹی کے لیے پورا اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں یہ کراچی کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے کے الیکٹرک کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ کراچی کو اندھیرے میں ڈبونے کی سازش تیار ہوچکی ہے اس سے کیسے بچنا ہے اور کیسے نکلنا ہے یہ اب ذمہ دار اداروں اور عدالتوں کا کام ہے کی صورتحال کا نوٹس لے اور کراچی شہر کو اندھیرے میں ڈوبنے سے بچائیں ۔
سیاسی محاذ پر بظاہر پاکستان تحریک انصاف ایم کیوایم پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتیں بجلی کے ایشو پر سیاست کر رہی ہیں روزانہ کراچی کے شہریوں کو نہیں تسلی دی جاتی ہے اور کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے لیکن مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جا رہا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کی موجودہ انتظامیہ ایک پرائیویٹ کمپنی کے طور پر شہر میں بجلی فراہم کرنے کے لئے عملے سے بہتر طریقے سے کام لے رہی ہے اگر یہ سرکاری ہاتھوں میں چلا گیا تو صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی سیاسی اثر رسوخ میں پہلے بھی نہیں قومی ادارے تباہ ہو چکے ہیں جہاں سب سیاست کی نذر ہو جاتا ہے اور وہ کام جو پرائیوٹ ہاتھوں میں ہو رہا ہے وہ بھی رک جائے گا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو سب سے پہلے شنگھائی الیکٹرک کمپنی کو آگے بڑھنے سے روکنے والے عناصر کا محاسبہ ضروری ہے جنہوں نے رکاوٹیں پیدا کی ہیں

یہ حقائق بھی سامنے آنے چاہیے کہ کے الیکٹرک صوبائی اور ضلعی حکومتوں سے ماہانہ کتنے پیسے بجلی کے بلوں کی مد میں وصول کرتی ہے اس کے کل اخراجات کیا ہیں اس نے اب تک سسٹم میں کتنی انویسٹمنٹ کی ہے موجودہ انتظامیہ نے سسٹم اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے ہیں کون سے نئے کام کیے ہیں جن پر کتنا پیسہ لگا ہے اس کی تفصیل سامنے لائی جائے ۔

یہ بھی پتہ لگایا جائے کہ کے الیکٹرک نے اپنے منافع سے کتنی رقم ملک سے باہر منتقل کیں اور کیا اس میں منی لانڈرنگ ہوئی یا سارا منافع قانون کے مطابق باہر گیا ۔
ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کے مختلف محکمے اور شعبے ماہانہ ایک ارب روپے کے بل ادا کرتے ہیں اور اس طرح کے الیکٹرک کو سالانہ سندھ حکومت سے بارہ ارب روپے سے زائد رقم وصول ہوتی ہے ۔یہ سارا پیسہ کہاں گیا اور کہاں استعمال ہوا اس کی تفصیلات بھی سامنے آنے چاہیے ۔
اس کے علاوہ کون کون سے عناصر ہیں جنہوں نے الیکشن سے پہلے کے الیکٹرک کے مالکان کی جانب سے فرنٹ مین کے طور پر مختلف سیاسی جماعتوں کے لئے فنڈنگ کی جس میں پی ٹی آئی میں شامل ہے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے لاہور کے ایک مشہور کاروباری گروپ اور آئی ایم ایف سے پاکستان کے اہم ادارے میں پوسٹنگ حاصل کرنے والے شخص کے قریبی رشتہ دار سے تحقیقات ہونی چاہیے ۔

ماہرین کے مطابق اگر کراچی کو اندھیرے میں ڈوبنے سے بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو انڈسٹری کا پیار ہو جائے گا پہلے سے مشکلات سے دوچار معیشت کا مزید برا حال ہو گا ملک میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا ۔

ذرائع نے بتایا کہ اگر کے الیکٹرک کی ڈیمانڈ ہے اسے فرنس آئل کے ریٹ پر گیس فراہم کرنی شروع کی گئی تو گیس پر چلنے والی دیگر انڈسٹری بری طرح متاثر ہوگی اس کے بھی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے لہذا کے الیکٹرک کو بجلی بنانے کے لیے مطلوبہ مقدار میں گیس فراہم نہیں کی جاسکے گی اسے باہر تو اور فرنس آئل خرید کر بجلی بنانی پڑے گی اور حکومت کو اس سلسلے میں کوئی میکنیزم بنانا پڑے گا ۔