’’چاچو‘‘ ٹرمپ، بھتیجی میری ٹرمپ اور جمہوریت مبارک ہو”

سپر پاور کا صدر بھی نیویارک میں پی آئی اے کا روز ویلٹ ہوٹل خریدنا چاہتا ہے تاکہ جمہوریت کے استحکام میں اپنا حصہ ڈال سکے۔نوٹ خرچ کرکے ووٹ کو عزت دینے کا دنیا میں اک اپنا ہی مقام ہے، جمہوریت بہترین انتقام ہے اور بقول شخصے جمہوریت ہی بہترین نظام ہے لیکن کتنا حسین اتفاق ہے کہ پہاڑوں سے اونچا، سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا اور فولاد سے مضبوط ’’غیر جمہوری ‘‘چین سونامی کی طرح گلوبلی سیاست پر چھاتا چلا جا رہا ہے۔ ایک طرف سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان کو ’’غیر جمہوری ‘‘ چین نے ناکوں چنے چبوا دیئے تو دوسری طرف وہ جمہوری سپر پاور کو بھی آنکھیں دکھا رہا ہے ۔ چین پر نئی امریکن پابندیوں کے جواب میں اس نے غیر جمہوری اعتماد سے کہا ہے ….’’امریکہ نے فیصلہ واپس نہ لیا تو بھرپور جواب ملے گا‘‘ ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کس احساس کمتری کے باعث ہم اس بے فیض، بے ثمر بے حیا جمہوریت کی بغل میں گھسے گھیسیاں کر رہے ہیں ۔ اللہ پاک اس کرہ ارض پر رحم فرمائے جس کے ’’تاجر سیاستدانوں‘‘ یا ’’سیاستدان تاجروں ‘‘ نے جیتے جاگتے انسانوں کو ’’منڈی کا مال‘‘ یا ’’مال مویشی ‘‘ سمجھ رکھا ہے ۔آج نہیں تو کل، انسانیت کو جمہوری قربان گاہوں سے نجات کیلئے کوئی اور راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔تازہ ترین یہ کہ معزز امریکی عدالت نے امریکن صدر کی بھتیجی میری ٹرمپ کو اپنے ’’چاچو‘‘ کے بارے دلچسپ انکشافات پر مشتمل کتاب کے بارے میں گفتگو کرنے اور اسے شائع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہاں ’’جمہوریئے‘‘ چاہیں تو یہ کہتے ہوئے ’’جشن جمہوریت‘‘ بھی منا سکتے ہیں کہ یہ عدالتی اجازت بھی جمہوریت کا ہی اعجاز اور اعزاز ہے تو مجھ جیسا ’’جمہوریت دشمن‘‘ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوگا کہ ایسی کتاب کی نوبت ہی کیوں آئی؟اک ایسا آدمی کیسے آیا، دیکھا اور چھا گیا جس کے بارے بھتیجی ایسے ایسے انکشافات کر رہی ہے کہ بندہ توبہ توبہ کر اٹھے۔یاد رہے کہ ٹرمپ خاندان نے اس کتاب کی اشاعت روکنے کیلئے مقدمہ دائر کیا ہوا تھا ۔یہ بھی یاد رہے کہ بھتیجی اپنے ’’چاچو‘‘بارے لکھتی ہے کہ کس طرح میرے خاندان نے دنیا کے سب سے خطرناک انسان کو پیدا کیا۔میری ٹرمپ نے ’’چاچو‘‘ کو ایک دھوکے باز اور بدمعاش قرار دیا ہے ۔واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی عدالت کے معزز جج نے پبلشرز کو کتاب کی اشاعت کے حق کی توثیق کر دی ہے جبکہ وائٹ ہائوس نے کتاب میں کئے گئے دعوئوں کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا تاہم کتاب کے کچھ اقتباسات امریکی میڈیا میں لیک ہو چکے ہیں یا لیک کئے جا چکے ہیں ۔55سالہ بھتیجی میری ٹرمپ کے خلاف کتاب کی اشاعت رکوانے کی کوشش میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھائی رابرٹ ٹرمپ نے مقدمہ دائر کرتے ہوئے پٹیشن میں کہا تھا کہ میری ٹرمپ نے وراثت کے معاملہ میں دو دہائی قبل رازداری کے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ میری ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکہ کے عوام ان کے اہم الفاظ پڑھ سکیں گے ۔میری ٹرمپ نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کو ٹیکس دستاویزات فراہم کیں جس نے حال صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی 1990ء میں مشتبہ ٹیکس سکیم سے متعلق 140ہزار الفاظ پر مشتمل تحقیقاتی مضمون شائع کیا۔میری ٹرمپ نے لکھا کہ ان سے صحافیوں نے 2019ء میں ان کے گھر پر رابطہ کیا اور ابتدا میں وہ ان صحافیوں کی مدد کرنے سے گریزاں تھیں۔ میری ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ نیویارک ٹائمز کے صحافیوں سے رابطہ کرنے سے قبل انہوں نے تقریباً ایک ماہ انتظار کیا اور لاء فرم سے قانونی دستاویزات کے کئی ڈبے سمگل کرنے کےبعد انہیں صحافیوں کو فراہم کیا اور اس لمحہ کو ایک ایسا یادگار لمحہ قرار دیا جس پر کئی مہینوں بعد انہیں بے پناہ خوشی محسوس ہوئی۔قارئین !آئیے اک’’جمہوری‘‘ سپرپاور کے جمہوری صدر بارے ان کی سگی بھتیجی کی لکھی گئی اس ہوشربا کتاب کا انتظار کریں ۔میں نہیں جانتا کہ شری نریندر مودی کی بھی کوئی بھتیجی یا بھانجی صاحبہ ہیں یا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ خود ’’تاریخ‘‘ان کی بھتیجی یا بھانجی کا کردار ادا کرے گی اور بتائے گی کہ سپرپاور جمہوریت کا صدر اور سب سے بڑی جمہوریت کا وزیر اعظم کیسا تھا اور یہ اپنے اپنے عوام کو کیسے ’’جمہوری ماموں‘‘ بنا گئے ۔ویسے تو اس کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے لئے خود اپنے جمہوری گریبانوں میں جھانکنا ہی کافی ہوگا۔پاکستان کی دوبڑی اور مقبول ترین جمہوری سیاسی پارٹیوں کا زیر تکمیل پوسٹ مارٹم ہمارے سامنے ہے اور اس پوسٹ مارٹم کے ساتھ ساتھ خود ہمارا حال بلکہ حالت زار ہمارے سامنے ہے۔ اس ملک کے کروڑوں عوام آج جو کچھ بھگت رہے ہیں اور جانے کب تک بھگتیںگے، یہ سب کچھ انہی بگلابھگت جمہوری تحفوں کا کیا دھرا ہے جو تمام تر مالی و دیگر جرائم ’’ملک و قوم کے وسیع تر مفاد‘‘ میں کرتے ہیں ۔اگر واقعاتی شہادت عینی شہادت پہ بھاری ہوتی ہے تو واقعہ یہ ہے کہ جمہوری قائدین خود تو ترقی کی معراج تک جا پہنچے، ملک قرضوں کے پاتال میں اتر گیا اور عوام جانے کب تک کیلئے روٹی کے طواف میں جت گئے۔

Written by Hassan Nisar