قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عوامی شکایات اور میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے کے-الیکٹرک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عوامی شکایات اور میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے کے-الیکٹرک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا
justice r javed iqbal chairman nab pm coronavirus fund

چیئرمین نیب نے شہر میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ، اربوں روپے کی اووربلنگ اور حکومت پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی مبینہ طور پر پاسداری نہ کرنے کے الزام میں نیب کراچی کو کے-الیکٹرک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت کے الیکٹرک نے بجلی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے مطلوبہ سرمایہ کاری کرنی تھی۔
اس کے ساتھ ہی نیب کراچی کو کے-الیکٹرک سے معاہدے کی کاپی، متعلقہ دستاویزات اور سرمایہ کاری کی تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے جو قانون کے مطابق ہمیشہ اپنے فرائض سر انجام دینے پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب، کے-الیکٹرک کو عوام سے اووربلنگ کی مد میں مبینہ طو ر پر اربوں روپے کی رقوم ہتھیانے، غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ اور معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتا ہے۔
قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے نیب کراچی کو کے- الیکٹرک کے خلاف 3 ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ عوام کو مبینہ طور پر لوٹنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے شدید گرم اور مرطوب موسم میں کراچی کے مکینوں اور تاجروں کو طویل دورانیے کی بجلی کی بندش اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے علاوہ کے-الیکٹرک کی جانب سے زائد بلنگ کے مسائل کا بھی سامنا ہے جبکہ توانائی کی تقسیم کار کمپنی نے بجلی کی بندش کو طلب و رسد میں فرق اور فرنس آئل کی قلت سے منسلک کیا تھا۔
شہر میں جاری بجلی کی طویل بندش اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں توانائی کمپنی نے بجلی کی طلب میں اضافے، فرنس آئل کی کمی اور ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کی فراہمی میں 50 ایم ایم سی ایف ڈی کمی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر بجلی کی فراہمی 3 ہزار 150 میگا واٹ سے کم ہو کر 2800 میگا واٹ رہ گئی ہے۔
تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے-الیکٹرک کے دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے کہا تھا کہ ’کے-الیکٹرک جھوٹا دعویٰ کررہی ہے کہ ایس ایس جی سی نے گیس کی فراہمی کم کردی ہے‘۔
دوسری جانب وزارت توانائی نے کے-الیکٹرک (کے ای) کی جانب سے کراچی میں بجلی کی طویل بندش کو مارکیٹ میں فرنس آئل کی کمی کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
علاوہ ازیں 9 جولائی کو وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا تھا کہ کراچی کو 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دوسری جگہوں سے دی جائے گی جس سے مزید 200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا تھا کہ اس کے علاوہ کراچی کو علیحدہ 100 ایم ایم سی ایف ڈی دے رہے ہیں بلکہ 180تک چلے گئے ہیں اور 100 میگاواٹ بھی نیشنل گرڈ سے دے رہے ہیں۔
بعدازاں 10 جولائی کو نیپرا نے اس حوالے سے عوامی سماعت کے بعد کراچی میں لوڈشیڈنگ کی انکوائری کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوسری جانب کراچی میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف کچھ روز سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے کے-الیکٹرک کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا جبکہ گزشتہ روز جماعت اسلامی نے بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا تھا اور 11 جولائی کو شاہراہ فیصل پر دھرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
11 جولائی کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا تھا کہ کراچی میں کل(بروز اتوار) سے غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔
اس حوالے سے اجلاس میں انہوں نے کے-الیکٹرک کو خبردار کیا تھا کہ اگر ادارہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہا تو حکومت اسے اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔
جس کے بعد گزشتہ روز کے الیکڑک کے چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او) مونس علوی نے کہا تھا کہ اس وقت کراچی میں زیادہ سے زیادہ ساڑھے 7 اور 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، یہ کسی بھی نارمل حالات میں ہوتی رہتی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے الیکڑک کے سی ای او نے کہا تھا کہ ہم نے لاک ڈاؤن میں لوڈشیڈنگ نہیں کی اس کی ایک بڑی وجہ طلب میں کمی تھی جبکہ 20 مارچ سے 28 مئی کے دوران کراچی میں کہیں بھی لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 سے 12 دن بعد درجہ حرارت ایسا ہو جائے گا کہ طلب کم ہوجائے گی اور شارٹ فال میں بھی کمی آئے گی