فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی فش ہاربر کے تمام منتخب ڈائریکٹرز اور 68 ممبران کی درخواست ہائی کورٹ نے فوری سماعت کے لیئے منظور

فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی فش ہاربر کے تمام منتخب ڈائریکٹرز اور 68 ممبران کی درخواست ہائی کورٹ نے فوری سماعت کے لیئے منظور کرتے ہوئے 11 اگست 2020 کیلیئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے آصف بھٹی اور دیگر کو پیش ہونے اور جواب 11 اگست سے پہلے داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔مدعی کے وکیل حسیب جمالی جو سماعت کے دوران کورٹ میں موجود تھے انہیں کورٹ نے پابند کیا کہ وہ یہیں کاپیاں وصول کریں اور 11 اگست سے قبل اپنا جواب داخل کریں۔درخواست کی سماعت کے دوران منتخب ڈائریکٹرز کے وکیل شہزاد قمر عباس اور ممبران کے وکیل ڈاکٹر محفوظ یار خان نے دوران سماعت کورٹ کو بتایا کہ سابق چیئرمین جو اس وقت زبردستی چیئرمین کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آصف بھٹی جو خود ساختہ وائس چیئرمین بنے ہوئے ہیں یہ ٹولہ کہیں زیادہ کرپشن میں ملوث ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان کے کرپشن کے اور بھی کیسز نیب میں زیر سماعت ہیں۔شہزاد قمر نے کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فش ہاربر پر بدمعاشوں کا ٹولہ قابض ہے جو منتخب ڈائریکٹرز کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکتا ہے اور منتخب وائس چیئرمین کو فرائض کی ادائیگی کی صورت میں ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دیتے ہیں جبکہ وہ ماہی گیروں کے نمائندے ہیں اور جب وہ غیر ماہی گیر قابض ٹولے عبدالبر اور ان کے حواریوں کو کرپشن سے روکتے ہیں تو یہ بدمعاشیوں پر اتر آتے ہیں۔اس وقت فش ہاربر پر کرپشن کی ایسی انتہا ہو رہی ہے کہ لوگ الامان و الحفیظ کہہ رہے ہیں۔