جامشورو پاور کمپنی لمیٹڈ کا 660 میگا واٹ کا دوسرا یونٹ 100 فی صد تھر کے کوئلے سے چلانے کے لئے ڈیزائن کیا جائے ۔ امتیاز احمد شیخ۔

جامشورو پاور کمپنی لمیٹڈ کا 660 میگا واٹ کا دوسرا یونٹ 100 فی صد تھر کے کوئلے سے چلانے کے لئے ڈیزائن کیا جائے ۔
امتیاز احمد شیخ۔

بجلی بنانے کے لئے درآمد شدہ ایندھن کے بجائے تھر کا کوئلہ استعمال کیا جائے۔ امتیاز شیخ

660 میگا واٹ کے جامشورو پاور پلانٹ II کو تھر کول پر چلانے سے سالانہ 125 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ امتیاز شیخ

تھر کول سے بننے والی بجلی مزید 17.11 ملین ڈالر سالانہ کی بچت فراھم کرے گی۔

وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ کا وفاقی وزیر توانائی عمرایوب کو مراسلہ۔

درآمد شدہ ایندھن کے بجائے تھر کے کوئلے سے بجلی بنانا زیادہ سستا، زیادہ قابل عمر اور بہترین قومی مفاد میں ہے
امتیاز احمد شیخ۔

کراچی 16 جولائی 2020.
وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے 660 میگا واٹ کے جامشورو پاور پلانٹ II کو 100 فیصد تھر کے کوئلے سے چلانے کے لئے ڈیزائن کرنے کی سفارش کی ہی۔
انہوں نے کہا ہے کہ جامشورو پاور پلانٹ II میں تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے سے 125 ملین ڈالر سالانہ کے زر مبادلہ کی بچت ہونے کے ساتھ ساتھ تھر کے کوئلے سے بننے والی سستی بجلی مزید 11.17 ملین ڈالر سالانہ کی بچت مہیا کرے گی۔

امتیاز شیخ نے کہا ہے کہ پاور پلانٹ کو درآمد شدہ ایندھن کے بجائے تھر کے کوئلے پر چلانا زیادہ سستا، زیادہ قابل عمل اور بہترین قومی مفاد میں ہوگا۔

امتیاز شیخ نے یہ سفارشات وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کو گزشتہ روز لکھے گئے اپنے مراسلے میں پیش کیں

اپنے مراسلے میں امتیاز شیخ نے لکھا ہے کہ جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر چلانے کے لئے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی، سندھ حکومت اور وفاقی حکام کے مابین مسلسل روابط جاری رہے ہیں جن پر ہونے والی پیشرفت کی روشنی میں یہ سفارشات پیش کی جارہی ہیں۔
وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ تھر کے کوئلے کو پاور پلانٹ تک پہنچانے کے لئے پاکستان ریلوے کی مدد لی جائے گی۔انہوں نے اس ضمن میں اسلام کوٹ سے نیو چھور مین ریلوے لائن تک ٹریک بچھانے کے منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کی فزیبیلیٹی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔

امتیاز شیخ نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ درآمد شدہ کوئلے سے چلنے والے دیگر پاور پلانٹس کو تھر کے کوئلے پر چلانے کی بھی منصوبہ بندی کی جائے۔تاکہ قیمتی زرمبادلہ کو بچا کر سستی بجلی حاصل کی جاسکے۔

ہینڈ آؤٹ نمبر(ایس۔اے۔این)