ارمینہ خان یاسر حسین کا ساتھ دینے میدان میں آگئیں

پاکستان کی معروف اداکارہ ارمینہ خان سوشل میڈیا صارفین کے شکار اداکار یاسر حسین کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آگئی ہیں۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ارمینہ خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یاسر حسین کو سوشل میڈیا پر ہراساں اور دھونس کا نشانہ بنایا جارہا ہے
ارمینہ خان نے لکھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ یاسر حسین ایک عوامی شخصیت ہیں لیکن میں نے اُن کے خلاف سوشل میڈیا پر جو تبصرے اور کمنٹس پڑھے ہیں وہ فرسودہ اور نفرت انگیز ہیں۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’جس طرح ہر پاکستانی کو اپنی رائے کا اظہار خیال کرنے کی اجازت ہے اِسی طرح یاسر حسین کے پاس بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرے۔‘

اُنہوں نےشدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یاسر اور اُن کی فیملی کو نازیبا ناموں سے پُکارنا بند کریں۔‘

اداکارہ کے اِس ٹوئٹ پر ٹوئٹر صارفین نے مخالف ردعمل دیتے ہوئے اِس مسئلے پر اپنی رائے کا اظہار خیال کیا۔

نازیہ نامی صارف نے لکھا کہ ’یاسر حسین کو کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے یا پھر اپنی رائے کو اظہار کرنے کے بعد ہر طرح کے نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے
صارف نے لکھا کہ ’یاسر نے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی منفی تصویر پیش کی ہے لیکن ہم پھر بھی تُرک فنکاروں کا پاکستان میں دل سے استقبال کریں گے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یاسر حسین نے ترک اداکارہ اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

یاسر حسین نے فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام اسٹوری میں مداحوں سے مشورہ مانگتے ہوئے اپنی رائے دی تھی اور کہا تھا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبیسڈر پاکستانی ہونی چاہئے، نہ بھارتی اور نہ ہی تُرکش؟ انہوں نے اپنے پیغام میں پاکستان زندہ آباد بھی لکھا تھا
اداکار کی اس اسٹوری پر ساتھی فنکاروں کی جانب سے سراہے جانے پر اداکار نے اپنے ایک اور پیغام میں پاکستانی شوبز انڈسٹری کی اداکاراؤں کا نام لیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’کیا ماہرہ، صبا، سونیا، منال، ایمن، زارا، ہانیہ، ثنا، یمنیٰ، ارمینہ، سارہ، حرا میں سے کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی ایمبیسڈر بن سکے؟

انہوں نے لکھا تھا کہ پاکستانی فنکاروں کی حمایت کریں، ساتھ ہی یاسر نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہوں نے اہلیہ اقراء عزیز کا نام اس لیے نہیں لیا کہ وہ پہلے ہی ایک موبائل کمپنی کی برانڈ ایمبیسڈر ہیں۔

یاسر حسین کے اِس منفی پیغام کے بعد سے سوشل میڈیا پر اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے