چابہار منصوبے سے بھارت کا اخراج!

ایران کا فیصلہ، کہ وہ چابہار بندرگاہ سے افغانستان کی سرحد کے قریب واقع شہر زاہدان تک ریلوے لائن بھارت کی مدد کے بغیر تعمیر کرے گا، نئی دہلی کیلئے بڑے دھچکے سے کم نہیں جبکہ اس وقت اور پس منظر کی اہمیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ بعض مبصرین چین کے ساتھ 25برس کے اسٹرٹیجک پارٹنر شپ معاہدے کیلئے ایران کی تیاریوں کو مذکورہ فیصلے کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہوئے اسٹرٹیجک گیم میں تبدیلی کے اشارے دے رہے ہیں۔ بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان تجارت کا حجم ایسا ہے کہ دونوں دارالحکومتوں کا مفاد اس تجارت کے جاری رہنے میں محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لداخ میں حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بیجنگ نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے جہاں بھارت کو جارحانہ اقدامات کی کم از کم سز ا دینا ضروری سمجھا وہاں معاملات کو سنگین تر صورت اختیار کرنے سے تاحال روکے رکھا ہے۔ نئی دہلی کے حکمراں توسیع پسندی اور ہمسایوں کے معاملات میں دخل اندازی سمیت علاقے میں تھانیداری کی خواہش سے مغلوب ہوکر سات عشروں سے جس خبط کا مظاہرہ کرتے چلے آرہے ہیں اس کے باعث نیپال اور بھوٹان بھی اب انہیں آئینہ دکھاتے محسوس ہورہے ہیں۔ یاد رہے کہ نئی دہلی اور تہران کے درمیان ریلوے کا مذکورہ معاہدہ مئی 2016میں اس وقت طے پایا تھا جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایرانی صدر حسن روحانی اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ چابہار بندرگاہ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کے لئے ایرانی دارالحکومت گئے تھے۔ بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ اور تجارتی راہداری کے حصے کے طور پر ریلوے لائن کی تعمیر کے لئے ایرانی حکام کی یاددہانیوں کے باوجود بھارت نے امریکہ کی ناراضی کے خوف سے کام شروع نہیں کیا، معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امریکہ نے مذکورہ ریلوے لائن کو پابندی سے مستثنیٰ رکھا تھا۔ چار برس انتظار کے بعد ایران نے پچھلے ہفتے چابہار زاہدان ریلوے لائن بچھانے کے کام کا افتتاح کرتے ہوئے 40کروڑ ڈالر کی رقم سے پورا منصوبہ مارچ 2022تک مکمل کرنے کا عزم کیا ہے تو بھارتی اور برطانوی ذرائع ابلاغ اس امکان کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ چابہار بندرگاہ چین کو لیز پر دی جاسکتی ہے۔ اچھا ہوتا کہ نئی دہلی کے حکمراں بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر اور پاکستان میں بھارت کے خفیہ جاسوسی و دہشت گردی نیٹ ورک کے انچارج کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ہوش میں آتے اور افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانوں کو بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کراچی سمیت مختلف مقامات پر دہشت گردی کے اڈے بنانے کے بجائے حقائق تسلیم کرتے جو یہ ہیں کہ نام نہاد سرجیکل آپریشن کے نام پر کی گئی کارروائیوں میں بھارتی ہزیمت، مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت، بھارتی مسلمانوں سے روا رکھے گئے سلوک سمیت بہت سے معاملوں میں نئی دہلی کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔ چین کے زیرانتظام پاکستان کی گوادر بندرگاہ اور ایران کی چابہار بندرگاہ ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ معاون بندرگاہوں کے طور پر ابھر رہی ہیں اور افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جارہا ہے جبکہ ایران اور پاکستان ایسے برادر ملک اور ہمسائے ہیں جو ہر مشکل میں ایک دوسرے کے کام آتے اور تعاون کرتے رہے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے بڑھتے ہوئے امکانات کیساتھ پاکستان کی علاقائی و عالمی اہمیت بڑھ رہی ہے جبکہ مسلح افواج کی تیاری، مستعدی اور برتری کا دنیا اعتراف کرتی ہے۔ یہ وہ حقیقتیں ہیں جن کا بھارتی حکمرانوں کو جتنا جلد احساس ہوگا اتنا ہی دونوں ملکوں سمیت پورے خطے کے عوام کی خوشحالی کی راہیں کھولے گا اور عالمی امن کیلئے مستحکم بنیاد فراہم کرے گا۔

Courtesy jang news