صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسو سی ایشن آف پاکستان کا بڑا اعلان

صارفین 16 جولائی سے 20 جولائی تک مہنگے دودھ کا مکمل بائیکاٹ کریں – بحیثیت صارف اپنے حق کا استعمال کریں – کمشنر کراچی مہنگے دوھ فروخت کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کررہے ہیں – کوکب اقبال چیئرمین کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان
کراچی ( ) صارفین کی نمائندہ تنظیم کنز یو مرایسو سی ایشن آف پاکستان نے 16 جولائی سے 20 جولائی تک مہنگے دودھ کی خریداری کا مکمل بائیکاٹ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بات کنز یو مرایسو سی ایشن آف پاکستان کے چیئر مین کوکب اقبال kokab iqbal chairman consumer associationنے کیپ کے دفتر میں میڈیا نمائندوں کو بائیکاٹ مہم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ڈیری فارمر ایسو سی ایشن کے صدر شاکر گجر نے بلاجواز دودھ کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کا مزید اضافہ کردیا۔جبکہ پورے کراچی میں پہلے ہی دودھ 110روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے کمشنر کراچی کے نوٹی فیکیشن کے مطابق دودھ کا سرکاری نرخ 94 روپے فی لیٹر مقرر ہے کوکب اقبال نے کہا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا کھلا دودھ من مانی قیمتوں پر فروخت کر نا جائز ہے اور کیا کھلا دودھ صارفین کو خالص فروخت ہو رہا ہے انہو ں نے کہا کہ فوڈ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے کسی بھی ڈسٹرکٹ میں خالص دودھ فروخت نہیں ہو رہا جسکا اندازہ خود اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دودھ میں جھاگ صاف نظر آتا ہے جیسا آپ خود بھینس کے باڑے میں موجود ہوں دیگر کمیکل اور مضر صحت اجزاء شامل کئے جاتے ہیں پانی کا تناسب پہلے 10 سے15 فیصد ہو تا تھا وہ بھی اب بڑھ کر 20سے25 فیصد ہو گیا ہے اسکا ثبوت پنجاب فوڈ اتھار ٹی پنجاب کے مختلف اضلاع میں چیکنگ کے دوران غیر معیاری دودھ کو ضائع کرتی رہتی ہیں – جبکہ ابھی تک کی اطلاع کے مطابق ایسی کوئی کارروائی سندھ فوڈ اتھارٹی نے دودھ فروشوں کے خلاف نہیں کی اور ان کے دودھ کے نمونے حاصل نہیں کئے اور نہ ہی غیر معیاری دودھ کی فروخت کو روکنے کی کوشش کی- کوکب اقبال نے کہا کہ اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی امجد لغاری کو کنزیومر ایسوسی ایشن کی جانب سے خط لکھا جارہا ہے وہ کراچی میں بکنے والے کھلے دودھ کی جانچ کریں تاکہ صارفین کی صحت محفوظ رہ سکے- کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے واضح کیا کہ صارفین کی قوت خرید اب مزید مہنگائی کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی اس لئے ضروری ہے کہ قیمتوں کو اعتدال پر ہونا چاہئے- انہوں نے کہا کہ دودھ انسانی زندگی کا لازمی جز ہے- بچوں بڑوں اور خصوصی طور پر بزرگوں کے لئے یہ ضروری ہے مگر اب نہ صرف دودھ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کیا جارہا ہے جو ایک یا دو روپے نہیں بلکہ 10 روپے فی لیٹر ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو اضافی 26 روپے ادا کرنے ہونگے- انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کمشنر کراچی افتخار شلوانی صاحب سے ٹیلیفون پر دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے بات ہوئی ہے- انہوں نے اپنے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ مہنگا دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں جس کے نتیجے میں مختلف ڈسٹرکٹ میں کارروائی کے دوران کئی دوکانوں کو سیل کردیا گیا ہے بلکہ بھاری جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں مگر ابھی بھی دودھ فروش منافع خور مہنگے دودھ کی فروخت کررہے ہیں – اس سلسلے کو روکنے کے لئے کنزیومر ایسوسی ایشن نے مہنگے دودھ کی فروخت کے خلاف صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ بحیثیت صارفین اپنا حق ادا کریں – ہم سب مل کرہی منافع خوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو رونے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں – ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ صارفین بائیکاٹ مہم میں بھرپور ساتھ دیں گے کیونکہ اب وہ مہنگے دودھ کی خریداری سے تنگ آچکے ہیں – انہوں نے بتایا کہ پوری دنیا میں جہاں جہاں منافع خوری شروع ہوتی ہے وہاں صارفین کی تنظیمیں اپیل کرتی ہیں کہ فلاں چیز کی خریداری نہ کی جاتی- اس طرح صارفین بھرپور ساتھ دیتے ہیں تو کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ کسی بھی اشیاء کی قیمتوں میں بلاجواز من مانا اضافہ کردیں – اب کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومتی اداروں پر انحصار کرنے کے بجائے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین سے رابطہ کرکے مہنگی اشیاء کی فروخت کے لئے بائیکاٹ مہم شروع کی جائے- انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی رمضان المبارک میں پھل کی بائیکاٹ مہم کامیاب رہی- امید ہے کہ صارفین خود اپنے حق کے لئے مہنگے دودھ کی خریداری کا مکمل بائیکاٹ کریں گے-