مقررہ جگہوں پر سخت ایس او پی ایس کے تحت مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے عید الاضحیٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ داخلہ کے ذریعہ سخت ایس او پیز کے تحت منظور شدہ / نامزد مقامات پر مویشی منڈیاں قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ وزیر اعلی ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذر فضل پیچوہو ، وزیر محنت سعید غنی ، وزیر بلدیات سید ناصر شاہ ، چیف سکریٹری سید ممتاز شاہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، اے سی ایس ہوم عثمان چاچڑ ، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی ، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن ، سیکرٹری صحت کاظم جتوئی ، ڈاکٹر باری ، ڈاکٹر فیصل اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت دے دی گئی ہے لہذا منتظمین قربانی کے جانوروں کیلئے مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت کیلئے سندھ حکومت سے رجوع کر رہے ہیں۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ COVID-19 وبائی مرض کی وجہ سے مویشی منڈی لگانے کی اجازت دینے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا چونکہ مویشی منڈیوں کے ساتھ ایک مذہبی پہلو منسلک ہے لہذا وہ محکمہ داخلہ کے ذریعہ سخت ایس او پیز کے ساتھ ان کے قیام کی اجازت دے رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو منڈیوں میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ مویشی تاجران ، منتظمین اور خریداروں کے کوویڈ 19 ٹیسٹ کروانے کیلئے اپنی موبائل ٹیمیں بھیجیں۔ مراد علی شاہ نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ تمام ڈویژنل کمشنرز کو اپنے علاقوں میں مویشی منڈیوں کے قیام کیلئے بالخصوص شہروں / ٹاؤن سے باہر مخصوص علاقوں کا تعین کرکے اس کے بارے میں مطلع کریں تاکہ COVID-19 کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز کو بھی ہدایت جاری کی کہ وہ سڑکوں پر تاجروں کو اپنے مویشی فروخت کرنے کی اجازت نہ دیں۔ انہوں نے کہا یہ خطرناک ہوگا اور لوگوں کے ہجوم کو اکھٹا کرنے کی طرف راغب کرے گا لہذا اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کو بھی جانوروں کی قربانی کیلئے یونین کونسل کی سطح پر علاقوں کو نامزد کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کوویڈ ۔19 جیسی سنگین صورتحال میں ہم ہر گلی میں جانوروں کے ذبح کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں لیکن اس مقصد کیلئے ایک مناسب طریقہ کار اور نامزد علاقوں کا ہونا ضروری ہے۔
کورونا وائرس:
وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ کورونا وائرس کا اثر زوال کی جانب گامزن ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ وبائی مرض ختم ہوچکا ہے۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ہاٹ سپاٹ والے علاقوں میں جانچ کا عمل تیز کیا جائے۔ ہر گھر سے کم از کم ایک فرد کا ان علاقوں میں ٹیسٹ کرنا ضروری ہے جہاں منتخب لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ دیہی علاقوں میں ٹیسٹ بڑھا دیئے گئے ہیں اسی لئے تشخیصی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ مرا دعلی شاہ نے چیف سکریٹری کے ذریعہ پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ صوبے کے لوگوں کو ایس ایم ایس سروس کے ذریعہ آگاہی دینے کا آغاز کریں ، اگر عوام میں سے کسی کو بھی کورونا وائرس کی کوئی علامت محسوس ہوتی ہے تو وہ خود انکی جانچ کرائیں۔
کورونا وائرس صورتحال کی رپورٹ:
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی روزانہ صورتحال کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پہلی بار 4872 مریض صحتیاب ہوئے جس کے بعد اب تک صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 70292 ہوچکی ہے جو کل مریضوں کا 65 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید 25 مریضوں کی اموات کے بعد تعداد 1888 یعنی 1.7 فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 11060 ٹیسٹ کئے گئے جس میں سے کورونا وائرس کے 1140 کیسز کا پتہ چلا جوکہ 10 فیصد شرح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک پورے سندھ میں 604728 ٹیسٹ کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں 108913 کیسز کی تشخیص ہوئی ، انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر تشخیصی شرح 18 فیصد پر آ گئی ہے۔ بیان کے مطابق اس وقت 36733 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 35530 گھروں میں ، 87 قرنطینہ مراکز میں اور 1116 مختلف اسپتالوں میں ہیں جبکہ763 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے ان میں سے 106 کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کردیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ 1140 نئے کیسوں میں سے 522 کراچی میں پائے گئے ان میں ضلع شرقی 173 ، ضلع جنوبی 134، ضلو کورنگی 88 ، ضلع وسطی 55 ، ضلع ملیر 39 اور ضلع غربی33 شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد میں 56 ، ٹنڈو الہ یار 36 ، خیرپور 35 ، ٹھٹھہ 29 ، نوشہروفیروز 27 ، لاڑکانہ اور جامشورو 25-25، شہید بینظیرآباد 23 ، سانگھڑ اور سکھر 22-22، شکار پور 20 ، بدین 18 ، جیکب آباد 15 ، ٹنڈو محمد خان 13 ، دادو اور عمرکوٹ 12-12 ، سجاول اور میرپورخاص 11-11، مٹیاری 7، قمبر اور گھوٹکی 4-4اور کشمور میں 2 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایس او پی پر عمل کریں ، باہر جاتے وقت ماسک پہنیں اور ہاتھ دھوتے رہیں اور روز مرہ کی زندگی میں سماجی فاصلے کو اپناتے رہیں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ