دو ہزار سترہ میں ایس سی او (پاکستان آرمی کے زیر انتظام ٹیلی کام ادارہ) نے پی ٹی اے کو ملک بھر میں موبائل سروسز کے لائسینس کے لئے درخواست دی

دو ہزار سترہ میں ایس سی او (پاکستان آرمی کے زیر انتظام ٹیلی کام ادارہ) نے پی ٹی اے کو ملک بھر میں موبائل سروسز کے لائسینس کے لئے درخواست دی اور سالانہ لائسینس فیس سے استثنا بھی مانگا۔ موبائل کمپنیز نے پی ٹی اے کو خبردار کیا کہ اگر کسی سرکاری ادارے کو ایسا لائسینس دیا گیا تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی اور موبائل کمپنیز متعلقہ عالمی ثالثی اداروں میں دعوی کریں گی۔بھاری بھرکم جرمانوں اور ملک سے غیر ملکی انویسٹمنٹ کے انخلا سے ڈرتے ہوئے پی ٹی اے نے مختلف جائز قانونی اعتراضات کی بنا پر ایس سی او کی درخواست پر لائسینس جاری نہیں کیا۔

اس وقت کے چئیرمین پی ٹی اے، ممبر پی ٹی اے اور تین ایم ڈی، دو سال سے ای سی ایل لسٹ پر ہیں اور ان کے خلاف نیب کی انکوائری چل رہی ہے۔ تب کے ڈی جی ایس سی او میجر جنرل عظیم باجوہ آج پی ٹی اے چیئرمین ہیں۔

وسطی ایشیائی ریاستوں، ایران اور روس سے گیس اور تیل کے معاہدوں کی تکمیل کے لئے حکومت پاکستان نے دو ہزار پندرہ-سولہ میں ملک بھر میں پائپ لائنز کا جال بچھانے کا منصوبہ بنایا۔ یہ تقریباً ستر ارب روپے کا منصوبہ تھا۔ مقصد تیز ترین ترسیل اور ٹرکوں ٹرالوں کے ذریعے تیل ترسیل سے جان چھڑانا تھا۔ اس مقصد کے لئے قائم شدہ کمپنی آئی ایس جی ایس، جس کی شئیر ہولڈر حکومت پاکستان ہے، نے اوگرا کو پائپ لائن بچھانے کی درخواست دی۔ ایک درخواست پاک آرمی کی فرنٹئیر آئل کمپنی نے بھی دی۔ وفاقی حکومت نے ای سی سی کی میٹنگ میں اوگرا کو آئی ایس جی ایس کو لائسینس جاری کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم اوگرا کے لائسینس جاری کرنے سے پہلے حکومت ختم ہو گئی اور موجودہ حکومت آتے ہی اوگرا نے وہی لائسینس فرنٹئیر آئل کمپنی کو جاری کر دیا۔

دو ہزار سولہ میں جی ایچ کیو نے وزیر اعظم ہاؤس کو سی پیک پر ایک اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی جس میں آرمی کی اعلی قیادت بھی ہو۔ حکومت نے یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزارت پلاننگ (احسن اقبال جس کے وزیر تھے) کے ہوتے ہوئے ایسی کسی تجویز کی ضرورت نہیں۔ موجودہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی قائم کی اور جنرل ر عاصم باجوہ کو اس کا سربراہ بنایا۔ آج حکومت نے اسی قانون میں مزید ترامیم تجویز کی ہیں جن کی رو سے وزارت پلاننگ کا کردار سی پیک سے ختم ہو جائے گا اور سی پیک اتھارٹی ہی اس منصوبے کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گی۔ احسن اقبال نیب انکوائری بھگت رہے ہیں۔

پاک قطر ایل این جی معاہدے پر عملدرآمد کے لئے پاکستان کے پاس ایل این جی پلانٹ نہیں تھا۔ اگر ایک سال میں یہ پلانٹ نہ بنایا جاتا تو پاکستان کو بھاری نقصان ہوتا۔ شاہد خاقان عباسی نے وزیر توانائی کی حیثیت سے معاملے میں خصوصی دلچسپی لی۔ ٹینڈر ایشو کیے۔ اینگرو کے کنسورشیم کو ٹھیکہ دیا اور فوجی فرٹیلائزر اور ایف ڈبلیو او کا ٹینڈر مسترد کر دیا۔ اینگرو نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ پلانٹ مکمل کر دیا۔
اینگرو کے سی ای او، شاہد خاقان عباسی اور اوگرا کے متعلقہ افسران کے خلاف نیب ریفرینسز فائل ہو چکے ہیں اور یہ تمام لوگ کئی مہینے اسی مقدمے میں جیل رہ کر آ چکے ہیں۔

یہ نئے پاکستان کی چند جھلکیاں ہیں۔ بے وقوف ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ عمران خان کی حیثیت جنرل مشرف کے زیر سایہ وزیر اعظم شوکت عزیز سے ذیادہ نہیں۔
بشکریہ:احمد علی کاظمی

شکیل احمد خان
باکو۔ آذربائجان