سوشانت قتل کیس: کیا سلمان خان سے تفتیش نہیں کی جائے گی؟

بالی ووڈ کے آنجہانی اداکار سوشان سنگھ راجپوت کی افسوسناک موت کو ایک ماہ ہوگیا ہے، تاہم اس دوران ممبئی پولیس نے اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کی ہے کہ تحقیقات کے معاملے میں کوئی بھی پہلو نامکمل نہ رہ جائے۔

پولیس نے اب تک 35 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں جن میں سوشان سنگھ راجپوت کے خاندان کے افراد، دوست، ان کے ساتھ کام کرنے والے اداکار اور فلم انڈسٹری میں موجود اہم اور بااثر شخصیات بھی شامل ہیں۔

تاہم اگر اس تازہ ترین رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو ایک شخصیت ایسی بھی ہے جسے پولیس نے اب تک تفتیش کے لیے نہیں بلایا، اور وہ ہیں بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان
گزشتہ ہفتے ہی پولیس نے ریشما شیٹھی کو تفتیش کے لیے بلایا تھا، جو سلمان خان کی سابق منیجر بھی رہ چکی ہیں، پولیس نے ان سے پانچ گھنٹے تک سوالات کیے، جس کے بعد یہ افواہیں بھی تھیں کہ اب پولیس سلمان خان کو بھی اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کریگی۔

تاہم ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس دعوے کی ممبئی پولیس کے ڈی سی پی نے تردید کردی۔ سلمان خان کا نام سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کیس میں اس وقت لایا گیا جب سوشل میڈیا پر سازشی تھیوری کے حوالے سے افواہیں گردش کرنے لگیں۔

ایک افواہ جسے بعد ازاں مسترد کردیا گیا، اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سلمان خان اور سورج پنچولی، سوشانت سنگھ راجپوت اور انکی منیجر ڈیشا سالیان کی موت میں ملوث ہیں
اسکے علاوہ ایک فوجداری مقدمہ بہار کے ایک وکیل نے سلمان خان اور بالی ووڈ کے دیگر سات اہم افراد کے خلاف داخل کیا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ افراد اس خودکشی کے ارتکاب یا اعانت میں ملوث ہیں۔

تاہم کیس کو دائرہ اختیار میں نہ آنے کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت نے 14جون کو ممبئی میں واقع اپنے فلیٹ میں خودکشی کرلی تھی