کشمیری بھائیوں سے بھرپور اظہارِ یکجہتی

پوری پاکستانی قوم نے گزشتہ روز یومِ شہدائے کشمیر منا کر غاصب بھارتی حکومت کے تمام تر وحشیانہ مظالم کے باوجود سات دہائیوں سے حق خود اختیاری کی خاطر جدوجہد کرنے والے کشمیری بھائیوں سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔ بائیس کروڑ پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کے لیے ثابت قدمی سے کھڑا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی بھارت سے آزادی تک کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں 89ویں یوم شہداء کے موقع پر حکومت اور اپوزیشن سمیت پاکستان کی پوری سیاسی قیادت اپنے تمام اختلافات کے باوجود کشمیریوں کی حمایت میں یک زبان نظر آئی۔ صدر مملکت عارف علوی، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیراعظم فاروق حیدر کے ساتھ ساتھ میاں شہباز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور سراج الحق نے بھی بین الاقوامی برادری پر زوردیا کہ وہ بھارتی مظالم کا تماشا دیکھنے کے بجائے بھارت کو عالمی قانون کی خلاف ورزیوں سے روکے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرانے میں اپنا کردار ادا کرے لیکن دوسری جانب پاکستانی وزارتِ خارجہ نے عین یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر ماہِ رواں کی پندرہ تاریخ سے افغان مصنوعات کی بھارت کو برآمد کے لیے واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان بھی کردیا جس سے ذہنوں میں اس سوال کا ابھرنا فطری امر ہے کہ کشمیر یوں کے حق خود اختیاری اور تحریک آزادی کی بھرپور حمایت کی جو یقین دہانیاں اور دعوے ہماری جانب سے آئے دن کیے جاتے رہتے ہیں، کیا ان کی حیثیت محض نمائشی ہے اور ان کے پیچھے پاکستان سے الحاق کی خاطر سات دہائیوں سے بےمثال جدوجہد کرتے اور لازوال قربانیاں دیتے چلے آنے والے کشمیری مسلمانوں کی تائید میں کسی ایسے عملی اقدام کی کوئی حقیقی نیت اور ارادہ موجود نہیں جو بھارت کو اپنے طرز عمل میں کسی بھی درجے میں تبدیلی لانے پر مجبور کر سکے؟ دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ فیصلہ افغانستان کی درخواست پر کیا گیا ہے، اس اقدام سے ہم نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کی ہے اور اس طرح تمام پاک افغان سرحدوں پر کورونا کی وبا سے پہلے کی صورتحال مطلوبہ حفاظتی تدابیر کی پابندی کے اہتمام کے ساتھ بحال کردی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کو افغان برآمدات کے لیے واہگہ بارڈر کے کھلے رکھے جانے کا یہ معاہدہ دس سال پرانا ہے اور اس میں پاکستان کے راستے افغانستان کو بھارتی سامان بھیجے جانے کی اجازت شامل نہیں۔ اس کے باوجود بعض مبصرین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ سوال بہرحال وزن رکھتا ہے کہ عین یوم شہدائے کشمیر پر پاکستان کے زمینی راستے سے بھارت کو افغان مصنوعات کی برآمد کی اجازت بحال کرکے بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کی خاطر بدترین بھارتی مظالم برداشت کرنے والے کشمیری مسلمانوں کو ہماری جانب سے کیا پیغام دیا گیا ہے ؟ واہگہ بارڈر کا کھلنا بہرکیف افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت کے مفاد میں بھی ہے جبکہ دس سال پرانے اس معاہدے کے وقت کشمیر میں جو حالات تھے، مودی حکومت کے ناجائز اور سفاکانہ اقدامات کی وجہ سے وہ یکسر بدل چکے ہیں،ایسی صورت میں کیا ہماری جانب سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ ہم واہگہ بارڈر کھولنے کے فیصلے کو کم ازکم مقبوضہ کشمیر میں سال بھر سے جاری جبری لاک ڈاؤن کے خاتمے سے مشروط کرکے مظلوم کشمیری بھائیوں کے لیے زندگی کی بنیادی سہولتوں کی بحالی کا اہتمام کرتے۔ ان سوالات کاکوئی اطمینان بخش جواب موجود ہے تو دفتر خارجہ کو اسے بلاتاخیر قوم کے سامنے لانا چاہئے

Courtesy jang news