چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وفاق اور دیگردوسرے صوبوں کو قومی ادارہ برائے امراض قلب کی طرز پر اسپتال قائم کرنے کی پیش کش

لاڑکانہ ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاق اور دیگردوسرے صوبوں کو قومی ادارہ برائے امراض قلب کی طرز پر اسپتال قائم کرنے کی پیش کش کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وفاق اور دوسرے صوبوں کو خط لکھیں کہ سندھ حکومت انہیں این آئی سی وی ڈی جیسے بہترین اسپتال قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، کراچی سے لے کر سکھر تک کے عوام ہی نہیں بلکہ چولستان سے لے کر گوجر خان، فاٹا سے لے کر پشاور اور ملک کے دیگر شہروں کے لوگوں کو بھی این آئی سی وی ڈی جیسی سہولیات ملنی چاہئیں، پیپلز پارٹی نے گزشتہ دس سال سے کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلائی، دعا کرتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسا موقع ملے اور میں حکومت کو بتاؤں کہ پیپلز پارٹی احتجاج کیسے کرتی ہے، راولپنڈی ہمیشہ سے بھٹو خاندان کا کربلا رہا ہے، احتساب کے نام پر سیاسی انتقام اور

[supsystic-gallery id=27]

پولیٹیکل انجینئرنگ کی جا رہی ہے، اویس مظفر ٹپی کی گرفتاری کی جھوٹی خبر پیٹرول بم سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاڑکانہ میں این آئی سی وی ڈی کمپلیکس کے افتتاح کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا قبل ازیں انہوں نے 60بستروں پر مشتمل این آئی سی وی ڈی لاڑکانہ کمپلیکس کا افتتاح کیا، اسپتال کو بتدریج 100بستروں تک بڑھایا جائے گا، اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر ندیم قمر، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضیٰ سمیت پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت موجود تھی،بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی سندھ حکومت کی گڈ گورننس کی ایک واضح نشانی ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی نے بسوں کے نمائشی پروجیکٹس اور درختوں کے نام نہاد منصوبوں کے بہ جائے صحت کی عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں آج قومی ادارہ برائے امراض جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا دل کی بیماریوں کا بہترین اسپتال ہے، انہوں نے کہا کہ سنا ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے گوادر میں عرب امارات کی مالی مدد سے کسی اسپتال کا افتتاح کیا ہے لیکن وہ وزیر اعظم کو بتانا چاہتے کہ ملک چندوں اور عطیات سے نہیں چلتے، این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ندیم قمر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح صرف ایک شہر کو فوکس نہیں کیا بلکہ کراچی سے لے کر سکھر تک دل کے اسپتالوں کا جال بچھا دیا ہے، جلد ہی بچوں اور گردے کے امراض کے اسپتال پورے سندھ میں قائم کیے جائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی میں ناصرف سندھ بلکہ پنجاب، خبرپختونخوا اور بلوچستان اور افغانستان سے دل کے معیاری اورمفت علاج کے لیے مریض سندھ آرہے ہیں،18ویں ترمیم سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے 18ویں ترمیم کے بعد سب سے بہترین پرفام کیا اور ایک ایسے وقت میں کارکردگی دکھائی جبکہ ون یونٹ کے حامی یہ کہہ رہے تھے کہ صوبوں میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اچھی کارکردگی دکھا سکیں ایسے حالات میں این آئی سی وی ڈی جیسے ادارے کا قیام پورے پاکستان کی کامیابی ہے، ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی اگرچے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام نہیں کر رہا لیکن یہ تصور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا دیا ہوا ہے کہ جس کے تحت سندھ میں کئی ادارے نہایت کامیابی سے عوام کی خدمت کر رہے ہیں ،ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی ہمیشہ سے بھٹو خاندان کا کربلا رہا ہے، امریکہ سمیت پاکستان بھر میں ملزمان کی تفتیش اور مقدمات اس شہر اور صوبے میں ہوتے ہیں جہاں مبینہ طور پر جرم ہوتا ہے۔ ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے لیکن گرفتاری اسی طریقے سے ہونی چاہیے جیسے نواز شریف کی ہوئی کہ جب ان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں گرفتار کیا گیا ،ہم انصاف اور برابری کے خواہاں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ دس سال میں کوئی خاطرخواہ احتجاج نہیں کیا لیکن ان کی خواہش ہے کہ ان کو موقع ملے اور وہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے بھرپور احتجاج کر کے دکھا سکیں، اویس مظفر ٹپی کی گرفتاری کو جھوٹی خبر قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ عوام کی توجہ پیٹرول بم سے ہٹانے کی بھونڈی کوشش ہے ،عمران خان نے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک لوگ مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں، وفاق اپنا ٹیکس جمع کرنے کے ہدف میں ناکام ہے جبکہ سندھ نے اپنے ہدف سے 9فیصد زائد ٹیکس جمع کر لیا ہے ،انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے والوں کو شرم آنی چاہیے جنہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی تجویزدی، انہوں نے بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر لگاکر الیکشن لڑا، پی ٹی آئی آج تک ایک بل تو پاس کر نہیں سکی، بے نظیر پروگرام کا نام کیا خاک تبدیل کرے گی ،ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف اس وقت اپنے علاج پر توجہ دے رہے ہیں لیکن وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کو مل بیٹھ کر عوام کی بہتری کے لئے لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں