عزیر بلوچ کو جرائم کرتے کبھی نہیں‌ دیکھا نہ ہی اُس کے منہ سے قتل کا لفظ سُنا۔

پیپلز پارٹی رہنما شرجیل میمن نے عزیر بلوچ سے ملاقات کا اعتراف کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی عزیربلوچ سے ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کی جانب سے اس بات کی وضاحت بھی کر دی گئی کہ عزیر بلوچ کو جرائم کرتے کبھی نہیں‌ دیکھا نہ ہی اُس کے منہ سے قتل کا لفظ سُنا

زید بات کرتے ہوئے رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کے ذریعے خواتین کا کوئی مسئلہ حل نہیں کرایا، ایک دوست کا ٹرک چوری ہوا تھا جس کے لیے ظفر بلوچ سے رابطہ کیا، اسی طرح ایک اور عزیز کی گاڑی چوری ہوئی تب بھی ظفر بلوچ سے ہی رابطہ کیا تھا۔ ملاقات کا اعتراف کرتے ہوئے ان شرجیل میمن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لیاری گینگ وار اور کچھی رابطہ کمیٹی کے درمیان ہونے والے تنازع کو حل کرانے کے دوران کے آر سی کے دفتر میں ہی ایک بار عزیربلوچ سے ملاقات ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ جب سے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ منظرعام پر آئی ہے، تب سے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر علی زیدی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ رپورٹ غلط ہے۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے دعویٰ کیا تھا کہ عزیر بلوچ کی جو جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ جعلی ہے، ان کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے پاس 2017 میں جے آئی ٹی رپورٹ آگئی تھی۔ تاہم اس حوالے سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی جانب سے وضاحتیں بھی دی جا رہی ہیں اور یہی کہا جا رہا ہے کہ ان کا عزیر بلوچ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، تاہم انہیں اس بات پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے