چینی بحران کمیشن کی رپورٹ چند خامیاں

(تحریر:محمد ہارون حسن فتہ)
——
موجودہ حکومت نے چینی بحران کے حوالے سے ایف آئی اے کی رپورٹ آنے کے بعد مذکورہ رپورٹ پر کمیشن بنانا اور اسکی رپورٹ بھی شائع کردی جو کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا، لیکن کمیشن نے مذکورہ رپورٹ میں بہت ساز بنیادی پہلو ﺅں کو نظر انداز کردیا ہے۔
کمیشن کی ترجیحات میں مندر جہ ذیل باتوں پر کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی بلکہ کمیشن نے صرف انہی پہلوﺅں پر بحث اور بات کی جوکہ رپورٹ کو دوسری جانب دھکےلنے میں معاون ثابت ہو۔
ا۔ کیا چینی کی پیداوار اور فاضل اسٹاک ملکی کھپت کے حوالے سے 15سے20لاکھ ٹن زیادہ تھی، جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ ملک میں فاضل چینی کا اسٹاک ملکی کھپت کے لحاظ سے زیادہ نہ ہو پھر اسے بر آمد کی اجازت دینا سراسر غلط تھا دوسری بات کہ ملکی کھپت کتنی ہے۔ اسکا صحیح صحیح اندازہ ہونا ضروری تھا۔ واضح چینی کے حوالے سے 2000ءسے کالم لکھ رہا ہے جو کہ ملک کے تمام بڑے اخباروں میں شائع ہوتا رہا ہے جیسا کہ جنگ ، نوائے وقت ، ایکسپریس وغیرہ سال1999-2000میں ملک میں چینی کی کھپت سالانہ 36لاکھ ٹن تھی جبکہ آج تقریباََ ایک اندازے کے مطابق چینی کی سالانہ کھپت 72سے75لاکھ ٹن سالانہ ہے چونکہ ان 20سالوں میں آبادی بھی ایک اندازے کے مطابق دوگنی ہوچکی ہے اور چینی کا استعمال دوسری کھانے پینے کی اشیاءمیں بھی زیادہ ہوچکا ہے۔
کیا کمیشن نے چینی کی ملکی کھپت کے حوالے سے کوئی تحقیق کی جسکا جواب نہیں میں ہے ۔ کیا کمیشن نے فاضل اسٹاک کے حوالے سے تحقیق جسکا جواب بھی نہیں میں ہے جبکہ مذکورہ وزیر نے اپنے کمیشن میں دئے گئے بیان میں ملکی کھپت کے حوالے سے جو کہا ہے وہ ملکی کھپت 54/56لاکھ ٹن بتاتے ہیں جبکہ پیداوار اور 75لاکھ ٹن بتاتے ہیں اور اسطرح فاضل چینی کا اسٹاک 18سے20لاکھ بتاتے ہیں جبکہ حقائق کچھ اور ہیں جوکہ اوپر بیان کئے گئے ہیں۔
اس تسلسل میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چینی کے حوالے سے کسی حکومتی ادارے نے اسٹاک کو Physicallyاور Dataکی صورت میں چینی کے کارخانہ داروں سے حاصل کیا جسکا جواب بھی نفی میں ہے۔
یعنی دوسری غلطی کر کے ایک طرف ملکی کھپت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا اور دوسری طرف اسٹاک پوزیشن کو بھی چیک نہیں کیا گیا اور زویر اعظم اور انکی کابینہ نے چینی بر آمد کی اجازت دے دی۔
وزیر موصوف نے تمام تر ذمہ داری اپنے اوپر لیکر یہ بےان بھی دیا کہ چینی کے مل مالکان انھیں بلیک میل کر رہے تھے اگر چینی برآمد کی اجازت نہ دی گئی پھر ہم کرشنگ سیزن 30نومبر کو شروع نہیں کریں گے چونکہ فاضل چینی کا اسٹاک ملوں میں موجود ہے۔
وزیر موصوف کے مذکورہ بےان کے حوالے جوا باََ عرض ہے کہ اول یہ ہے کہ چینی کا کرشنگ 30نومبرکے بعد ہی شروع ہوتا ہے اور دسمبر کے درمیان میں زیادہ شروع ہوتا ہے30نومبر کو شروع ہونے کاتعلق اتنا زیادہ نہیں ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ وزیر صاحب کو ماضی کی طرف دیکھنا چاہئے تھا کہ مذکورہ پوزیشن اور حالات میں ماضی کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ ماضی کے حوالے سے یہ مثال آپکو ملے گی کہ ماضی میں اسطرح فاضل اسٹاک کو TCPکے ذریعہ خریدا جارہا ہے اور اسکی ادائیگی کردی جاتی تھی چونکہ چینی کے مل مالکان کے فاضل اسٹاک میں پھنسی ہوگی رقم کو کیش کردیا جاتا تھا تاکہ مل مالکان چینی کا کرشنگ سیزن جلد شروع کرسکیں اسطرح مسئلہ کا حل کیا جاتا تھا فاضل اسٹاک کو چینی کے

کارخانوں سے اٹھایا ہی نہیں جاتا تھا۔ جہاں تک چینی کی برآمد کا تعلق ہے اسی حوالے سے بھی ماضی سے استفادہ کرنے کی ضرورت تھی چونکہ ہمیشہ بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی کے دام ملک میں چینی کی قیمت سے کافی کم ہوتے ہیں اسلئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کے صحیح دام مل جائیں اسطرح چینی کے مل مالکان سبسڈی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔
ماضی کے حوالے سے تیسری بات یہ ہے کہ جب بھی چینی کی برآمد کی اجازت ماضی میں دی گئی اسکے بعد ملک میں چینی کی Shortageہی نظر آئی ہے اور ملک میں چینی کے دام بڑھنے لگ گئے جیسا کے موجودہ صورتحال میں نظر آرہے ہیں۔ اسلئے یہ تجربہ ہمیشہ کا ہی ہے کہ جب بھی چینی کی بر آمد کی اجازت دی گئی ملکی منڈی میں چینی کے دام بڑھنے لگے جاتے ہیں ، یاد رہے کہ صرف بر آمد کی اجازت دینے پر ہی دوسرے دن سے دام بڑھنے شروع ہوجاتے ہیں کیا وزیر صاحب نے یہ تحقیق کی۔
20سالہ تاریخ اٹھاکے دیکھ لیں چینی کے حوالے سے یہی باتیں آپکو ملیں گی جو کہ تحریر کردی گئی ہیں ۔اور چینی کے حوالے سے صورتحال کو ٹھیک ہونے میں تین سال کا عرصہ لگے گا پھر چینی کی پیداوار اور صحیح ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ 5لاکھ ٹن سے10لاکھ ٹن کا غذوں میں بڑھ جائے پھر وہی بر آمد کی اجازت اور یہی چکر چینی کے دام بڑھنے لگ جائیں گے۔
آج بھی چینی دگنے دام پر فروخت ہورہی ہے اگر ملک میں چینی کا اسٹاک ملکی کھپت کے حوالے سے پورا تھا پھر آج چینی برآمد ہونے کے ایک سال بعد بھی چینی دگنے دام پر کیوں فروخت ہورہی ہے اسکا جواب بھی کمیشن کی رپورٹ میں نہیں ہے۔
44ارب روپے کی 10لاکھ ٹن چینی کی قیمت بنتی ہے کیا اس پر22ارب روپے کی سبسڈی دینی چاہئے تھی یا چینی کا فاضل اسٹاک حکومت کو Tcpکے ذریعہ خرید لینا چاہیئے ۔
کمیشن کے سبسڈی کے حوالے سے ہی بات کی ہے چینی کے مل مالکان سبسڈی کو واپس کرنے کےلئے بھی تیار ہوجائیں گے اگر ان پر دباﺅ بڑھایا جائے گا لیکن چینی بر آمد کے مذکورہ کھیل میں جو عوام سے 222ارب روپے لوٹے گئے ہیں کیا کمیشن نے اسکی واپسی کا ذکر اپنی رپورٹ میں کیا اور اسکا لائحہ عمل کے حوالے سے کوئی بات کی جسکا جواب بھی نفی میں ہے۔
چینی بر آمد کی اجازت اور کمیشن کی رپورٹ صرف ایک طرفہ ہے جو کہ کسی کو نوازنے اور کسی کو بچانے پر ہے۔کمیشن نے اس حوالے سے بھی کوئی بات نہیں کی کہ بر آمد کی اجازت دینی چاہئے تھی یا نہیں۔
چینی کے حوالے سے 22ارب روپے کی سبسڈی کا مسئلہ ہے وزیر اعظم عمران خان نے نجکاری کے حوالے سے PPL اورOYDCLکی حصص فروخت کرنے کی منظوری دی ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق 150ارب سے200ارب کی سبسڈی ہے جو کہ ظاہری نہیں بلکہ چھپا کر دی جارہی ہے۔ کیا اسکے لئے کمیشن بنانے کی تیاری ابھی سے ہوجانی چاہے۔جناب وزیر اعظم صاحب اسکی منظوری منسوخ کریں گے۔
وزیر اعظم صاحب آپکو صحیح صورتحال سے آگاہ نہیں کیا جارہا ہے جیسا کہ چینی کے حوالے سے میں نے پہلے بھی کالم تحریر کیا تھا اسی طرح نجکاری کے حوالے سے بھی آپکو صحیح بات نہیں بتائی جارہی ہے۔
PPLاورOGDCLکے حصص 5فیصدی اور7فیصدی فروخت کرنے کی صورت میں ایک اندازے کے مطابق 50ارب روپے کی وصولی ممکن ہے جبکہ اسمیں نظر نہ آنے والی سبسڈی 150ارب 200ارب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے اور مذکورہ سبسڈی جو دی جائے گی وہ دستاویزی ہے چینی کی طرح نہیں ہے اسلئے گذارش ہے کہ مذکورہ اداروں کو نجکاری کو فوری منسوخ کیا جائے۔

چینی کے حوالے سے FBRکا کردار صفر ہے چونکہ موجودہ سیلز ٹیکس قوانین میں سیلز ٹیکس Self Assismentہے یعنی کہ FBRجسمیں مداخلات نہیں کرسکتا ہے صرفFBRجو قیمت اور مال یعنی چینی کا وزن ریکارڈ کرسکتا ہے ان سے اس حوالے سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا صرف 4OBکا سیکشن لگا کر ریکارڈنگ کرسکتا ہے جبکہ چینی کے حوالے سے دوسرا پہلو یہ ہے کہ گنے سے چینی کی ریکوری پر مل کہ الگ الگ ہے ایک جیسی نہیں ہے اسلئے چینی کی پیداوار کا تعین بھی مل مالکان ہی کرتے ہیں کہ کرشنگ سیزن میں چینی کی پیداوار اور کتنی ہوئی ہے اسمیںFBRکا کیا تعلق بنتا ہے۔ اس حوالے سےFBRکو مورود الزام ٹھرانا مناسب نہیں ہے۔ایف بی آر کے افسروں کے پاس۔ دوسرا اختیار سیکشن سیلز ٹیکس ایکٹ38کے تحت ہے جسکی اجازت چیئرمین FBRکو دینی ہے جس سے اسٹاک اور دوسری معلومات لی جاسکتی ہیں ۔ اسکی اجازت اگرFBRچیئرمین دے دیں پھر مل مالکان کبھی بھی اس مشق کو ہونے نہیں دےنگے اسطرحFBRکے افسروں کے پاس اختےارات نہیں ہے۔
چینی کمیشن نے طلب اوراس کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کوئی ذکر ہی نہیں کیا ہے جبکہ سب سے بڑا مسئلہ طلب اور رسد کا ہے جسکی وجہ سے آج بھی چینی کے دام کم نہیں ہورہے ہیں او ر آئندہ دو سے تےن سالوں تک اسی طرح رہیں گے، جب تک چینی کا Carry Overاسٹاک 10لاکھ ٹن سے زیادہ نہیں ہوجاتا ہے سبسڈی ہونے پر ہما گہ ہے اصل ہونا بر آمد کی اجازت دینا ہے جسکی وجہ سے ملک سے چینی کا اسٹاک کم ہوگیا جو کہ طلب کو پوری نہیں کرسکتا۔
جب بھی ماضی میں بر آمد کی اجازت دی گئی ہے اس وقت بھی صورت حال یہی تھی اسلئے چینی کی بر آمد کی اجازت دینا ہی غلط تھا اور جس نے بھی اسکی اجازت دی اسے ذمہ داری قبول کرنا چاہےے۔
کمیشن کو آئندہ کا پورا شیڈول دینا چائےے جو کہ کمیشن کرنا چاہےے مشورہ یہی ہے کہ جب تک اعداد و شمار کو صحیح نہیں کیا جائے گا ہر پالیسی اسی طرح ہوتی رہے گی چاہے جنس کوئی بھی ہو۔