اچانک سابق صدر آصف علی زرداری اس وقت میڈیا کی زینت بن گئے

یاسمین طہٰ
——–
شدید بیماری کی تواتر سے خبروں کے بعد اچانک سابق صدر آصف علی زرداری اس وقت میڈیا کی زینت بن گئے جب انھوں نے جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے 10 جولائی کو بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات میں کی اس موقع پر بلاول زرداری بھی موجود تھے۔اس ملاقات میں تینوں رہنماؤں نے طے کیا کہ اگر معیشت کو بچانا ہے تو سب نے ملک کر سلیکٹڈ حکمرانوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔حکومت مخالف اتحاد کی تشکیل کے لئے مولانافضل الرحمن نے پی پی پی مسلم لیگ ن،ق،اور متحدہ سے رابطے شروع کردئے ہیں اوراپوزیشن جماعتوں اور حکومتی اہم اتحادیوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا عندیہ دیا ہے۔نالوں کی صفائی کے سندھ حکومت کے دعووں کی قلعی مون سون کی پہلی بارش نے کھول کر رکھ دی۔ محض آدھ گھنٹے کی بارش نے کراچی کی سڑکوں کو تالاب میں تبدیل کردیا اور دفاتر سے گھر پہونچنے والے لوگوں کو شدید دشواریوں کا سامنا رہا،لطف کی بات یہ ہے کہ بارش کے دوسرے روز منعقدہ اجلاس مین صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات ناصر شاہ نے یہ دعوی کیا کہ شہر میں کہیں بھی سیلابی کیفیت کا سامنا نہیں رہا۔بارش نے یہ بات بھی عیاں کردی کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی بلدیاتی نظام چلانے میں قطعی طور پر ناکام ہیں ۔اور ان کی پلاننگ کا یہ عالم ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی نے شہر کراچی کو ڈبونے کے بعد نالے کی صفائی کا کام شروع کر دیا ،بارش کی پیش گوئی کے باوجود متعلقہ ادارے نالوں کی صفائی کے انتظامات کرنے میں ناکام رہے، میونسپل افسر کا کہنا ہے کہ نالوں کی صفائی میں دو ماہ لگیں گے، عالمی بنک کے پروگرام ڈائریکٹر زبیر چنہ کا کہنا ہے کہ عالمی بنک کے تعاون سے شہر کے سترہ نا لوں پر صفائی کا کام جاری ہے دو ماہ میں نالوں کی صفائی کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔گویا جو کام بارشوں کی آمد سے پہلے ہونا چاہئے تھا وہ اب شروع ہوا ہے اس سے اندازا کیا جاسکتا ہے کہ اس برس مون سون بھی کراچی کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرے گی جس کی ابتدا مون سون کی پہلی بارش سے ہوچکی ہے،بارش شروع ہوتے ہی بجلی کا نظام بند ہوگیا‘ نصف سے زائد شہر میں بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی،جو کئی علاقوں میں تقریباً دو دن بعد بحال ہوئی اور ان علاقوں میں وفاقی وزیر علی زیدی کاشامل ہے جہاں صدر مملکت عارف علوی کی رہاش گاہ بھی موجود ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے ایک ہفتے قبل طوفانی بارش کا الرٹ جاری کیا گیا تھااس کے باوجود سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث شہر کے بڑے38 برساتی نالوں کی صفائی کا کام محض اس حوالے سے منعقدہ تقریب کی حد تک ہی ہوا۔دوسری طرف پی ٹی آئی کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے خلاف کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے باہر دھرنا دیا گیا جس میں پارٹی کے ارکان اسمبلی نے شرکت کی،اس موقع پر شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ 8گھنٹے صنعتیں بند ہونے کے بعد بھی کے الیکٹرک کو بجلی کی کمی کیوں ہو رہی ہے۔عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر سندھ اور وفاق کے درمیان نئی محاز آرائی کا آغاز ہو گیا ہے،اوروفاقی وزراء نے رپورٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کی اپیل کر دی ہے جبکہ سندھ حکومت کے ترجمان نے وفاقی وزیرعلی زیدی کی طرف سے پیش کردہ کاغذوں کو جعلی قرار دیدیا ہے۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملک کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار وفاقی وزراء الزام تراشی کرتے ہیں۔دراصل علی زیدی کے دعووں کی سچائی کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی اور نہ سندھ حکومت کی جاری کردی جی آئیٹیز کو مکمل طور پر غلط کہا جاسکتا ہے لیکن اس رپورٹ کے جاری ہونے سے پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھا کہ رپورٹ میں پی پی پی کے رہنماؤں کو کلین چٹ مل جائے گی۔ عذیر بلوچ کی JIT کی مبینہ طور پر 3 رپورٹس بنی ہیں۔اور جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اس میں سے آصف زرداری۔فریال تالپور اور سابق وزیر اعلی سندھ کا نام نکلوا دیا گیا۔ مبینہ طور پرپہلی رپورٹ میں زرداری،فریال قائم علی شاہ،اویس مظفر عرف ٹپی،شرجیل میمن اور عبد القادر پٹیل سمیت سندھ حکومت کے اہم لوگوں کے نام شامل ہیں۔ لیکن اس رپورٹ پر پولیس افسران نے سائن نہیں کیئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اپنی مرضی کا آئی جی اسی لئے لگانا چاہ رہی تھی کہ اس کی مرضی کی رپورٹ جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آسکے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی کے پاس موجود عزیر بلوچ کی جے آئی رپورٹ کی ایک ابتدائی کاپی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ عزیر بلوچ کو پاکستان پیپلزپارٹی کی سرپرستی حاصل تھی۔اور اس بات کو تقویت وزیر بلوچ کی پارٹی رہنماؤں کے ساتھ تصاویر سے ملتی ہے جو سوشل میڈ یا پر موجود ہے اور مین اسٹریم میڈیا بھی اسے دکھا چکا ہے۔ لیکن دوسری جانب 6 جولائی کو سندھ حکومت کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں سندھ کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کا اس رپورٹ میں ایک بار بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ 2016 سے عزیر بلوچ کی ایک اور جے آئی رپورٹ کی کاپی بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جو کہ 38 صفحات پر مشتمل ہے۔یہ کاپی ٹوئٹر کے ایک اکاؤنٹ ‘دی لاسٹ بلاگ’ پر بھی موجود ہے۔دوسری طرف وفاقی وزیر مراد سعید، عزیر بلوچ کا بیان قومی اسمبلی میں لے آئے۔ انہوں نے کہا عزیر بلوچ نے آصف زرداری کیلئے 14 شوگر ملوں پر قبضے کئے،بھتہ آصف زرداری اور فریال تالپور کو جاتا تھا۔کراچی میں بلدیہ ٹاؤن میں 11 ستمبر 2012 کو گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی آگ سے 259 افراد جل کر ہلاک جب کہ 50سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اس کیس میں قائم کی جانے والی جے آئی ٹی واقعے کے تقریباََ ڈھائی سال بعد 2015 میں قائم کی گئی۔ اس واقعہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ کی اصل وجہ حادثہ نہیں بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینا تھا جس پرفیکٹری کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔اور یہ خوفناک کاروائی الطاف حسین کے کہنے پر کی گئی تاکہ بزسن مین طبقے کو بھتہ نہ دینے کا انجام بتایا جائے۔دیکھنا یہ ہے کہ ان درندوں کو کب قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحما ن نیجمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں شفاف الیکشن کا مطالبہ کردیا انھوں نے کہا کہ اس وقت حکومت اور اداے بھی ایک پیج پر نہیں ہیں، ملک اس حال میں ہے کہ کوئی بھی سیاسی کارکن اقتدار کو سنبھالنے کے لئے تیار نہیں ہے ِ کہا ہے۔کانفرنس میں 3حکومتی اتحادیوں نے بھی شرکت کی۔سندھ حکومت نے وفاق سے ریلوے پولیس کوصوبے کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیاہے۔وزیرٹرانسپورٹ سندھ سید اویس قادر شاہ نے ایک بیان میں کہاکہ 18ویں ترمیم کہ بعد ریلوے پولیس سندھ حکومت کے ماتحت ہونی چاہئے۔کیا اس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ ریلوے پولیس بھی سندھ حکومت کی نافرمانی کررہی ہے۔