عالمی ادارہ صحت کی نئی وارننگ

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بہت سارے ممالک غلط سمت میں جارہے ہیں، اگر حکومتیں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات نہیں اٹھائیں گی تو صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔

ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ جن ممالک میں کرونا کے خطرات کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہورہا وہاں کرونا متاثرین کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھ رہے ہیں، وائرس عوام دشمنی میں نمبر ایک ہے

اگر بنیادی باتوں پر عمل نہ کیا گیا تو وبا پھیلتی چلی جائے گی اور صورتحال بدتر سے بدتر ہوجائے گی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کے مطابق مختلف ممالک کے رہنماؤں کے ملے جلے پیغامات وبائی مرض کو قابو میں کرنے کی کوششوں پرپانی پھیر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اگر بنیادوں باتوں پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو کرونا کے کیسز کی تعداد بڑھتی جائے گی۔

ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے سربراہ مائیک ریان کا کہنا تھا کہ ممالک اسکولوں کو ایک سیاسی فٹبال نہ بنائیں، وائرس کو شکست دینے کے بعد اسکول بحفاظت دوبارہ کھولے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ملک امریکا میں کرونا سے 34 لاکھ 79 ہزار 483 افراد متاثر ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 247 تک جاپہنچی ہے۔

برازیل میں کیسز کی مجموعی تعداد 18 لاکھ 87 ہزار 959 ہوگئی ہے اور 72 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، بھارت میں کرونا کیسز کی تعداد 9 لاکھ 6 ہزار 752 تک جاپہنچی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 23 ہزار 727 ہوگئی ہے۔

Courtesy ary news