تاریخی پیکیج برائے تعمیراتی شعبہ

اتوار کے روز وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز اور چیئرمین نیا پاکستان ہائوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل(ر) علی انور حیدر نے میڈیا کو جو مشترکہ بریفنگ دی، اس سے شعبۂ تعمیرات کی بحالی کے اس منصوبے کے خدوخال بڑی حد تک واضح ہوگئے جو ایک دن قبل وزیراعظم عمران خان کی طرف سے منظرعام پر لایا گیا۔ بریفنگ میں دعویٰ کیا گیا کہ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آنے والا منصوبہ تعمیرات کے شعبے میں ملکی تاریخ کا بہترین پیکیج ہے جو ایک طرف سرمایہ کاروں کو کسی رکاوٹ کے بغیر اپنا سرمایہ گردش میں لانے کا موقع فراہم کررہا ہے، دوسری جانب لاکھوں افراد کو سستی رہائشی سہولتیں فراہم کا ذریعے بنے گا اور تیسری جانب چالیس سے زیادہ صنعتوں کو متحرک کرنے کی صورت میں مختلف نوعیت کی ہنرمندی رکھنے والے لوگوں کی خاصی بڑی تعداد کو مواقع روزگار مہیا کرے گا۔ یوں اس معاشی و سماجی جمود پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی جو کورونا وائرس کی ویکسین سامنے آنے تک انسانی جانوں کا اتلاف روکنے کی تدبیر کے طور پر کرہ ارض کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان میں لاک ڈائون یا اسمارٹ لاک ڈائون کی صورت میں جاری ہے اور ملک کو ایسے نقصانات سے دوچار کرچکا ہے جن کے باعث معیشت کو ابتر صورتحال سے نکالنے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا۔ بلاشبہ یہ ایک مشکل وقت ہے مگر صورتحال پر نہ صرف بڑی حد تک قابو پانا ممکن ہوا بلکہ وہ مرحلہ سامنے نظر آرہا ہے جب تعمیراتی شعبے کی تمام رکاوٹیں دور کرتے ہوئے تمام مسائل ایک چھت تلے حل کرنے کی سہولت کے ساتھ بینکوں کے ذریعے سالانہ 330ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جاسکیں گے ۔ عالمی مالیاتی فنڈ کی تازہ ترین رپورٹ بھی پاکستان میں 2021میں مرحلہ وار اقتصادی بحالی کی توقعات ظاہر کررہی ہے۔اس ضمن میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 31دسمبر تک تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے جبکہ تمام صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے ترتیب دیے گئے پروگرام پر سبک عملدرآمد کے لئے خصوصی ادارہ بنایا گیا ہے اور بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نجی قرضوں میں سے 5فیصد تعمیرات کے شعبے کو دیں گے۔ پالیسی کے تحت بینکوں کے لئے شرح منافع کا تعین بھی کردیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک لاکھ مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔ اس ضمن میں ون ونڈو ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے گھر کی تعمیر کے خواہشمندوں کو ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات اور اجازت نامے میسر ہوں گے۔ گھر کی تعمیر کے لئے تین لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ وزیر اطلاعات نے درست نشاندہی کی کہ حکومت کا کام گھر بنانا نہیں بلکہ اس میں آسانی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ بریفنگ سے یہ بھی تاثر اجاگر ہوا کہ موجودہ اسکیم سے لوگ نجی طور پر فائدہ اُٹھا سکتے اور شرعی بینکاری کے ذریعے قرضے حاصل کر سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لئے یہ بہترین وقت ہے کیونکہ ایک طرف حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ملکی مفاد میں ان سے ذرائع آمدنی کےبارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی دوسری جانب چھپا ہوا سرمایہ سامنے آکر قومی معیشت کی سرگرمی میں اپنا کردار ادا کرسکے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے اس وژن کو سراہا جانا چاہئے کہ قومی سرمائے کا خرچ اس طور ہو کہ نمائشی منصوبوں کی جھلک کے بجائے حقیقی پیداواری مقاصد بروئے کار آئیں جو شرح نمو کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔ زرعی ترقی کے منصوبوں، ارزاں متبادل توانائی کے حصول، مواصلاتی ذرائع کی تعمیر و تشکیل اور صنعت و تجارت کے فروغ کے ذریعے ہم فراہمی روزگار سمیت اپنے قومی اہداف جلد حاصل کر سکتے ہیں

Courtesy jang news