فردجرم عائد ہونے سے قبل ہی بریت کی استدعا

جعلی اکاؤنٹس کیسز میں پارک لین کمپنی ریفرنس کی سماعت ہوئی ۔ سابق صدرکے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو سمجھنا ہوگا کہ کیا نیب قانون کے مطابق آصف زرداری کیخلاف کارروائی کرسکتا تھا ؟ نیب کے دستاویزات کے مطابق معاملہ دو کمپنیوں کا ہے، قرض کے عوض پارک لین کی پراپرٹی گروی رکھی گئی، ول فل ڈیفالٹ سابق صدر نے نہیں بلکہ پارتھینین کمپنی نے کیا ، پارتھینین نے 30دن کے اندر قرض واپس کرنے کا نوٹس تک جاری نہیں کیا ۔ گورنر اسٹیٹ بنک کی جانب سے 7 دن کا نوٹس نہیں دیا گیا ۔ سابق صدر کے وکیل نے مزید کہا کہ قرض کی واپسی وقت پر نہ ہوسکی، یہ کیس نیب کی انکوائری اور ریفرنس سے پہلے فائل کیا جا چکا تھا، قرض کی لین دین سے متعلق نیب از خود ریفرنس دائر نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ پارک لین کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور انور مجید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ میں کئی بار تاخیر کی گئی ہے جب کہ سابق صدرطبی بنیادوں پر ضمانت کے بعد کراچی میں موجود ہیں جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔

Courtesy GNN news