پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ ایک عورت کی زبانی

آج آبادی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروانا ہے۔ گزشتہ برس آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا اور اس سال 5ویں نمبر پر آچکا ہے۔

لیکن اگر پاکستان کی آبادی میں اضافے کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اس سال پاکستان کی شرح پیدائش گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔ 10 سال پہلے یعنی 2010ء میں یہ شرح 2.28 فیصد اور ایک دہائی قبل 2000ء میں 2.83 فیصد تھی۔ اسی جائزے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ 1970ء کی دہائی تک پاکستان نے اپنی شرح پیدائش پر کسی حد تک قابو پالیا تھا لیکن 1985ء میں یہ شرح بڑھ کر 3.89 فیصد تک جا پہنچی تھی۔

ان مختصر جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ہمیں فوراً خاندانی منصوبہ بندی کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ قومی پیداوار کی شرح نمو ساڑھے 5 فیصد ہے۔ ترقی کی اس شرح کے ساتھ پاکستان میں جنم لینے والے بچوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کس طرح یقینی بنائی جاسکے گی؟ ان حالات میں نہ تو وہ مناسب تعلیم حاصل کرسکیں گے اور نہ ہی صحت مند زندگی گزار پائیں گے۔

پاکستان پاپولیشن فورکاسٹ کے جائزے کے مطابق خیال کیا جارہا ہے کہ اگلے 10 برسوں میں پاکستان اپنی آبادی کو کم کرکے 1.66 تک لے جائے گا جو کہ یقیناً ایک خوش آئند پیش گوئی ہے۔

تحریر جاری ہے‎

اس مرحلے پر اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان یہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوپائے گا اور ساتھ ہی ان چیزوں کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں سے کہاں اور کون سی غلطیاں ہوئیں جن کی وجہ سے ہم اپنے مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں کرسکے۔

پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ ایک عورت کی زبانی
’آج میرے 6 بچے ہیں لیکن میں نے فیملی پلاننگ کا نہیں سوچا یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیا گیا جبکہ میرے کچھ سسرالی رشتے داروں نے ٹیوبل لیگیشن (نس بندی) کروائی ہے اور میری کچھ اور کزنز بھی 3 اور 4 بچوں کے بعد اس عمل سے گزریں لیکن میں چاہتے ہوئے بھی یہ فیصلہ نہ کرسکی۔ دراصل میرے شوہر اسے گناہ سے تعبیر کرتے تھے اور مجھے بھی ڈرایا جاتا رہا اس لیے میرے بچوں کے درمیان وقفہ بہت کم بلکہ کچھ میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ سچ یہ ہے کہ اگر مجھے بہتر اور مسلسل کاؤنسلنگ ملتی تو میں اپنے شوہر کو کسی نہ کسی طرح آمادہ کرلیتی۔ میں نے اپنی گرتی ہوئی صحت، تھکن، چڑچڑے پن اور ذہنی تھکاوٹ کے حوالے سے جب بھی بات کی تو مجھے یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ کھانا پینا ٹھیک کرو گی تو بہتر ہوجاؤ گی۔

’ان علامتوں کو کمزور صحت سے جوڑ دیا جاتا۔ میری شادی کو 25 سال گزر چکے ہیں۔ میں 3 سے 4 بچوں کے بعد مزید بچے نہیں چاہتی تھی اور مجھے 2 مرتبہ مجبوراً اسقاطِ حمل کے عمل سے بھی گزرنا پڑا۔ بچوں کی تعلیم، ان کی تربیت اور گھر کی ذمہ داریوں نے مجھے بُری طرح دباؤ میں رکھا۔ 2013ء میں جب میرے آخری بچے کی ولادت ہوئی تو میری عمر 42 برس تھی۔ اب سوچتی ہوں کہ بظاہر لڑکے کی پیدائش کا کوئی خاص دباؤ نہ ہونے کے باوجود میں نے اس معاملے پر توجہ کیوں نہیں دی؟

پالیسی سازوں کو یہ دھیان میں رکھنا ہوگا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے معاملے میں کن جگہوں پر رکاوٹیں درپیش ہیں
’مگر سو باتوں کی ایک بات یہ کہ اگر میرے شوہر میرا ساتھ دیتے تو یقیناً آج میری جسمانی اور ذہنی صحت اس قدر متاثر نہ ہوتی۔ آخری بار جب میں ایک نجی فیملی پلاننگ کے جس مرکز میں ڈی این سی کروانے گئی تھی تو وہاں کی ڈاکٹر نے مجھے انکار کردیا تھا لیکن میں مجبور تھی۔ میری صحت انتہائی خراب تھی، میرے بچے چھوٹے تھے اور میں ان کی دیکھ بھال میں ہی اتنا تھک جاتی تھی کہ ان سب مراحل سے گزرنے سے اسقاطِ حمل ہی بہتر سمجھا‘۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر سے تعلق رکھنے والی اس تعلیم یافتہ خاتون نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر اپنی زندگی کے چند نجی پہلوؤں سے پردہ اٹھایا.

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا سسرال بھی پڑھا لکھا ہے، ان سے جب میں نے کہا کہ میری نندوں نے بھی تو ٹیوبل لیگیشن کروائی ہے تو اس پر مجھے یہ جواب ملتا ہے کہ ‘وہ جانیں اور ان کا سسرال جانے’ اور یہ کہہ کر مجھے چُپ کروا دیا جاتا ہے‘۔

خاندانی منصوبہ بندی کا فیصلہ کس کا؟ ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر سونیا نقوی ماہر امراضِ نسواں ہیں اور سر سیّد میڈیکل کالج کے شعبہ گائناکالوجی کی سرپرست ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کھل کر بات کرنے سے گھبراتی ہیں۔ فیصلوں پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اگر ہم انہیں یہ مشورہ دیں بھی کہ بی بی آپ کی صحت خراب ہے، آپ وقفہ لیجیے یا مزید بچے پیدا نہ کریں تو وہ یہی کہتی ہیں کہ اپنے شوہر سے پوچھیں گی یا ساس سے بات کریں گی۔

عام پاکستانی خاتون خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے کن الجھنوں کاشکار ہیں؟
ڈاکٹر سونیا سمجھتی ہیں کہ ہمارے ہاں اکثر خواتین اس قسم کے معاملات پر مختلف اقسام کے ابہام کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ سُنی سنائی باتیں ہمارے سامنے دہراتی ہیں، مثلاً ٹیوبل لیگیشن یعنی نس بندی کے عمل سے وزن بڑھ جاتا ہے یا ان کا سائیکل متاثر ہوجائے گا۔ اگر ہم انہیں مشورہ دیں کہ یوٹرس میں کوائل یا رنگ رکھوالیں تو اس پر بھی وہ یہی کہتی ہیں کہ ‘نہیں نہیں یہ دماغ پر چڑھ جاتا ہے’۔

ہم جب چوتھے اور 5ویں سیزرین کے بعد ان سے ٹیوبل لیگیشن کی بات کریں تو بھی اپنی جانوں پر رحم نہیں کرتیں بلکہ مزید بچوں کی پیدائش چاہتی ہیں لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اب بہت سی ڈاکٹرز کہتی ہیں کہ ٹیوبل لیگیشن کرنا درست نہیں۔ میرا سوال ہے کیا مریضوں کے ساتھ اب کیا ہمیں ڈاکٹروں کی بھی کاؤنسلنگ کرنا پڑے گی؟ اس لیے میں پالیسی سازوں سے یہ کہنا چاہوں گی کہ ڈاکٹر خواتین و حضرات کی بھی اس حوالے سے آگاہی کو دھیان میں رکھیں۔

ڈاکٹر سونیا نقوی
خاندانی منصوبہ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
تعلیم کی کمی

ڈاکٹر سونیا کے خیال میں خاندانی منصوبہ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ تعلیم کی کمی ہے کیونکہ تعلیم اور شعور سے بہت فرق پڑتا ہے۔ آج بھی ہمارے ملک میں بہت سے خاندان ایسے ہیں جہاں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ اگر جوڑے کو بچے پیدا نہ ہوں تو شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ شادی کے ایک یا 2 برس بعد بچے کی ولادت کو لازمی سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ملک میں خواتین ایک بڑی اکثریت کو مناسب معلومات اور کلینک تک رسائی حاصل نہیں ہے لیکن شکر ہے کہ اب میڈیا میں ان موضوعات پر بات ہونے لگی ہے۔

لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ ان موضوعات پر بات کرنا کتنا ضروری ہے۔ انہیں اپنی جھجک دُور کرنی ہوگی۔ ہم سب کو سمجھنا ہوگا کہ اتنی بڑی آبادی کے بوجھ کے ساتھ پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ ہم ڈاکٹروں کو بھی انفرادی سطح پر سرگرم ہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

آگاہی کا فقدان

بہت سے جوڑوں کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا ہے کہ اگر انہیں منصوبہ بندی کرنی ہے تو کس سے رجوع کیا جائے۔ بحیثیت گائناکولوجسٹ میں سمجھتی ہوں کہ ڈاکٹر کو ڈیلیوری کے بعد ہر خاتون کو خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی دینی چاہیے۔ اس وقت سے ہی ان کی کاؤنسلنگ کی جائے۔

ہمارے ہاں عام لوگ جب تک کوئی بڑی تکلیف نہ ہو تب تک ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے۔ اس موضوع پر بات کی پہل ڈاکٹر خود بھی کرسکتے ہیں۔

کم عمری کی شادی، خاندانی منصوبہ بندی کی دوسری اہم رکاوٹ
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی رہائشی سعیدہ اور مچھر کالونی کی شمشاد تربیت یافتہ نرسیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کلینک پر 100 سے ڈیرھ سو خواتین آتی ہیں۔ مچھر کالونی میں جلدی شادی کرنے کا رجحان ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس 15، 16 سال کی کم عمر لڑکیوں سے لیکر 50 سال کی حاملہ خواتین بھی آتی ہیں۔

غربت کے مارے والدین اپنی بیٹیوں کی جلد شادی کرکے ذمہ داریوں سے فارغ ہونا چاہتے ہیں۔ شمشاد نے بتایا کہ ہمارے پاس آنے والی سب سے کم عمر حاملہ بچی کی عمر 14 سال 8 مہینے تھی۔ یہ 2017ء کی بات ہے۔ اس علاقے میں اکثر جوڑوں کے کم سے کم 5 سے 6 بچے اور زیادہ سے زیادہ 12 سے 14 بچے پیدا کرنے کا رجحان ہے۔

یہاں کی خواتین خاندانی منصوبہ بندی کی طرف اس لیے بھی آنے لگی ہیں کہ جلد ماں بننے کے عمل سے گزرنے کی وجہ سے یہ خواتین 30 سے 40 برس کی عمر کو پہنچتے پہنچتے مزید بچے نہیں چاہتیں۔ درحقیقت انہیں ہی گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔

زیادہ تر خواتین وقفے کی غرض سے سرجری کا انتخاب نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ اس میں 5 سال کا وقفہ آجاتا ہے۔ عام طور پر ایک سال کا وقفہ ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک انجیکشن سے 3 ماہ محفوظ رہتی ہیں، یوں سال کے 3 انجیکشن کافی ہوتے ہیں۔

کلینک میں آنے والی 18 سالہ حاملہ لڑکی عمارہ کا کہنا تھا کہ اس کا پہلا بچہ گھر پر ہوا تھا۔ اب دوسرے بچے کے لیے میٹرنٹی ہوم آئی ہیں۔ ہم اب بھی چاہیں گے کہ گھر پر ہو لیکن کوئی مشکل نہ ہو اس لیے یہاں ڈاکٹر کے پاس آرہے ہیں۔ 3 جماعتیں پڑھی ہوئی عمارہ کا کہنا تھا کہ اس کا پہلا بچہ ڈیڑھ سال کا ہے۔ عمارہ کے ساتھ آئی اس کی ساس نے بتایا کہ ’میں نے بہو کو انجیکشن لگوایا تھا لیکن پھر بھی بہو حاملہ ہوگئی۔ اب ہوگئی ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس آرہے ہیں‘۔

پاکستان میں بڑھتی آبادی سے ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے
7 مہینے کی حاملہ عمارہ نے بتایا کہ اب ساتواں مہینہ چل رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں عام رواج یہی ہے کہ گھر پر دائی سے ہی بچے کی پیدائش کروائی جاتی ہے لیکن ڈاکٹر سے بھی اب رجوع کرنے لگے ہیں کہ کوئی نقصان نہ ہوجائے۔

خواتین کے ساتھ شوہروں کی بھی کاؤنسلنگ کی جائے
ڈاکٹر سونیا سمجھتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کے فیصلے ہمارے ہاں مرد یا پھر ساس کیا کرتی ہیں۔ میں نے کچھ عرصے پہلے ایک تحقیق کی تھی جس سے ثابت ہوا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی اکثر خواتین کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مردوں کی بھی ٹیوبل لیگیشن (نس بندی) ہوتی ہے۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ اس طرح کا بھی کوئی طریقہ موجود ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو زیادہ کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے۔ ہماری خواتین خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں اور بار بار بچوں کی پیدائش سے مزید کمزور ہوجاتی ہیں جس سے زچگی کے دوران شرحِ اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔

خواتین خاندانی منصوبہ بندی کا کون سا طریقہ کار اپنائیں؟
ڈاکٹر سونیا کے مطابق تمام خواتین کے لیے ایک ہی طریقہ تجویز نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً تعلیم یافتہ عورت تو پھر بھی روزانہ کی بنیاد پر دوا کھا لے گی لیکن ناخواندہ خواتین کے لیے انجیکشن یا ٹیوبلی گیشن کا آپشن ہی بہتر رہتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی طریقے موجود ہیں جن کے بارے میں عورتوں کو آگاہی دینا ضروری ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی ایک طریقے کو حتمی قرار نہیں دے سکتے ہیں۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ خواتین اپنی مرضی سے جو بہتر سمجھتی ہیں اسی کا انتخاب کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں 5 سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات پہلے ہی زیادہ ہے، اس لیے ہم 30 سالہ خواتین کو مختصر دورانیے کے وقفے کی طرف راغب کرتے ہیں جبکہ اگر کوئی خاتون نس بندی کرواتی ہے تو اس کام کے لیے اس کے شوہر کی موجودگی اور ان کے دستخط شدہ منظوری ضروری ہوتی ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کے مقاصدِ پائیدار ترقی 2030ء کے ایجنڈے پر دستخط کرچکا ہے۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان پہلے بھی ملینیم ڈیولپمنٹ گول کے طے شدہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ ان دنوں تو پہلے ہی خیال کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دنوں میں حاملہ خواتین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا یعنی پاکستان کی آبادی مزید بڑھے گی۔

خاندانی منصوبہ بندی میں مڈوائف کی اہمیت کیوں ہے؟
کراچی کے مشہور گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شیرشاہ سیّد کا کہنا ہے کہ پاکستان خاندانی منصوبہ بندی کے بہترین نتائج حاصل کرنے میں اس لیے کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ اس نے منصوبہ بندی کو اوّلین ترجیحات میں شامل ہی نہیں کیا اور اس امر کے لیے جن طریقوں کو اپنایا گیا وہ کافی غیر مؤثر ثابت ہوئے۔ ہمیں مڈوائف کی تعداد بڑھانا ہوگی اور ان کی مناسب تربیت کا انتظام کرنا ہوگا۔ خواتین ان پر اعتماد کرتی ہیں اور ان کی بات توجہ سے سنتی ہیں۔

بنیادی صحت مراکز خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے کس طرح کام کر رہے ہیں؟
ڈاکٹر ماہ رخ کراچی کے ایک بنیادی صحت مرکز سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس 100 سے 120 خواتین خاندانی منصوبے کے بارے میں معلومات لینے آتی ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والی عورتوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں ایسے کافی کیسز آتے ہیں جو خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک بار آنے کے بعد دوسری مرتبہ مرکز کا رخ ہی نہیں کرتیں۔ دوسرا گروپ وہ ہے جو خاندانی منصوبہ بندی پر عمل تو کرتا ہے لیکن شوہر کے دباؤ میں آکر اسے ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔

ڈاکٹر ماہ رخ
کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جو اپنے شوہر اور سسرال سے چھپ کر یہاں آتی ہیں اور اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ ان کے شوہر یا سسرال والے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہیں کروانا چاہتے۔ ہمارے ہاں ایسی بہت کم خواتین آتی ہیں جو 2 بچوں کے درمیان وقفہ چاہتی ہوں۔

جہاں تک بہتر طریقے کا سوال ہے تو اس حوالے سے ڈاکٹر ماہ رخ کا کہنا ہے کہ خواتین اپنے اوپر سب جھیل لیتی ہیں۔ خواتین کا بڑا گروپ انجیکٹ ایبل اور اورل میڈیسن کی طرف آتا ہے جب کہ سب سے آسان اور سادہ کنڈوم کا استعمال ہے جس سے اکثر شوہر انکار کردیتے ہیں۔

ایسا پایا گیا ہے کہ اکثر جوڑے ایک سے ڈیرھ سال سے زیادہ کا وقفہ نہیں چاہتے۔ زیادہ تر بڑی عمر کی خواتین ہم سے رجوع کرتی ہیں۔ ہاں کچھ پڑھی لکھی لڑکیاں اپنے شوہر کی اجازت سے ایک بچے کے بعد تھوڑا وقفہ کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کی تعداد بھی کم ہے کیونکہ ان سارے مراحل پر شوہر کی مرضی اور مدد سب سے اہم سمجھتی ہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات کے نقصانات کے حوالے سے ڈاکٹر ماہ رخ کا کہنا تھا کہ جہاں تک طریقہ کار کی بات ہے تو ہر طریقے کار کے جسم پر تھوڑے بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اورل میڈیسن اور انجیکٹ ایبل میڈیسن جسم پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ میرے مطابق کنڈوم ہی سب سے سادہ، آسان اور سستا حل ہے لیکن اس کی ناکامی کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود میرا خواتین کو یہ مشورہ کہ اگر وہ خاندانی منصوبہ بندی کا حصہ بننا چاہتی ہیں اور انہیں اپنی صحت کی پروا ہے تو وہ اسی طریقہ کار کو اپنائیں اور اگر 2 سے 3 بچوں کے بعد بچے نہیں چاہئیں تو ٹیوبل لیگیشن کی طرف جائیں۔

صحت مراکز میں مزید بہتری کی ضرورت کہاں ہے؟
اس سوال پر ڈاکٹر ماہ رخ کا کہنا تھا کہ غیر پیشہ ورانہ علاج معالجے کی وجہ سے خواتین انفیکشن کا شکار ہوکر یہاں آتی ہیں لیکن ہمارے پاس اعلیٰ سہولیات کا فقدان ہے جس کے باعث انہیں بڑے ہسپتالوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔ دراصل ہمارے علاقے میں خود سے ادویات لینے کی وجہ سے بھی کیسز متاثر ہوتے ہیں۔ عورتیں کسی بڑی بہن یا پڑوسن کی باتوں پر ہم سے زیادہ بھروسہ کر بیٹھتی ہیں اور ادویات لے لیتی ہیں۔ زیادہ خون بہہ جانا، غیر پیشہ ورانہ دائی سے ڈیلیوری کروانے کے بعد ٹھیک سے اندرونی صفائی نہ ہوپانے کی وجہ سے بھی خواتین کی صحت بگڑتی ہے۔ وہ ہمیں بتاتی نہیں ہیں لیکن ہم جائزہ لینے کے بعد مسائل کا پتا لگا لیتے ہیں۔

ہمارے ملک میں ایک مشکل یہ بھی کی غریب گھرانوں میں حمل کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا ہے۔ طاقت کی ادویات بھی استعمال نہیں کی جاتیں اور اکثر 7ویں اور 8ویں مہینے میں ہمارے پاس آتی ہیں۔

لیڈی ہیلتھ ورکر کیا کہتی ہیں؟
نعیمہ خاتون 17 سال سے اس شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محلے میں لوگ میری بہت عزت کرتے ہیں۔ گھر میں بٹھاتے ہیں اور خواتین اپنی صحت سے متعلق مسائل آسانی کے ساتھ ہمیں بیان کرتی ہیں۔ جہاں تک منصوبہ بندی کا تعلق ہے تو شوہر کی مرضی کے مطابق اس طرح کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ لمبی مدت کی فیملی پلاننگ تو کوئی بھی مرد نہیں چاہتا۔

چونکہ ہمارا بنیادی کام بچوں کی بہتر صحت کو یقینی بنانا ہے لہٰذا پہلی ترجیح بچوں کی ویکسی نیشن ہے۔ ساتھ ہی ہم حاملہ خواتین کو مدد فراہم کرتے ہیں اور یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ان کی عمومی صحت کیسی ہے یا وہ باقاعدگی سے ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس جارہی ہیں یا نہیں اور انہیں طاقت کی ادویات بھی فراہم کرتے ہیں۔ حاملہ خواتین کی صحت بہتر رہے اور ہماری مدد کی ضرورت ہو تو ہم موجود ہوتے ہیں۔

شیما صدیقی15 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، قدرتی آفات، انسانی حقوق، خواتین کے مسائل اور کراچی کی قدیم عمارتوں پر لکھتی رہتی ہیں، جیو ٹی وی میں زیرِ ملازمت ہیں اور کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی کررہی ہیں


Sheema-Siddiqi-dawnnews