حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور گھسیٹ کر نااہلوں کو باہر نکالیں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کراچی ( پریس کانفرنس) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت ہے، عمران خان کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں، پی آئی اے کو کرپشن کی وجہ سے بٹھا دیا گیا، پورا پنجاب جادو اور کرپشن سے چل رہا ہے، ہر ٹھیکہ، ہر ڈی سی کرپشن سے چل رہا ہے، بی آر ٹی کرپشن کا سفید ہاتھی ہے جس سے خان کا کچن اور پی ٹی آئی کی انتخابی مہم چلتی ہے، اس کا ٹھیکہ علی زیدی کے فرنٹ مین کو دیا گیا، نیب اوردیگر ادارے وفاقی کرپشن کے لئے سہولت کاری کرتے ہیں، کراچی میں بجلی آتی نہیں، بنی گالہ سے بجلی جاتی نہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کا اے ٹی ایم ابراج گروپ اور کے الیکٹرک عوام کا خون چوستے ہیں، اربوں روپے کی گیس کھانے کے باوجود گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کرکے کراچی کے عوام کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے، وزیراعظم کو ایک اور چیلنج دیتا ہوں کہ وہ سندھ کے برابر کسی بھی صوبے میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کرکے دکھادیں، وفاقی حکومت کی نالائقیوں کا سلسلہ نہ تھما تو کورونا کے باوجود اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور نااہلوں کو گھسیٹ کر نکالیں گے، وزیراعظم ہر محاذ پرناکام ہوچکے ہیں، عہدے پررہنے کا کوئی جواز نہیں، لاپتہ افراد کا مسئلہ سنجیدہ ہے جس کا فائدہ اندرونی وبیرونی دشمن اٹھاسکتے ہیں، مائنس ون ہویا مائںس آل ہو، مائنس جمہوریت نہیں ہوسکت، عمران خان نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا پھر بھی کہتے ہیں خارجہ پالیسی کامیاب ہے، ان کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جہاں کشمیریوں کا خون گرے گا وہاں ہمارا خون بہے گا، سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر صحت عذرا پیچوہو، وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، وزیر تعلیم سعید غنی، مشیروزیراعلی مرتضی وہاب، رکن اسمبلی شرجیل میمن اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ جو کرپشن پر ڈرامہ ہے پی ٹی آئی کا۔۔ اس پر انسان بنیں، سب کو پتہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت ہے، ہمارے دور حکومت میں ہمیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی باتیں سناتے نہیں تھکتے تھے، اب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کہہ رہاہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کرپٹ ترین حکومت ہے، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ دیکھ لیں، عمران خان اپوزیشن میں تھے تو تھکتے نہیں تھے کرپشن کرپشن کرتے، عمران خان وہ واحد سیاستدان ہے جس نے ہر ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ لیا، پرویزمشرف کا پہلا این آر او عمران خان کے لیے تھا، عمران خان کا والد کرپشن کی وجہ سے ہٹایا گیا، اب وہی سلسلہ جاری ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان ہم سے انتقام لے رہاہےکیونکہ ہم نے کرپشن پران کے والد کو نکالا، لوگ علیمہ خان کو بھولے نہیں ہیں، سلائی مشین سے نیویارک میں عمارتیں کھڑی ہورہی ہیں، کہاں ہیں منی ٹریل؟؟ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خاموش ہیں، ہم ایسے کام کرتے تو ہمارا جینا حرام کردیاجاتا، وزیراعظم کا معاون خصوصی برطانوی شہری، پانامہ میں اس کا نام ہے، اس کے لیے ای سی ایل سے بھی نام ہٹ جاتاہے، نااہل ترین بھی بھگوڑا بن کر نیب سے چھپ رہاہے، پولیو میں کرپشن، حج میں کرپشن، پی آئی اے میں اتنی کرپشن کہ ادارہ بیٹھ گیا، ان کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے جہاز کسی ملک میں نہیں جاسکتے، جعلی ڈگری رکھنے والے وزیروں کی کرپشن، ہر جگہ کرپشن ہےلیکن بدقسمتی سے میڈیا رپورٹ نہیں کرتا، پورا پنجاب کرپشن سے چل رہاہے، ہر عہدے کا پوچھیں کون تعیناتیاں کرتا ہے، کس کو پیسے ملتے ہیں، کے پی ٹی میں کرپشن، مالم جبہ میں کرپشن، بلین ٹری میں کرپشن، فارن فنڈنگ کیس، میڈیا چپ، نیب چپ، کوئی سوموٹو نہیں، حد ہوتی ہے، شوگر پر کرپشن، گندم پرکرپشن، تیل پر کرپشن، ہرپاکستانی کی جیب پر ڈاکا، میڈیا خاموش، ہم پر تنقید، یہ منافقت کا سلسلہ بند کرنا پڑے گا، سلیکٹر کو جواب دینا ہوگا کہ آپ نے حکومت اس لیے ادھر ادھر سے جوڑ کر بنائی تھی کہ کرپشن نہیں ہوگی، اب یہ کیا ہوگیا، بی آر ٹی کرپشن کا سفید ہاتھی ہے جو سب سے مزیدار ہے، جس سے خان کا کچن چلتاہے اور پی ٹی آئی کی الیکشن مہم چلتی ہے، علی زیدی کا فرنٹ مین اسکا ٹھیکیدار ہے، علی زیدی خان کا کچن چلاتاہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ بی آر ٹی سے سپریم کورٹ اسٹے آرڈر کیوں نہیں ہٹاتا؟ سندھ کا وزیراعلیٰ ہر دوسرے روز اسلام آباد میں پیشی بھگاتا ہے جبکہ وہ وبا سے بھی لڑرہا ہے، یہ ملک میں دہرا نظام نہیں ہے تو اور کیا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ بی آر ٹی سے اسٹے ہٹایاجائے، نیب میں کیس چلایا جائے اور کرپٹ کو پکڑا جائے، انہوں نے کہا کہ ریلویز میں کتنی کرپشن ہے، پوسٹ آفس میں کتنی کرپشن ہورہی ہے، کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر میڈیا کو ایف آئی اے کی ایک رپورٹ بھی دکھائی جس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کا اے ٹی ایم ابراج گروپ ہے اور کے الیکٹرک کی کرپشن جان بوجھ کر دبائی گئی ہے، عمران خان ابراج گروپ کو سپورٹ کرتا ہے، یہ کراچی کے عوام کا خون چوستے ہیں، گیس چوری کررہے ہیں، ایک روپیہ نہیں دے رہے، کوئی ایگریمنٹ ہی نہیں ہے، اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہے، کراچی والےکس چیز کا بل دے رہےہی، کیا ناانصافی ہے کہ کراچی میں بجلی آتی نہیں، بنی گالہ سے جاتی نہیں، یہ بڑا کرپشن اسکینڈل ہے، ہمارے دور میں عجب کرپشن کی غضب کہانی ہوتی تھی، اگر میڈیا کا غیر جانبدار بننے کا کوئی ارادہ ہے تو ایف آئی اے کی رپورٹ پر ایک پروگرام کرکے دکھائیں، یہ حکومت ہر فورم پر ناکام ہوچکی ہے، عمران خان کا وزیراعظم رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا، خارجہ پالیسی، معیشت کا جنازہ نکال دی گیا ہے، شعبہ صحت کا بیڑا غرق کردیا، ہم کب تک نالائق اور سلیکٹڈ حکومت کو برداشت کرتے رہیں گے، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ 23 دن ہوچکے ہیں لیکن میرا چیلنج پورا نہیں کیاگیا، میں نے عمران خان کو چیلنج کیا تھا کہ حکومت این آئی سی وی ڈی کی طرز کا ایک اسپتال پورے ملک میں دکھادے جہاں غریب کا مفت علاج ہو، عمران خان آج تک جواب نہیں دے سکا، قومی اسمبلی میں وزیراعظم کو چیلنج دیا تھا، آمنے سامنے آئیں، مناظرہ کرلیں، بزدل وزیراعظم سامنا کرنے کو بھی تیار نہیں، شہید بی بی کو یاد کریں، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف کو یاد کریں جو جواب دیتے تھے، ٹی وی کا شوق ہے تو ٹی وی پر آکر جواب دیں، انہوں نےکہا کہ آج میں ایک نیا چیلنج دیتا ہوں، دیکھتے ہیں قبول کرتے ہیں یا نہیں، پنجاب ہویا کے پی یا وفاق، آپ سندھ کے برابر کورونا ٹیسٹنگ کرکے دکھادیں، آپ دنیا کی رہبری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ متاثرین کو ڈھونڈیں، آج کے چیلنج سے تو نہ بھاگیں، سندھ کی فی کس ٹیسٹنگ کا مقابلہ کرکے دکھادیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ مولانا فضل الرحمان سنجیدہ ہیں، صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ میری مولانا فضل الرحمان سےدو گھنٹے ملاقات ہوئی، ہم ورکنگ ریلیشن شپ کی بہتری کےلیے کمیٹی بنارہے ہیں، اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ ہیں، شہباز شریف صحت یاب ہوتے ہیں تو آل پارٹیز کانفرنس ہوگی، جس میں ہم اپنا مؤقف دیگر جماعتوں کے سامنے رکھیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صرف جمہوری اور آئینی آپشنز ہیں، کسی غیر جمہوری کوشش کا حصہ نہیں بن سکتے، عوام کا مقدمہ لڑتے رہیں گے، پارلیمنٹ میں بھی اپنی جنگ لڑتے رہیں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متنبہ کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا جس میں ہر پاکستانی کی زندگی اور صحت کو خطرہ ہو، معاشی صورتحال کو خطرہ ہو اور حکومت مدد کرنے کو تیار نہیں ، یہ رویہ جاری رہا، این ایف سی پر حملے ہوتے رہے تو ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں، کورونا ہو نہ ہو، ہم اسلام آباد مارچ کریں گے اور انہیں گھسیٹ کر باہر نکالیں گے، آپ اگر مشکل صورتحال کے باوجود سازشیں جاری رکھیں گے تو ہم بھی اپنا کام کریں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کا کھیل انکے گلے پڑگیاہے، جن لوگوں کی بات کررہے تھے انہی کے بیان نکالیں کہ وہ کس کو سپورٹ کررہے تھے، اس قسم کے پریشر سے کبھی نہیں گھبرائے، نہ ضیاء سے ڈرے، نہ مشرف سے، جتنی جے آئی ٹیز لے آئیں، ہم سمجھوتہ کرنے پرتیار نہیں، یہ خود اپنے آپ کو شرمندہ کررہے ہیں، خود اپنے آپ کو عوام کے سامنے ذلیل کررہےہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے پریشان عوام کے مسائل کے حل کے بجائے جے آئی ٹیز لے آتے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک فیملی میں ایک شخص کا انتقال ہوتا ہے تو پورے خاندان پر اثر پڑتاہے، اگر صرف بیمار ہوتا ہے تو بھی اسکا اثر خاندان پر پڑتا ہے کیونکہ وہ کما نہیں سکتا، سندھ حکومت اس حوالے سے کام کررہی ہے، اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو اسکے خاندان کو سپورٹ گرانٹ دی جائے گی، کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو اسکو سپورٹ گرانٹ دینگے کیونکہ ہم جانتے ہیں وفاقی حکومت نالائق ہے، لوگ بیروزگار ہورہے ہیں اور اس بے روزگاری میں اضافہ ہونا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منفی شرح نمو ہوئی، ہم فوڈ سیکیورٹی سپورٹ لارہے ہیں، اگر کسی خاندان کا کفیل بیمار ہوجاتا ہے تو اسکی مدد سندھ حکومت کرے گی، پہلی بار سندھ حکومت نے اپنے بجٹ میں کوئی نئی اسکیم نہیں ڈالی، ہم پرانی اسکیمزکو مکمل کریں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ عوام کو مشکل معاشی صورتحال میں سپورٹ کرناہے، یہی کام پورے ملک میں ہونا چاہیے تھا، دیگر تمام صوبوں کو اور وفاق کو یہ کرنا چاہیے تھا اور کوئی نئی اسکیم نہیں لانا چاہیے تھی لیکن پاکستان پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں میں یہی فرق ہے، ہم سمجھتے ہیں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم اپنے عمل کے ذریعے دکھا رہے ہیں کہ عوام کی مدد سب سے زیادہ اہم ہے، کم وسائل اور مشکلات کے باوجود ہم کوشش کررہے ہیں، آپ کو علاج کی ضرورت ہے اور آپ اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو سندھ حکومت آپ کا علاج کرائے گی، الزام لگانے والے آج ہمارا موازنہ کریں، سندھ میں سب سے زیادہ کورونا ٹیسٹ ہورہے ہیں، صرف سندھ حکومت متاثرین کو ڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہے، ٹیسٹنگ کی گنجائش، آئی سی یو بیڈز، ہائی ڈپنڈنسی بیڈ کی گنجائش سندھ میں سب سے زیادہ ہے، وزیر صحت نے سو دن میں پچاس بیڈ کا اسپتال کراچی میں قائم کیا ہے، این آئی سی وی ڈی کی طرز پر اسپتالوں کا نیٹ ورک پورے سندھ میں قائم کردینگے، متعدی امراض کے علاج کےلیے اسپتالوں کا نیٹ ورک پورے سندھ میں قائم کریں گے، پی ٹی آئی کی جہاں بھی حکومت ہے وہ وہاں جان بوجھ کر ٹیسٹنگ کم کررہےہیں، یہ پاکستان کے عوام کی صحت وزندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، اگر پتہ نہیں چلے گا کہ کون بیمار ہے تو نہ صرف بیمار کی زندگی خطرے میں پڑجائے گی بلکہ صحت مند افراد کو بھی خطرہ ہوگا، وزیراعظم سمیت تمام وزراء اپنا مذاق بنواتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ کورونا سے مثبت افراد کا گراف نیچے آرہا ہے، جب آپ ٹیسٹ ہی کم کریں گے تو گراف بھی کم ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ یہ پاکستان کے عوام ، پیرامیڈکس اور ڈاکٹروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، دنیا ہمیں ٹیسٹنگ کا کہہ رہی ہے اور یہ نالائق حکومت اسے بھی نظر انداز کررہی ہے، وفاقی حکومت نے سماجی فلاح وبہبود کا پیسہ بھی کم کردیا اور صوبائی حکومت کا بجٹ بھی کم کردیا ہے، سندھ حکومت ڈاکٹرز، پیرامیڈکس کے شانہ بشانہ ہے، ہم نے رسک الاؤنس کا اعلان کردیا ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہی فارمولہ ہرصوبے اوروفاق میں اپنایا جائے، ڈاکٹرز، پیرامیڈکس جو اپنی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں، انہیں سیکیورٹی الاؤنس دینا چاہیے، سندھ حکومت بھی اس حوالے سے قانون سازی کررہی ہے، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہناتھا کہ ڈاکٹروں کے حوالے سے صرف سلیوٹ اور اچھے الفاظ نہ استعمال کریں بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھائیں، نہ طبی عملے کو ریگولرائز کیا جارہاہے، نہ انہیں رسک الاؤنس دیا جارہاہے، نہ انکے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں، حکومت نے عوام اور طبی عملے کو لاوارث چھوڑ دیا ہے، ایک طرف ہم وباء کا مقابلہ کررہےہیں دوسری طرف 1977ء کے بعد سب سے بڑے ٹڈی دل کے حملے کا مقابلہ کررہے ہیں، ساتھ ہی این ایف سی کے حوالے سے سازش کا بھی مقابلہ کررہے ہیں، ہم تیار ہیں، ہر مرحلے پر لڑیں گے، پاکستان پیپلزپارٹی کا ریکارڈ ہے ہم نے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا، یہ ایک فیصد اضافہ نہیں کرسکے، یہ لوگ این ایف سی پرحملہ کرتے ہیں کہ آپ اپنا حصہ کاٹو تاکہ اسلام آباد کو کِھلاسکی، وفاقی حکومت ٹیکس وصول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مسنگ پرسن کمیشن اور نیب کا چیئرمین ایک ہی آدمی ہے، پورے پاکستان سے لوگ لاپتہ ہورہے ہیں، دہشتگردی کے واقعات عوام کی حساسیت اور بے چینی کو بڑھاتے ہیں، ہمیں ان معاملات کو بات چیت سے حل کرنا پڑے گا، ہر لاپتہ شخص کو گھر پہنچانا ہوگا، ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ عوام لاپتہ ہوجائیں اور الزام ریاست پر آئے، ریاست کاکام ہے لاپتہ افراد کو ڈھونڈنا، پوری سی آئی اے کھڑی ہوجاتی ہے اگر ایک امریکی لاپتہ ہوجائے، شہریوں کی گمشدگی یہ سلسلہ بند ہونا چاہیں، نہ مسنگ پرسنز ہونے چاہئیں، نہ ٹارگٹ کلنگ ہونی چاہیے، مائنس ون ہویا مائںس آل ہو، مائنس جمہوریت نہیں ہوسکتی، جن مسائل کی نشاندہی کی ان کا حل صرف جمہوریت ہے، اگر آمرانہ حل ہے تو یہ پاکستان کو جوڑنے نہیں بلکہ توڑنے کی بات ہے، انہوں نے کہا کہ ہم صرف اس لیے حکومت میں ہیں تاکہ عوام کی خدمت کرسکیں، کسی کے لئے سہولت کاری نہیں کرنا چاہیں گے، اگرہماری حکومت نہ ہوتی تو اٹھارویں ترمیم کب کی ختم ہوچکی ہوتی، ناانصافی کےسامنے کوئی دیوار ہے تو وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن میں ہماری تعداد میں اضافہ ہورہاہے، اب مینگل صاحب کی جماعت بھی اپوزیشن میں گنوائی جارہی ہے، ہم کوئی غیر جمہوری طریقہ نہیں اپنائیں گے لیکن یہ خود بخود گرگئے تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ جس دن سے یہ حکومت میں آئے ہیں ہم ان کا تعاقب کررہے ہیں، الیکشن لڑنا پڑا تو لڑیں گے اور ان کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے