زوال کی سیڑھیاں اترنے والی پیپلز پارٹی

شفا یوسفزئی صحافی
——

1960 کی دہائی پاکستان میں ترقی کا دورانیہ مانا جاتا ہے۔ جنرل ایوب خان کی کابینہ کا ایک ایسا رکن جس کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا، ان کے سیاسی سفر کا آغاز بھی یہیں سے ہوتا ہے۔

انہیں پاکستان میں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا گیا جس نے پہلی مرتبہ عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ جیسا نعرہ لگایا

یہ نعرہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1970 کے انتخابات میں لگایا اور اس کے نتیجے میں مغربی پاکستان میں لینڈ سلائیڈ فتح حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور نعرہ لگایا ’ادھر ہم، ادھر تم۔‘ ان سوشلسٹ نعروں نے بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادیں تو مضبوط کر دیں مگر یہ اور بات ہے کہ ملک کی بنیادیں کمزور ہو گئیں۔ نو سال بعد بھٹو صاحب کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اور پاکستان ایک قابل رہنما سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے وہ پاکستان کے پہلے سیاسی شہید بنتے ہیں۔

پھر بھٹو کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی صاحبزادی بےنظیر بھٹو سامنے آتی ہیں۔ ان کے سیاسی سفرکا آغاز بھٹو کی پھانسی کے بعد مارشل لا کے خلاف جدوجہد سے ہوتا ہے۔ اس دوران بے نظیر کی شادی آصف علی زرداری سے ہوتی ہے جو کہ اس وقت ’بمبینو سینما والے‘ کے نام سے معروف تھے۔ بےنظیر بھٹو اپنی جدوجہد کے نتیجے میں1988 میں انتخابات جیت لیتی ہیں اور پیپلز پارٹی کی حکومت بنتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی اس جماعت کی بدقسمتی جاری رہتی ہے۔ ان کی پہلی حکومت کرپشن کے الزامات پر ختم ہوتی ہے اور اس کے پیچھے وجہ بنتے ہیں آصف علی زرداری۔ پھر پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت بنتی ہے جو 1993 سے 1996 تک قائم رہتی ہے اور اس کے خاتمے کی وجہ ایک بار پھر کرپشن بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں بھی ایک مرتبہ پھر آصف علی زرداری کا نام سامنے آتا ہے۔ یہ انکوائریاں پاکستان کے اس وقت کے احتساب بیورو نے کیں اور نیو یارک ٹائمز کے صحافی جان برنز نے بھی اپنے کالموں میں اس حوالے سے اہم انکشافات کیے۔

پھر آیا جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا جس سے قبل بےنظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے ملک سے باہر جا چکی تھیں۔2007 میں جب بےنظیر بھٹو واپس آتی ہیں تو انہیں بھی شہید کر دیا جاتا ہے۔ اب بی بی کی شہادت کے بعد ہوا کیا؟ اس سانحے کے بعد پیپلز پارٹی کا معیار، نظریہ اور روایات، سب ان کے ساتھ دم توڑ گئیں۔ اگر معیار کی بات کی جائے تو ایک ترقی پسند، آزادانہ اور جمہوری رویہ اس جماعت کی پہچان بنا رہا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن تھی، جس نے اخلاق سے گری ہوئی نہ جانے کون سی باتیں تھیں جو بےنظیر کے بارے میں نہیں کیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کلچر اور سوچ کا اگر موازنہ کیا جائے تو پیپلز پارٹی زیادہ نظریاتی اور اخلاقی و جمہوری اصولوں کو مدنظر رکھنے والی جماعت کے طور پر ممتاز نظر آتی ہے۔

ایک طرف بھٹو صاحب کی جماعت اور بےنظیر بھٹو کی جدوجہد اور اصولوں کو سامنے رکھا جائے اور دوسری جانب آج کی آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی کو دیکھا جائے تو ایک بڑی خلیج دکھائی دیتی ہے۔ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پارٹی کا ایک الگ رنگ نظر آیا اور یہ جماعت آصف علی زرداری کی جھولی میں جا گری جہاں بھتہ خوری، عزیر بلوچ، نثار مورائی، بلدیہ فیکٹری، اسلحے کی تقسیم اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات کی بھرمار ہوتی گئی۔

یہ بھٹو اور بے نظیر کی پیپلز پارٹی ہے جو ایک وقت میں خیبر سے کراچی تک عوام کے دلوں پر راج کیا کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ’بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے پر ان کی پارٹی پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں کہیں نہ کہیں موجود نظر آتے ہیں۔

تاہم زوال کی سیڑھیاں اترنے والی پیپلز پارٹی کے متعلق اگر آج یہ سوال کیا جائے کہ کیا یہ اب بھی بھٹو کی پارٹی ہے تو جواب نفی میں ملتا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی اس وقت بھٹو کی پارٹی نہیں رہی۔ اعتزاز احسن، رضا ربانی اور ان جیسے دیگر معتبر اور سنجیدہ سیاست دان جنہوں نے بحر سیاست کی شناوری میں اپنی عمریں گزار دیں کیا وہ اب عزیر بلوچ، ایان علی اور بھتہ خوری جیسے الزامات میں اس پارٹی کا دفاع کریں گے؟ بےنظیر بھٹو سے آصف زرداری تک کے سفر کے دوران اس جماعت میں ایک نئی کھیپ ابھر کر سامنے آئی ہے جس میں عبدالقادر پٹیل، آغا سراج درانی، شرجیل میمن جیسے لوگ شامل ہیں۔

اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بلاول بھٹو جو باہر سے پڑھ کے آئے ہیں اور جو بے نظیر بھٹو سے سیاست کے گر سیکھتے رہے کیا وہ اب آصف علی زرداری کی سیاست سیکھ گئے ہیں؟ آصف علی زرداری کی صحت خراب ہے اور اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہو جاتا ہے تو کیا بلاول بھٹو آج کی پیپلز پارٹی کو سنبھال سکیں گے؟

ہ بات واضح طور پر نظر آ رہی ہے کہ پارٹی میں جتنے فیصلے ہوتے ہیں وہ آج بھی آصف علی زرداری کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ تو کیا آصف زرداری کے بعد بلاول اس بھاری وزن کا بوجھ اٹھا سکیں گے جو ان پر وراثت کے طور پر لاد دیا گیا ہے؟

ان سے یہ سوالات تو بنتے ہیں کہ آپ کی پارٹی پر سنگین جرائم کے الزامات لگ رہے ہیں، آپ نے کوئی جدوجہد نہیں کی، کوئی نظریہ نہیں متعارف کرایا، کوئی نظریاتی ورکر نہیں بنائے تو پیپلز پارٹی کہاں جائے گی؟ آج کی پیپلز پارٹی صرف نظر آتی ہے مگر یہ نظریاتی نہیں ہے۔

عزیر بلوچ یا نثار مورائی تو صرف مہرے ہیں۔ ان کو سزا ہونا تو بہت معمولی سی بات ہے کیونکہ ایسے کئی عزیر بلوچ آج بھی کسی کے کہنے پر کارروائیاں کر رہے ہوں گے۔ اصل کرتا دھرتا تو وہ ہیں جو ان کی ڈوریں ہلا رہے ہیں۔ اس وقت سب لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ اصل جے آئی ٹی رپورٹ کون سی ہے مگر میرا سوال تو یہ ہے کہ اصل پیپلز پارٹی کون سی ہے؟

یہ تو اللہ بھلا کرے علی حیدر زیدی کا کہ انہوں نےجو باتیں قومی اسمبلی میں کیں اس کے دباؤ میں آکر پیپلز پارٹی نے آخر کار بلدیہ فیکٹری میں ہونے والی بہیمانہ درندگی کی جے آئی ٹی رپورٹ آٹھ سال بعد پبلک تو کی۔ یہ بات تو اپنے اندر اور بھی شرم ناک ہے کہ آپ کے ملک میں ایسا واقعہ ہو جس میں سینکڑوں لوگوں کو اس طرح جلا کے راکھ کر دیا جائے جیسے دوسری عالمی جنگ عظیم کے دوران اوشوئز کے کنسنٹریشن کیمپوں میں لوگوں کو گیس چیمبرز میں جلا دیا جاتا تھا اور پچھلی دونوں حکومتوں نے ان رپورٹوں کو عوام کے سامنے لانا ضروری نہیں سمجھا۔

اب رپورٹیں تو سامنے آ گئی ہیں مگر لگتا ایسا ہے کہ عوام کا اعتماد ان پر مشکل ہی بحال ہو گا
—-
from-Independenturdu-pages.