شاہین ایئرانٹرنیشنل کےخلاف تحقیقات میں منی لانڈرنگ کے شواہد مل گئے

شاہین ایئرانٹرنیشنل کےخلاف تحقیقات میں منی لانڈرنگ کے شواہد مل گئے، شاہین ایئر نے قومی خزانے کو1.4 بلین روپے کا نقصان پہنچایا، ایف آئی اے نے کارپوریٹ کرائم سرکل میں ایک اور مقدمہ درج کرکے یاور محمود کو گرفتار کرلیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے نے شاہین انٹرنیشنل ایئرلائن کے خلاف منی لانڈنگ اور کرپشن کے حوالے سے تحقیقات مزید تیز کردی ہیں۔

تحققیات میں جو پیشرفت سامنے آئی ہے اس کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے کو شاہین ایئرانٹرنیشنل کے خلاف تحقیقات میں منی لانڈرنگ کے شواہد مل گئے ہیں۔ شاہین ایئر نے قومی خزانے کو 1.4 بلین روپے کا نقصان پہنچایا۔ نجی ایئرلائن شاہین انٹرنیشنل نے فلائٹ آپریشن کے چارجز مارچ 2018ء سے سول ایوی ایشن کو نہیں دیے۔

جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہے۔

منی لانڈرنگ کے سلسلے میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے نے کارپوریٹ کرائم سرکل میں ایک اور مقدمہ درج کرکے یاورمحمود کو گرفتار کر لیا ہے۔ واضح رہے ایف آئی اے نے اس سے قبل بھی شاہین ایئر کے 9 ڈائریکٹرز کے خلاف مقدمات درج کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب دوسری جانب پاکستان پی آئی اے سمیت تمام ایئرلائنز کے اندر بھی بھرتیوں کی مد میں کرپشن کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے جعلی لائسنس اور جعلی ڈگریوں کے حامل 642 ملازمین کو گراؤنڈ کرنے کی رپورٹ بھی منظر عام پر آچکی ہے۔
جس میں مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ جعلی پائلٹس کے باعث پوری دنیا میں پی آئی اے کی بدنامی ہوئی ہے۔ کچھ ممالک نے پی آئی اے کے فضائی آپریشن پر پابندی عائد کردی ہے۔ جبکہ پاکستان کے پائلٹس کو بھی غیرملکی ایئرلائن سے فارغ کیا گیا ہے
from-urdupoint-pages.