بچیوں کو بوجھ نہ سمجھیں

صنوبر ناظر
——-

صحافی علی سلمان علوی جیسے مردوں کی اس معاشرے میں کمی نہیں۔ اس نوعیت کے کتنے واقعات ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس طرح کے مرد صرف اپنا مطلب پورا کرتے ہیں اور جب مطلب نکل جاتا ہے تو پھر تمام الزام عورت پر دھر دیتے ہیں کہ وہ عورت تھی ہی خراب۔ علی سلمان علوی نا صرف کئی دیگر خواتین کو سہانے خوب دکھا رہے تھا بلکہ بلیک میل کرکے پیسے بھی اینٹھ رہا تھا۔

جام شورو میں اپنے شوہر اور اس کے بھائی کے ہاتھوں بے دردی سے سنگسار ہونے والی وزیراں کی خبر نے سب کو دہلا کے رکھ دیا۔ غیرت کے نام پر قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔

ہمارے معاشرے میں گھریلو تشدد، جنسی تشدد، غیرت پر قتل اور ہراسانی اب عام سی باتیں ہو گئیں ہیں۔ آئے روز سوشل میڈیا پر مدرسوں اور گھر پر قرآن پاک پڑھانے والے بدبخت ملاؤں کی بچے بچیوں کے ساتھ غلیظ حرکتوں والی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں، تو دوسری جانب خوشحال اور نام نہاد تعلیم یافتہ گھرانوں میں کام کاج کرنے والی غریب بچیوں پر نا صرف جنسی تشدد کیا جاتا ہے بلکہ اکثر جسمانی تشدد اتنا وحشیانہ ہوتا ہے کہ وہ جان سے ہی چلی جاتی ہیں۔

حال ہی میں لاہور کے ایلیٹ اسکول ‘لاہور گرامر’ کی بچیوں نے اپنے اسکول کی انتظامیہ سے اپنے کچھ مرد اساتذہ کے خلاف بارہا شکایات کیں کہ یہ اساتذہ ہمیں جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں لیکن انتظامیہ نے الٹا بچیوں پر ہی الزام لگا دیا کہ آپ لوگ اتنا بن سنور کر اس لئے آتی ہیں کیونکہ آپ کے وہ استاد ایک خوبصورت نوجوان ہیں۔ یعنی قصوروار بچیاں ہیں۔ اصل میں ہمارے ملک کی اکثریت کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کی اس کے لباس کی بنیاد پر عزت یا کردار کشی کرتے ہیں۔ یعنی عبایا اسکارف پہنے والی شریف اور جینز، اسکرٹ، بغیر آستینوں والی قمیض پہننے والی بے حیا۔

2017 میں جب سوشل میڈیا پر ‘می ٹو’ کی مہم چلی تو بڑے بڑے بت دھڑام سے زمین بوس ہوئے۔ اس مہم نے ہر طبقے کی عورت کو کسی نا کسی حوالے سے متاثر کیا اور خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عیاں کیا۔ 2019 کے عورت آزادی مارچ میں ہرطبقے کی عورت کی شمولیت نے ہمارے پدر شاہی سماج کی راتوں کی نیندیں حرام کر دیں، اور ہمارے ملا اور ملا نما مردوں کے غلیظ دماغوں نے سوتے جاگتے سوچنا شروع کردیا کہ کس طرح ان بے لگام عورتوں کو آزادی جیسی بے حیا چیز مانگنے کی پاداش پر کڑی سزا دی جائے۔ آخر کار سارا نزلہ پلے کارڈز پر گرا۔ ‘میرا جسم میری مرضی’ والے بینر پر تو ان گنت لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ بس پھر کیا تھا پرنٹ ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کی بولی بولنے والے سارے شاہ دولا کے چوہے اپنی اپنی رائے دینے لگے۔

اصل میں یہ سب اس بینر کو ‘میرا جسم میری مرضی’کے بجائے ‘میرا جسم دوسروں کی مرضی’ میں تبدیل کرنا چاہتے تھے تاکہ بچے بچیوں کے ساتھ مدرسوں میں ملا جو زیادتی کرتے ہیں وہ سکون سے یہ گھناؤنا جرم سرانجام دیتے رہیں، جو مرد عورتوں پر گھریلو اور جسمانی تشدد کرتے ہیں وہ اسی طرح اپنا تسلط ان پر قائم رکھے رہیں، لاہور گرامر اور اس جیسے تعلیمی اداروں کے مرد اساتذہ اپنی ہی طالبات کے ساتھ نازیبا حرکات بنا کسی خوف کے باآسانی کر سکیں اور کسی بھی عورت کے کردار پر سوالیہ نشان لگا کرغیرت کے نام پر قتل کرنے کا گھناؤنا کھیل جاری رہے۔

بحیثیت قوم اب خدارا ہمیں گھریلو تشدد کو ایک ‘جرم’ مان لینا چاہیے اور اس پر قانون بننا چاہیے لیکن جب بھی اس جرم کے خلاف قانون سازی کی بات کی جاتی ہے تو ملا حضرات شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ یہ تو اسلامی شعائر کے خلاف قانون ہے اور اسمبلی میں بیٹھے شرفاء بھی ان ان ملاؤں کی تان پر سر دھننے لگتے ہیں۔ یہی ملا کہتے نہیں تھکتے کہ اسلام نے عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق دیئے ہیں تو خدا کے بندو! کیوں عورتوں کے حق میں ایک قانون بھی پاس نہیں ہونے دیتے۔

اس کے علاوہ بیٹیوں کے والدین سے بھی گزارش ہے کہ اپنی بچیوں کو نہ بوجھ سمجھیں نہ پرایا مال۔ ان پر بھروسہ کریں تاکہ وہ بلا جھجھک آپ سے اپنی اچھی بری بات شئیر کر سکیں۔ ورنہ روز کوئی نا کوئی صدف،علی سلمان علوی جیسے مردوں کے تشدد کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی رہے گی
—–
from -humsub-pages