تمہارے6 وزیراعظم بنے پھر رہے ہیں۔ آپ کو18ویں ترمیم، صدارتی نظام کی پڑی ہے

مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے حکومتی وزراء کو چیلنج کیا ہے کہ ثابت کریں کہ میں نے پی آئی اے میں کوئی رشتہ دار بھرتی کروایا ہو، اگر ثابت کردیں تو میں استعفیٰ دے دوں گا، تین وزراء نے میرا نام لے کر کہا کہ پی آئی اے میری وجہ سے تباہ ہوگئی،وفاقی وزراء بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تین وزراء شبلی فراز اور دوسرے علی زیدی اور احتساب اکبر بھی تھے، ان وزراء نے میرا نام لے کر کہا کہ پی آئی اے اس لیے تباہ ہوگئی کہ میں نے پی آئی اے میں بھرتیاں کروائیں، پھر دوسرے روز فواد چودھری نے کہا کہ میں نے پی آئی اے میں رشتے دار بھرتی کروائے، میں سوچ رہا تھا ۔


میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرا کوئی ایک بھائی، ایک کزن، ایک رشتہ دار پی آئی اے میں ہو، میں استعفیٰ دے دوں گا، اگر ثابت نہ کرسکے تو اپنا منہ کالا کرلیں۔

پھر کہتے ہیں کہ یوٹیوب میں ہے، بھئی یوٹیوب میں آپ لوگوں کے بارے بہت کچھ ہے، ہم تو ان باتوں میں پڑتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے ہینڈل کچھ ہو نہیں رہا، اور چلے صدارتی نظام نافذ کروانا چاہتے ہیں۔

تمہارے6 وزیراعظم بنے پھر رہے ہیں۔ آپ کو18ویں ترمیم، صدارتی نظام کی پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اور ریلوے خسارے میں جا رہے ہیں۔ اگر کسی کی جعلی ڈگری ہے تو اسے بےشک نکال دیں۔
کیسی کیسی کرپشن ہو رہی ہے ، یہ جیلوں میں ہوں گے۔ مزید برآں سینیٹ میں این ایف سی ایوارڈ میں آئینی ترمیم کیلئے بل پیش کرنے کی تحریک مسترد کردی گئی۔ سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف کو آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی نے بل پیش کرنے کی حمایت کی۔ جبکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام ف نے بل کی مخالفت کی۔ بی این پی مینگل، پی کے میپ، نیشنل پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں کی بل نے بھی مخالفت کی