رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کو انڈسٹری قرار دینے کے لئے وزیراعظم کی بلائی گئی میٹنگ کے فیصلوں کا خیر مقدم”

“رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کو انڈسٹری قرار دینے اور وفاقی حکومتی وعدے کے مطابق گھروں کی تعمیرات میں مراعاتی فیصلوں پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے وزیراعظم کی بلائی گئی میٹنگ کے فیصلوں کا خیر مقدم”، اللّٰہ کرے ان فیصلوں پر جلد عمل درآمد ہو ، واقعی کام ہو اور متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو گھر مل جائیں ، کاش کہ خان صاحب حکومت میں آتے ہی اس پر بھر پور طریقے سے دلچسپی لے کر اسی وقت یہ سب کچھ کرتے جو اب کر رہے ہیں، جس کا کراچی آ کر الیکشن سے قبل آباد ہاؤس میں وعدہ کر کے گئے تھے، تو آج کنسٹرکشن انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہوتی اور ملکی معیشت میں اہم رول ادا کر رہی ہوتی، کرونا کے دباؤ کے دوران کئے فیصلے پر انویسٹر اور اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کی وجہ سے ابھی تک کوئی بزنس مو منٹم تو نہیں بن سکی ہے – حقیقتاً پی ٹی آئی کے بڑے سپورٹرز اسی شعبے سے وابستہ شخصیات مثلاً فردوس شمیم نقوی، عارف حبیب اور عقیل کریم ڈھیڈی جیسے لوگ اور اس شعبہ کا منتخب ادارہ “آباد” اسپر مستقل کوششیں اور دباؤ نہ ڈالتے تو یہ فیصلے بھی ہونا مشکل تھےاور سب سے بڑی بات میڈیا کا مستقل دباؤ نہ ہوتا تو بھی یہ ممکن نہیں ہوتا – مجھے اپنے زندگی بھر کے تجربات ( میں 1987 سے اس شعبہ میں ہوں) کی روشنی میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ قوتیں ایسی اس ملک میں ہیں جو اس شعبہ میں کچھ ہونے نہیں دینا چاہتی، کئے گئے فیصلوں پر بھی رکاوٹیں ڈالتی ہیں، خان صاحب کو جلدی جلدی انتہائی حکمت کے ساتھ ان فیصلوں پر عمل درآمد کرانا ہو گا- تو شاید کچھ عرصہ میں اس کے نتائج برآمد ہونا شروع ہو جائیں- عبد الستار شیخ،( صدر رئیل اسٹیٹ پروفیشنلز فورم)