مسائل اور کٹھن حالات کا مثبت حکمت عملی سے سامنا کیا، ڈاکٹر فیض عباسی

داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے کہا ہےکہ لاک ڈاؤن کے دور نے جامعات میں ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اُجاگر کردیا ہے ، ٹیکنالوجی ناگزیر ہےجس کے بغیر ترقی کا سفر ناممکن ہے ، اپنے7 سالہ دور میں بہت سے مسائل اور کٹھن حالات کا سامنا کیا تاہم ہر منفی سوچ کا مثبت حکمت عملی سے سامنا کیا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر ’ 2013ء سے 2020ء تبدیلی کادور :اچھے سے عظیم ترین کا سفر ‘ کے عنوان سے لائیو سیشن کےدوران گفتگو کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد یونیورسٹی کے طلباء سید حماد علی اور عروج مقصود نے کیا اور سوالات پوچھے۔ ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے مزید کہا کہ جامعہ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹریز بنا دیں ، انفرااسٹرکچر بہتر کردیا ، چار منزلہ عمارت میں لفٹ نصاب کردی، عوامی وائس چانسلر ہوں ، تمام فیکلٹی ارکان، ملازمین اور بالخصوص طلباء سے بہترین تعلقات ہیں اور انہیں پیغام دیتا رہتا ہوں کہ ہمیں ادارے کی ترقی کیلئے مل کر رہنا ہوگا۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ قابل اور باصلاحیت ٹیم تشکیل دیدی ہے ، جو یونیورسٹی مزید ترقیوں کی راہ پر لیکر جائیگی ، طلباء کی آنکھوں میں اپنے لئے بہت پیار دیکھتا ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے، طلباء کو اپنے بچوں کی طرح رکھتا ہوں ، ان کی بد نظمی کے باوجود انہیں عزت و احترام دیتا ہوں تاکہ وہ یونیورسٹی جیسے عظیم ادارے کیلئے دل و جان سے کام کریں ، جامعہ اور ملک کانام روشن کریں ، مستقبل میں جب نوجوان ہماری جگہ پر ہوں گے تو مجھے امید ہے کہ و ہ پاکستان کیلئے بہترین کام کرسکیں گے ۔ ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے مزید کہا کہ نوجوانوں کے پاس معلومات کا خزانہ ہے ، انہیں ابلاغ کے تبادلے کے جو ذرائع دستیاب ہیں وہ ہمیںنہیں تھے لیکن ہم نے اچھی کارکردگی دکھائی لیکن جب آج کا نوجوان کسی انتظامی عہدے پر پہنچے گا تو ملکی ترقی کیلئے زیادہ اچھا اور فعال کردار ادا کرسکے گا۔