حکومت کے امدادی چیک اور صحافیوں کی ”وہی بوٹے “ والی وصولی

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت جب سے آئی ہے ، اس کی صحافیوں کے ساتھ بنی نہیں ٹھنی دکھائی دیتی ہے حالانکہ حکومت بنتے ہی ایسے اشارے ملے تھے کہ میڈیا کارکنوں اور اندسٹری کو درپیش مسائل خاص طور پر معاشی مسائل حل ہونگے ، پی ٹی آئی کے خالص ٹکٹ پروفاق اور پنجاب کے اطلاعات کے وزیر بننے والے فواد حسین چودھری اور فیاض الحسن چوہان نے ایسے کئی بیانات داغے جن سے مسائل حل ہونے کے بجائے الجھ گئے ، پھر دونوں ہی اپنی وزارتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، فیاض الحسن چوہان دوبارہ پنجاب میں وزیراطلاعات بنادیے گئے لیکن فواد چودھری کی وزارتِ اطلاعات الیکشن میں خواص کی ہر دلعزیز ہونے کے باوجود شکست کا سامنا کرنے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو سونپ دی گئی جنہوں نے اسے اپنے انداز سے چلایا ، وہ صحافیوں کے ساتھ خاصی فرینک ہیں ، آج سے نہیں ،جب لاہور کی سڑکوں، محفلوں میں معروف اور مسلم لیگ ن کی ورکر ہوا کرتی تھیں ، پرویز مشرف کی آمریت میں وہ مسلم ق کو پیاری ہوگئیں ، وقت گذرنے پر رانجھا بدل گیا اور یہ پیار پاکستان پیپلز پارٹی کے عشق میں بدل گیا ، لیکن پیپلز پارٹی کے انتخابی زوال نے پھر ڈھولا اور ڈھول بدل دیے اور وہ بلا پکڑے میدان میں آگئیں لیکن انتخابی نتائج میں بلے کی مُٹھی ہاتھ میں رہ گئی اور وہ آﺅٹ ہوکر باہر بیٹھ گئیں ، اب پیارے کھلاڑی کو کتنی دیر گراﺅنڈ سے باہر رکھا جاسکتا تھا، انہیں وزارتِ اطلاعات کی مشیر کے نام پر وزیر بنادیا گیا کیونکہ اسی دوران یہ قلمدان کسی کو نہیں دیا گیا تھا نہ ہی کسی کو وزیر مملکت بنایا گیا تھا، فردوس اعوان نے معاملات کو حکومت کے حق میں سنبھال لیا ، پھروہ بھی آﺅٹ ہوگئیں اور شبلی فراز کو وزیر بنا کر عاصم باجوہ کو ”فردوس اعوان “ بنادیا گیا۔
کئی دوسرے لوگوں کی طرح میرا بھی خیال تھا کہ سابق حکمرانوں نے لمبی اننگ کھیلی ہے اور صحافیوں کو شائد ابھی پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت ہضم نہیں ہورہی اور کچھ کو سابقین کی کچھ نمک حلالی بھی مقصود ہو جو حکومت اورمیڈیا کارکنوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کی راہ میں حائل ہورہی ہو، یہ تو اپنے ہم پیشہ ساتھیوں کے بارے میں گمان تھا، حکومت کے خیالات اور ایجنڈا زیربحث لانے سے لگتا کہ شائد میں بھی کبھی سابق حکمرانوں کا نمک خوار رہاں ہوں گا حالانکہ ایسا حقیقت اس کے برعکس ہے اور کبھی ایسا نمک چکھنے کی اپنی ذات کے ساتھ گستاخی کی نہ ہی کسی حاکم کو ایسا سوچنے کی جرات دی ، اس لئے کسی کا رعب یا احسان نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دوسروں کے مراتب سے مرعوب ہونے کی لعنت سے محفوظ ہوں ۔
دنیا بھر کی طرح کرونا وباءکے منفی اثرات نے پاکستانی معیشت بھی جھنجھوڑ دی ، میڈیا ورکرز بھی متاثر ہوئے ۔ حکومت کو خیال آیا کہ میڈیا ورکرز بھی پاکستانی ہیں اور ہر محنت کش کی طرح سب سے زیادہ اِن ڈائریکٹ ٹیکس دینے والوں میں شامل ہیں ۔ ان کی بھی کچھ نہ کچھ معاونت کرنا چاہئے ، صحافیوں کو بھی کرونا ریلیف پیکیج دینے کا اعلان کیا گیا اور فرنٹ لائن سولجر کی فہرست سے نکال کر دور پچھلی صفوں میں پندہرویں کھلاڑی کی طرح سلوک کیا گیا۔ میں ابھی وزیر اطلاعات کی خبر لگا کر پریس کلب لوٹا ہی تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میری نظر سے گذری ، لکھا تھا کہ وزیراطلاعات کی طر سے لاہور پریس کلب کے کیلئے دیا جانے والا امدادی چیک راولپنڈی یونین کے سیکرٹری آصف بھٹی نے وصول کیا ہے وہ شکریے کے ساتھ وزارتِ اطلاعات میں واپس جمع کروادیں گے ۔ تب تک چیک کی رقم میرے علم میں نہیں تھی ، مجھے لگا پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے غصے میں چیک واپس کردیا ہے لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ میر خلیل لرحمان کی رہائی نہ ہونے پر اپنے ووٹرز کا امدادی چیک واپس کریں ؟ میر شکیل سے وابستگی اپنی جگہ ، ووٹرز کی اہمیت اپنی جگہ ، ووٹرز نے ساتھ چلنا ہے ۔ میر شکیل سے وابستگی آج ہے کل نہیں بھی ہوسکتی ، اس شعبے میں کون کس وقت کس سے الگ ہوجائے یا کردیا جائے کوئی اصول ضابطہ یا اکلاقیات تھوڑی دیکھی جاتی ہیں اور پھر میر شکیل نے تو ہمیشہ ہی اخلاقیات کا جنازہ نکالا ہے ۔ اس لئے میر شکیل سے وابستگی کی بنیاد پر چیک واپس کرنے کا خیال میں نے خود ہی باطل قرار دیکر رد کردیا ۔ چیک کے حوالے سے معلومات اکٹھی کررہا تھاجس دوران کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان اور پھر کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران نے بھی چیک واپس کرنے کی اطلاع دی ۔ انہوں نے بھی لاہور پریس کلب کے اس موقف کی تائید کی کہ صوبائی دارالحکومتوں کے فعال ترین اور بڑی ”آبادی “والے پریس کلبوں کو دس دس لاکھ کا چیک دینے کا مطلب یہ ہوا کہ دس لوگوں کو اکاموڈیٹ کیا جائے ، یہ کمیونٹی کی اجتماعی اماد تق قرار نہیں دی جاسکتی کسی کو منہ بند کرنے کے لئے مونگ پھلی کا دانہ کہا جاسکتا تاکہ یہ نعرہ لگایا جاسکے کہ ہم نے تو صحافیوں کو بھی امداد دی ہے ۔
چیک دینے کی تقریب اسلام آباد میں ہوئی تھی جس میں اطلاعات و نشریات کو وزیر شبلی فراز نے بڑے فخر( ویسے بُو ر عونت کی تھی) صحافیوں کی مدد کرکے بڑی خوش محسوس کررہا ہوں ، ان کے یہ الفاظ کہیں بھی چغلی نہیں کھا رہے تھے کہ وہ ایک رومانوی شاعر کا خون ہیں ، ارشد انصاری ، امتیاز فاران ، رضا الرحمان نے تو کمیونٹی کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے بڑے احترام کے ساتھ سادہ الفاظ میں چیک واپس کیئے ، میں ہوتا تو احمد فراز کے اس اثاثے کو حبیب جالب ، کے انداز میں یا عبیر ابو ذرکے انداز میں وصولی سے انکار ’عرض ‘کرتا یا پھر امام دین سے کہتا کہ جاﺅ ذرا فراز پنجابی’ ٹپہ“ سنا کے آﺅ ۔ حکومت کو باور کرواﺅ اب تو ووٹوں کی گنتی درست کرلو اور اس میں لاہور پریس کلب کے تین ہزار سے زائد ووٹ بھی شامل کرلو اور یقین جان کہ اس گنتی کے دوران سسٹم ’بیٹھا‘ نہیں ۔ یہ آبادی بیٹھنے والی ہے ۔
ارشد انصاری نے چیک واپس کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام میں سب کی نمائندگی کی جسے عام آدمی کی نظر میں تحریکِ انصاف کی حکومت پر تنقید اور اس سے ناانصافی کہا جاسکتا ہے حالانکہ میں اسے تنقیدنہیں سمجھتا بلکہ میرا خیال ہے کہ تحریکِ انصاف کی قیادت کی بحیثیت ِ مجموعی سوچ ،ذہنیت اور بصیرت کو واضح کیا گیا ہے ۔
عام میڈیا کارکن کی حیثیت سے اگر پی ٹی آئی کی مجموعی بصیرت کا جائزہ جائے تو لمبی چوڑی گفتگو کے بجائے قائدین ، وزیروں مشیروں اور معاونین کے رویے ہی سے واضح ہوجاتا ہے ، سب کے سب کھلنڈرے دکھائی دیتے ہیں ، ایسے کھلنڈرے کھلاڑی جنھوں نے طے کررکھا ہوکہ اپنی باری لے کر بھاگ جانا ہے ، جو نہیں بھاگیں گے وہ فیلڈنگ کریں گے اور جو فیلڈنگ کے لئے مس فٹ ہونگے ناکارہقراردیکر میدان سے نکال دیے جائیں گے ، بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے باری لیکر بھاگتے ہوئے بلے مار کر پِچ ہی خراب کرجائیں جبکہ یہ اناڑی کھلاڑیوں کے دھمکا چوکڑیوں سے خراب ہو بھی رہی ہے۔ کھلڈرے وہلوگ بھی ہیں صحافی کہلاتے ہیں یا صحافیوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ، کچھ اصل صحافی بھی کبھی کبھی کھلنڈرے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن انہیں ان کے اپنے ساتھی ہی ” برابر‘ ‘ کردیتے ہیں لیکن یہ باہمی محاسبہ صرف صحافی میں ہی ہوتا ہے ، حکمرانوں اور باہمی تعاون پر یقین رکھنے والے سیاستدانوں میں نہیں ہوتا ، ان کی ’نانی ‘ سانجھی ہوتی ہے بلکہ نانی کے بجائے ”نانا“ کہنا چاہئے کیونکہ مفاد مونث نہیں مذکر ہے ۔
امدادی چیکوں پر درج رقم اپوزیشن کے وہ سخت جملے(میں اپنے مخالفین کے لئے بھی استعمال کرنا اخلاقیات کے منافی سمجھتاہوں )چندہ اکٹھا کرنے والے ،جھولی پھیلانے والے ہاتھ بھکاریوں کے ہاتھ بن جاتے ہیں ،وہ کسی کو کچھ دیتے وقت بھلا کشادہ کیسے ہوسکتے ہیں ؟ بلکہ بھکاریوں کی سی نفسیات کے حامل ہونگے۔ اپوزیشن اگر اپنے مخالف حکمرانوں کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرتی ہے تو کرے ، ہمارا بھلا ان الفاظ سے کیا تعلق ، ؟ ہم صحافی تو عوام کے غیر منتخب (اگر حقیقی نمائندگی کریں تو) نمائندے کی حیثیت سے ان کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتے ہیں ،ہمارے تو بلا امتیاز ہر وہ شخص اچھا نہیں ہے جو جو قوم و ملک کے لئے اچھا نہ سوچتا ہو جبکہ اچھا سوچنے والے کے اقتدار ، مال و زر ، مذہب ، عقیدے میں فرق نہیں رکھتے ، صرف انسانیت اور انسانیت کے لئے درد کو احترام دیتے ہیں ، یہ ملک صرف مسلمانوں نے نہیں بنایا ، اقلیتوں اور خاص طورپر مسیحی برادری کا ہم کردار ہے ، اچھی سوچ رکھنے والے سبھی لوگ بہت محترم ہیں ۔
میں اپنے سارے دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ چیکوں اور حکمرانوں کی ذہنیت پر گفتگو بند کردی جائے کیونکہ دلائل بمطابق سعور دیے جاتے ہیں ، میجسٹریتٹ کے سامنے اور سپریم کورٹ کے روبرو دلائل ایک جیسے ہرگز نہیں ہوسکتے ۔ شکوے بھی بحساب تعلقات ہوتے ہیں ، حکمرانوں کے بارے میں بات کرتے وقت بھی ان کی بصریت پیشِ نظر رہنا چاہئے پی ٹی آئی میں اور دوسری جماعتوں کے درمیان فرق محسوس کریں ، ان کی تاریخ اور سیاسی جدوجہد آپ کی رہنمائی کرے گی ۔
مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور کارکنوں کو ویج بورڈ بنوانے کے لئے ملک گیر احتجاج کےلئے اسلام آباد میں پڑاﺅ کئلئے جانا پڑا تھا ایم کیو ایم نے ویج بورڈ کے معاملے میں گو کہ کارکنوں کو ہمیشہ تعاون کی یقین دہانی کروائی لیکن صحافیوں پر ”سخت مہربان“ بھی رہی ، سختی سے محفوظ رہی تو وہ مسلم لیگ قائداعظم ہے جس نے بلا تفریق صحافیوں کی رہائش کا مسئلہ حل کیا، لیکن پرویز الٰہی کا منصوبہ ہونے کی وجہ سے ن لیگ نے کالونی مشکلات ختم نہ کیں ،
صحافت کی آزادی کا نعرہ ہر سیاسی جماعت نے لگایا لیکن اس وقت جب اقتدار اس کی مخالف جماعت یا کسی اور کے پاس تھا یعنی یہ نعرہ اپوزیشن میں ہی بھلا لگتا ہے ۔ صحافی تو ”سادہ‘ ہوشیار ہیں ، دوسرے الفاظ میں بس مجبور ہیں اور اس مجبوری کی وجہ نااتفاقی کے ساتھ ساتھ اپنے کریڈینشل چھوڑنا بھی ہے، وہ کریڈنشل جن کی تاریخ قربانیوں سے تعبیر ہے اور اب ہم سے دور ہیں ، بالکل سیاسی جماعتوں کی طرح جیسے وہ اپنے منشور کو اپنے اقتدار کا دشمن سمجھتی ہیں۔
صحافی اور میڈیا کارکن امدادی چیکوں کی طرف نہیں اپنے کردار ، محنت اور اللہ کی طرف دیکھیں