مجھے ابھی طارق ابو الحسن نے مسعود انور کا یہ آرٹیکل بھجا ہے

بھائی قاضی عمران کا قاتل کون

قاضی عمران بلڈ پریشر ، شوگر اور دل کے عارضے میں مبتلا تھا ۔ ان عارضوں میں کیوں مبتلا تھا ، اسے معلوم کرنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے ۔ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس پر اتنا ذہنی دباو تھا کہ tension اور stress کے باعث ا ن بیماریوں میں مبتلا ہونا فطری امر تھا ۔

جسارت سے اسے جتنی تنخواہ ملتی تھی ، اس سے گھر کا کرایہ ہی بہ مشکل پورا ہوپاتا تھا ، پھر بچوں کے اسکولوں کی فیسیں ، بجلی گیس کے بل اور دیگر مصارف اس کے علاوہ تھے ، جنہیں دیگر حلال ذرائع سے پورا کرنے کے لیے وہ دن رات مصروف رہتا تھا ۔ جسارت میں تنخواہ ایک ماہ تاخیر سے ملنا معمولات میں شامل ہے جس کی وجہ سے وہ اکثر پریشان رہتا تھا کہ گھر کا کرایہ کیسے ادا کروں ۔ یہ مرد کی خاصیت ہے کہ اپنی ضرورت ترجیحات میں سب سے آخر میں ، یوں وہ اکثر کئی کئی ہفتے بغیر دواو ں کے رہتا ۔ اس کا نتیجہ جمعرات کو نکلا کہ بلڈ پریشر قابو میں نہیں تھا اور اس سے دماغ کی کمزور رگ پھٹ گئی اور یوں وہ برین ہیمبریج کا شکار ہوکر اسپتال پہنچا اور پھر کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا۔ وہ جمعہ کی صبح خالق حقیقی سے جاملا۔

قاضی عمران کی قاتل جسارت کی انتظامیہ بھی ہے جو جان بوجھ کر تنخواہیں بروقت ادا نہیں کرتی ۔ جسارت کی انتظامیہ کی توجہ بار بار اس طرف دلائی گئی کہ جہاں سے ایک ماہ بعد تنخواہ کا انتظام کرتے ہیں ، وہیں سے ایک ماہ پہلے کرلیا کریں ۔ مگر ان کے پاس منافقانہ مسکراہٹ کے علاوہ کوئی جواب نہیں ۔قاضی عمران نے جسارت کے شعبہ اشتہارات کے ساتھ مل کر کام شروع کیا مگر طاہر اکبر اس کے پیسے ہی مار گئے ۔قاضی عمران نے سب سے بہت اپیل کی مگر ڈاکٹر واسع شاکر کے پاس فرصت ہی نہیں تھی ۔

قاضی عمران کے قاتل ڈاکٹر واسع شاکر بھی ہیں کہ ان کے پاس نہ وقت ہے ، نہ اہلیت ، نہ قوت فیصلہ اور نہ ہی کوئی انتظامی فیصلہ نافذ کرنے کی اہلیت و ہمت ، اس کے باوجود جسارت سمیت درجنوں پروجیکٹ کے سربراہ ہیں ۔ ان کے پاس کسی مسئلے کو حل کرنے کا وقت ہے اور نہ ہی ہمت ۔جن لوگوں نے انہیں سربراہ بنایا ہے ، وہ سب بھی ان کے فیصلوں کے ذمہ دار ہیں ۔ اس وقت جسارت کے نصف درجن کارکنان شدید بیمار ہیں ، بار بار درخواست کرتے رہے ہیں کہ انہیں الخدمت میں علاج کی سہولت اور مفت کورونا ٹیسٹ کی سہولت فراہم کردی جائے مگر جواب ندارد۔

قاضی عمران کی قاتل جماعت اسلامی کراچی بھی ہے ۔ گزشتہ چھ برسوں سے میں اور مظفر اعجاز بار بار درخواست کرتے رہے ہیں کہ جسارت کے کارکنان کو الخدمت کے اسپتالوں میں مفت یا رعایتی علاج کی سہولت فراہم کی جائے ۔ حافظ نعیم الرحمن کے پاس اس طرح کے کسی فیصلے کا وقت ہی نہیں ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن کی توجہ میں نے اور مظفر اعجاز نے بار بار اس طرف دلائی کہ جس کم از کم تنخواہ کا مطالبہ سراج الحق کرتے ہیں ، وہ کم از کم تنخواہ جسارت میں تو نافذ کی جائے ۔ گزشتہ رمضان سے لے کر اب تک چار مرتبہ ان سے یہ درخواست کی مگر ان کے پاس بھی منافقانہ مسکراہٹ کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں ۔

قاضی عمران کی قاتل این ایل ایف کراچی بھی ہے ۔ ابھی جون میں بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے جب این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان نے کم از کم تنخواہ کا مطالبہ کیا ، تو میں نے ان سے درخواست کی کہ اس کا اطلاق جسارت پر بھی کروایا جائے ۔ خالد خان نے یہ بات مان لی اور فرمائش کی کہ این ایل ایف پر ایک اداریہ لکھ دیا جائے ۔ ان کی فرمائش پراگلے دن کے جسارت میں شذرہ تھا مگر خالد خان اپنا وعدہ بھول چکے تھے ۔ ایک ہفتہ قبل خالد خان سے ادارہ نور حق میں ملاقات ہوئی ، خالد خان اور حافظ نعیم الرحمن کو پھر یہ وعدہ یاد دلایا تو دونوں کے پاس صرف منافقانہ مسکراہٹ تھی ۔ کردیں گے ، کردیں گے جیسا رٹا رٹایا جواب

قاضی عمران کی قاتل نظم حلقہ صحافت بھی ہے ۔ ان مسائل کی طرف بار بار ان کی توجہ دلائی اور گزارش کی کہ اس مسئلے پر جماعت اسلامی کراچی سے بات کی جائے مگر نظم حلقہ صحافت کا خیال ہے کہ اس کا کام محض درس و تدریس ہے ۔ اور بس

قاضی عمران کی قاتل کراچی یونین آف جرنلسٹ بھی ہے ۔ اس کی قیادت کو بھی بار بار اس بارے میں کہا گیا ، دباو بھی ڈالا گیا مگر یہ قیادت بھی ٹس سے مس نہ ہوئی

قاضی عمران تو چلا گیا ۔ مذکورہ بالا افراد کو بھی اپنے رب کے ہاں جانا ہے ۔ وہاں پر جزا و سزا کا بھی دن آئے گا۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جو دین کے نام لیوا ہیں ۔ روز اپنے درس میں بتاتے ہیں کہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرگیا ، تو اس کا جواب مجھ سے لیا جائے گا۔ اگر رب پر یقین ہے اور روز جزا و سزا پر بھی تو پھر سوچ لیں کہ کیا جواب دیں گے ۔ پوزیشن اور امارت کے لیے سازشیں یہاں تو کامیاب ہوسکتی ہیں مگر اللہ کے ہاں ذمہ داریوں کا جواب دینا ہے ۔

مسعود انور