مار، عورت کا اصل زیور؟

ندا ڈھلوں
———-

ہمارے ہاں سونے کی قیمت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے چو نکہ مرد حضرات اپنی خواتین کو سونے سے سجا تو نہیں سکتے، اس لئے وہ ان کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے جسم، چہروں پر نیل کے نشانات سے دن بدن ان کو سجا لیتے ہیں۔ حق ہے بھئی مرد کا کہ وہ جیسے چاہے جس طرح چاہے اپنے گھر میں رہنے والی عورت کی خدمت سیوا کر سکتا ہے۔ کیو نکہ وہ ہی تو عورت کا اصل محافظ ہو تا ہے اور محافظ بہتر طریقے سے جانتا ہے کہ اسے اپنی چار دیواری میں رہنے والی عورت کو کیسے اس کی اصل ”جگہ“ پر رکھنا ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک صاحب اپنی گھر والی کو بہت مارتے تھے اتنا تشدد کرتے تھے کہ گھر والی بے چاری مار کھاتے کھاتے بے ہوش ہو جایا کر تی تھی۔ تب صاحب بہادر کو اپنی گھر والی پر ترس آ تا تھا اور وہ ان کی جان بخشی کر دیا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی میرے ساتھ میری کلاس میں پڑھتی تھی تو جس دن اس کی ماں کو مار پڑتی تھی وہ بچی دوسرے دن کلاس میں سارا دن مسکراتے ہوئے رہتی تھی۔ مجھے اس کے رویے پر بڑی حیرت ہو تی تھی کہ ماں کو کل ہی اتنی مار پڑی ہے اور آج اس کی بیٹی خوش ہو رہی ہے۔

ایک دن مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اس کی مسکرانے کی و جہ پوچھ لی ’وہ کہنے لگی کہ مجھے افسوس ہو تا ہے کہ جب میری ماں کو مار پڑتی ہے‘ ۔ مگر مجھے اس وقت ایک خوشی بھی ہوتی ہے جس خوشی کی و جہ سے میں اگلا سارا دن سکول میں مسکراتی رہتی ہوں۔ میں نے پو چھا کیا خوشی ہو تی ہے تو کہنے لگی کہ جس دن ماں کو مار پڑتی ہے اس سے اگلے دن ابو گائے کا گوشت پکانے کے لئے لاتے ہیں۔ کیو نکہ وہ ان کو مناتے ہیں اور امی مان جاتیں ہیں اور مزیدار گو شت کھانے کو ملتا ہے۔ میں نے اس سے پو چھا کہ اگر کل کو تمہارا میاں بھی ایسے تمہیں مارے اور پھر دوسرے دن نخرے اٹھائے تو تم کیا ایسے ہی خوش ہو نگی۔ تو وہ کہنے لگی کہ میری امی کہتی ہیں کہ میاں مہینے کے انتیس دن پیار کر تا ہے اگر ایک دن ہاتھ اٹھا لیتا ہے تو عورت کو مار برداشت کر لینی چاہیے۔

اس کی بات سن کر مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی اور میں نے سوچا کہ اس کی امی ان پڑھ اور خود مختار نہیں ہیں اس لیے ان جیسی عورتوں کو دبانا اور مارنا آ سان ہو تا ہے۔ مگر آج میں جب اپنے ارد گرد پڑھی لکھی، باشعور، خود کما کر اپنے خاندان کو پالنے والی خواتین کو مرد کے ہاتھوں پٹتے ہوئے دیکھتی ہوں تو میں یہ سو چنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ عورت پر ہاتھ اٹھانے والے مرد کے لئے وہ ہمیشہ سے ہی ایزی ٹارگٹ رہی ہے۔

وہ چاہے سارا دن گھر پر جھاڑو پونچھا کرے، یا دفتر میں کام کر کہ اپنے خاندان کو سپورٹ کرے وہ پھر بھی مرد کے ہاتھوں ذلیل ہو نے سے نہیں بچ سکتی۔ جب مرد اس کو رہنے کے لئے گھر، اور اپنا نام دیتا ہے تو اس کے بدلے کیا ہے کہ وہ مہینے میں ایک یا دو بار اس کی چھترول کر دے۔ اور اگر اس سے پو چھا جائے کہ ہاتھ کیوں اٹھا یا تو کہے کہ کافی دنوں سے اس کا دماغ کافی خراب تھا میں نے تو صرف اس کو اس کی اصل جگہ بتائی ہے۔

ہمارے ہاں تمام خواتین ہی کسی نہ کسی طرح کے تشدد کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ مگر اس تشدد کی شکل بدلتی رہتی ہے کبھی یہ جسمانی، کبھی ذہنی، کبھی جذباتی ہوتا ہے۔ ہراساں کرنا، بے عزت کر نا، اپنی مرضی سے جینے، پڑھنے، آگے بڑھنے، وراثت میں حق نہ دینا، یہ سب بھی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے، باشعور مرد حضرات بھی اپنی خواتین پر بڑے دھڑلے کے ساتھ یہ تشدد کرتے نظر آتے ہیں۔

انسان کو اپنی ہر جنگ جیتنے کے لئے اپنے آپ کو ہر طرح کے ہتھیار سے خود لیس کرنا ہو تا ہے کوئی آپ کی جنگ نہیں لڑتا۔ جنگ میں ہر فوجی صرف اور صرف فوجی ہے اس میں مرد یا عورت کا فرق نہیں ہو تا۔ اسی طرح آپ کی زند گی میں آپ ایسے فوجی ہیں کہ جنگ کی ساری جیت ہی آپ پر منحصر ہے۔ اس لئے بچیوں کو بچپن سے ہی سکھایا جانا چاہیے کہ چاہے وہ کوئی رشتہ، یا جاب، جو بھی ہو اگر تمہاری عزت نفس، تمہاری سوچوں، اور تمہارے جسم، کو نقصان پہنچا رہی ہے اس کو چھوڑ دو اور زند گی میں آگے بڑھ جاؤ۔

اس آگے بڑھنے میں بہت مشکلیں آئیں گی، چو ٹیں بھی لگے گی مگر جیت تمہاری ہی ہو گی۔ کسی بھی کوئی حق نہیں ہے کہ کوئی تمہیں تمہاری اصل جگہ دکھائے۔ تمہیں خود اپنی جگہ کے بارے میں کبھی بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہو نا چاہیے۔ اگر ہم اس تشدد سے چھٹکارا حاصل کر نا چاہتے ہیں تو اپنی بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح تعلیم دلوائیں اور ایک آزاد خود مختار انسان بنائیں۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے سپوتوں کو یہ سکھائیں کہ مار پر درد سب کو ہی ہو تی ہے۔ اگر کل اپنی بہن، بیٹی، بیوی، پر ہاتھ اٹھانے لگو تو خود کو مار کر دیکھ لینا۔ اس سے تمہارا غصہ بھی نکل جائے گا اور دوسرے بھی تمہارے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔ سب سے بڑھ کر برابری اور انسانی بنیادوں پر اپنے بچوں کی پر ورش کر کے دوسروں اور اپنی زندگیوں کو مشکلوں سے بچائیں
——
from-humsub-pages