تعلیمی نظام، لاک ڈاؤن اور والدین کی الجھنیں

منہا حیدر
————
لاک ڈاؤن کے آغاز سے ہی سکولوں کی آنلائن کلاسز کے بارے میں کچھ مبہم سی آوازیں سننے کو ملیں، جیسے جیسے لاک ڈاؤن کا دورانیہ بڑھتا گیا تو ہوم سکولنگ کی اصطلاح بھی سنائی دینے لگی۔ ہوم سکولنگ میں والدین بچوں کو سکول کی آنلائن کلاسز کی بجائے گھر پہ خود یا کسی ٹیوٹر سے پڑھوانے پر ترجیح دیتے ہیں اور سکول سے بچے کا نام خارج کروا دیتے ہیں۔ تعلیمی نظام کی بنیاد انگریزی اصطلاح ”ہولی ٹرینیٹی“ یا اردو میں کہیں تو مقدس تثلیث کو کہا جاتا ہے، جس کی تین جہتیں ہیں طالب علم، والدین اور استاد۔ ان کی ہم آہنگی اور تعاون سے ہی ایک بہتر تعلیمی ماحول پروان چڑھتا ہے۔ درج بالا الجھنوں کو سلجھانے کے لئے پہلے حصے میں والدین کے لئے ایک سروے ڈیزائین کیا گیا۔ جس میں پہلے دو تعارفی سوالوں کے بعد دس ایسے سوال رکھے گئے جن سے شاید الجھنوں کا کوئی سرا ہاتھ آ سکے۔

1سوال۔ آپ کا بچہ آنلائن کلاسز لے رہا ہے یا ہوم سکولنگ کے ذریعے بچوں کو خود گھر پر پڑھا رہے ہیں؟

تاثرات۔ شروع میں اکثریت طلبا آنلائن کلاسز لے رہے تھے، دو سے تین فیصد بچے ہوم سکولنگ کی طرف آئے پر جیسے ہی لاک ڈاؤن کا دورانیہ طوالت اختیار کرتا گیا، والدین نے معاشی بے یقینی کی وجہ سے ہوم سکولنگ کو ترجیح دی۔ آنلائن کلاسز میں طلبا کی حاضری متاثر ہونا شروع ہو گئی

سوال 2۔ اگر بچے ہوم سکولنگ کر رہے ہیں تو کیا والدین نے ان کے لئے اس کے مطابق نصاب، پلانر یا تدریسی لائحہ عمل ڈیزائین کیا ہے؟

تاثرات۔ ہوم سکولنگ کرنے والی اکثریت کا جواب تھا کہ سکول کا نصاب ہی پڑھا رہے ہیں، خصوصی لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا گیا اور زیادہ لوگ اس قسم کی معاون حکمت عملیوں سے آگاہ بھی نہیں ہیں۔ زیادہ مشکل ہو تو ٹیوٹر یا یوٹیوب سے مدد لے لیتے ہیں۔

سوال 3۔ آنلائن کلاسز/ ہوم سکولنگ کے دوران بچوں کی کون سی مثبت اور منفی عادات سامنے آئیں؟

تاثرات۔ مثبت؛ 1۔ زیادہ وقت ساتھ گزارنے کی وجہ سے بچے اور والدین ایک دوسرے کو بہتر طور پر جان سکے ہیں۔
مثبت 2 ؛ ماؤں کو ہمہ وقت مصروف دیکھ کر بچے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

منفی 1۔ بچے سارا دن آنلائن کلاسز کا کہہ کر موبائلز اور لیپ ٹاپ پر مصروف رہتے ہیں، پر جب سکول سے حاضری کا ریکارڈ میل کیا جاتا ہے تو صورتحال برعکس ہوتی ہے۔
منفی 2۔ بچے منظم نہیں رہے، وقت کی پابندی اور سونے جاگنے کے اوقات بالکل بدل گئے ہیں۔

سوال 4۔ آپ کے بچے کا نصابی اور غیر نصابی سکرین ٹائم کتنا ہے؟ ( سکرین ٹائم وہ وقت جو بچہ موبائل یا کمپیوٹر پہ گزارے )

تاثرات۔ متفقہ رائے کے مطابق نصابی سکرین ٹائم دو سے تین گھنٹے، اور غیر نصابی کا کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں۔

سوال 5۔ اگر گھر پہ ایک سے زیادہ اور مختلف عمروں کے طالب علم موجود ہیں، تو ہوم سکولنگ کی صورت میں کیا ایک ہی طریقہ تدریس اور استاد مقرر کیا جاسکتا ہے؟

تاثرات۔ ستانوے فیصد رائے کے مطابق ایک ہی وقت اور ایک ہی استاد بہتر ہے، جب سب اکٹھے بیٹھ کر پڑھتے ہیں تو سیکھنے اور مقابلے کی بہتر فضا قائم ہوتی ہے۔

تین فیصد کے مطابق ایک استاد ہر عمر اور ہر مضمون کو پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتا، اس لیے استاد مختلف ہونا چاہیے۔

بڑی کلاسز کے بچے پڑھتے وقت زیادہ پرسکون اور تناؤ سے پاک فضا چاہتے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں کو خصوصی توجہ اور قدرے دوستانہ طرز عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں گھر کے مختلف افراد کھ

بڑی کلاسز کے بچے پڑھتے وقت زیادہ پرسکون اور تناؤ سے پاک فضا چاہتے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں کو خصوصی توجہ اور قدرے دوستانہ طرز عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں گھر کے مختلف افراد کھیل ہی کھیل میں بچے کو مختلف تجربات اور سرگرمیوں سے نئی مہارت یا معلومات دے سکتے ہیں۔

سوال 6۔ لاک ڈاؤن کے دوران آپ کے بچوں نے کون سی نئی مہارتیں سیکھی ہیں؟

تاثرات میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا جیسے کہ ٹیکنالوجی اور گیجٹس کا بہتر استعمال، کیمرے کے سامنے بولنے کا اعتماد، زوم اور گوگل کلاس رومز وغیرہ سے آگاہی، خطاطی، غیر نصابی کتب بینی، ڈرائیونگ، کرافٹنگ، مصوری، ٹیبل مینرز، آداب گفتگو، آلات موسیقی سے تعارف، کھانا بنانا، گھر کے چھوٹے موٹے کام، رقص وغیرہ

سوال 7۔ بچے کی ایکسرسائز، جسمانی فٹنس کے لئے بنائے گئے شیڈول کے بارے میں بتائیے۔

تاثرات۔ متفقہ رائے کے مطابق کوئی مخصوص وقت یا پلان ترتیب نہیں دی گیا، بچے اپنی مرضی کے مطابق کرکٹ، فٹ بال، جاگنگ، زومبا وغیرہ کرتے ہیں

سوال 8۔ آپ کا بچہ پاکستانی چینلز پر کون سے پروگرام شوق سے دیکھتا ہے؟

عمومی تاثر یہی رہا کہ پاکستانی چینلز پہ بچوں کے لئے کسی قسم کا کوئی پروگرام نہیں چلتا، کچھ والدین اس لیے کوشش کرتے ہیں کہ بچے یوٹیوب پہ کوئی معلوماتی ویڈیو یا کارٹون دیکھ لیں، کچھ والدین نے پروگرامز کی لسٹ بتائی جو کہ یہ ہے مطابق بچے گیم شو ایسے چلے گا، خوش رہو پاکستان، ٹک ٹاک شو، ارطغرل، چیمپیئنز ( وقار ذکا) ، انسٹا شو، بلبلے اور کچھ مشہور مارننگ شوز دیکھ لیتے ہیں۔

سوال 9۔ کیا آپ آنلائن کلاسز کے سلسلے میں تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبا کے کردار سے مطمئن ہیں؟ اگر نہیں تو بہتری کے لئے رائے دیں۔

تاثر 1۔ اکثریت مطمئن نہیں، گنتی کے چند سکول اچھی ہوم سکولنگ کر رہے ہیں پر ہم فیسیں نہیں دے سکتے۔ بہتری کے لئے کوئی قابل ذکر رائے نہیں دی گئی۔

تاثر 2۔ گنتی کے چند والدین نے اس چیز کو مانا کہ اچانک اتنی بڑی تبدیلی میں آنلائن کلاسز کا جاری رہنا غنیمت ہے۔ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔

سوال 10۔ کیا لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد آنلائن کلاسز کو جاری رہنا چاہیے؟ اگر نہیں تو کیوں۔

ننانوے فیصد تاثرات میں انتہائی قطعیت کے ساتھ اس کا جواب نہیں کی صورت آیا۔ جو وجوہات بتائی گئیں درج ذیل ہیں۔
وجہ 1۔ ابھی ہمارا نظام تعلیم اس تبدیلی کو قبول کرنے کا اہل نہیں۔

وجہ 2۔ والدین اور اساتذہ کی کمپیوٹر / آئی ٹی سے متعلق کوئی تربیت نہیں ہے اور بنا ان کی مدد کے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کا پروان چڑھنا کچھ کٹھن ہے۔

وجہ 3۔ والدین ایک ہی وقت میں تمام بچوں کو یکساں توجہ اور یکسوئی فراہم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں، اپنی تعلیم اتنی نہیں ہے یا دیگر ذمہ داریاں اور مصروفیات اس امر کی اجازت نہیں دیتیں، کہیں نہ کہیں کوئی بچہ متاثر ہوتا ہے یا پڑھائی میں کمی بیشی رہتی ہے۔

وجہ 4۔ آنلائن کلاسز مجبوری ہیں، ایک منظم تعلیمی ادارہ اور استاد بچے کی ذہنی بیداری اور کردار سازی کے لئے بہت ضروری ہیں۔

ان تمام جوابات کو دیکھ کر میں الجھن کا کوئی سرا ڈھونڈ نہیں سکی پر ایک دھندلی سی تصویر جو بنتی دکھائی دی ہے اس کے مطابق مجھے لگا کہ ہوم سکولنگ دراصل معاشی غیر یقینی اور بحران کا نتیجہ ہے، والدین دو، تین یا چار بچوں کی بجائے ایک ہی ٹیوٹر کو فیس دینے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں۔

وبا اور لاک ڈاؤن ایک اچانک آزمائش کی صورت آئی، بہت سے شعبوں کی طرح شعبہ تعلیم بھی اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ سکولوں میں آج بھی استادوں کی بھرتیاں ان کی کسی خاص مضمون میں مہارت کی بنیاد پہ ہوتی ہیں اور آئی ٹی یا کمپیوٹر بھی ایک ٹیچر کے لئے مخصوص ہوتا ہے، پر آنلائن کلاسز میں چاہے اردو کا استاد ہو یا اسلامیات کا اسے ٹیکنالوجی کو ساتھ لے کر چلنا ہے، اور ٹریننگ کا فقدان یقیناً پیچیدگیوں کا سبب بنا ہے۔

ایک رویہ ایسا بھی سامنے آیا کہ بچے کے تمام اعمال کا ذمہ دار تعلیمی ادارے کو ٹھہرایا گیا جبکہ اس کا غیر نصابی سکرین ٹائم، اس کے علاوہ اس کے ایکسرسائز کے پلان، ٹی وی پر دیکھے جانے والے پروگرام، دوستوں کی صحبت اور گھر کا ماحول وغیرہ بھی اس کی تربیت، کردار سازی اور عادات کو بگاڑنے یا سنوارنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

والدین کی بہت محدود تعداد اس بات پہ یقین رکھتی ہے کہ بچے کو مخصوص ضابطوں کا قیدی نہ بنایا جائے بلکہ ان کو عملی تجربات سے نئے موضوعات سے متعارف کروایا جائے۔

والدین کی اکثریت بچوں کی نصابی سرگرمیوں کے لئے بہت سنجیدہ جبکہ غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف سے قدرے لاپروا ہے، ہو سکتا ہے یہ مشاہدہ غلط ہو کیونکہ یہ رائے صرف سروے سے قائم کی گئی ہے۔

تعلیمی اداروں پہ بے تحاشا تحفظات کے باوجود والدین چاہتے ہیں کہ سکول کھلیں، جو والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ استاد پچیس یا تیس بچوں کی کلاس کو اچھے سے نہیں پڑھاتے، وہ اپنے دو، تین بچوں کو گھر پہ پڑھاتے ہوئے نالاں بھی دکھائی دیتے ہیں۔

تمام پڑھنے والوں سے بصد احترام گزارش ہے کہ یہ سب تصویر کا ایک رخ ہے، جو والدین اور بچوں کو دکھاتی ہے۔ اساتذہ کے گھر میں بھی وہی معاشی بحران، بیماری اور پریشانی ہے، اتنی بڑی تبدیلی کے باوجود وہ اپنے جذبہ تدریس کو لگن یا رزق کی مجبوری کی وجہ سے نبھا رہے ہیں، گھر کہ باہر لاک ڈاؤن اور گھر کے اندر صبح اٹھ سے دوپہر دو یا تین بجے تک کرفیو میں گزارتے ہیں کہ موٹر نہ چلاؤ، ٹی وی نہ لگاؤ، ان کے بچے کمرے تک محدود رہیں۔ لائیو سیشن میں شور نہ سنائی دے۔ ویڈیو بناتے وقت اگر باہر کوئی کوا چلانا شروع کردے، سبزی والا آواز لگا دے یا موٹر سائکل ہارن بجا کر چلی جائے تو ویڈیو نئے سرے سے بنانی پڑتی ہے، اساتذہ سے یوٹیوبرز، اور اینکرز کے درجے کی ویڈیوز اور لائیو سیشنز کی امید رکھی جاتی ہے۔

روز انٹرنیٹ پہ آنلائن کلاس کا کوئی نیا کورس کرو، شام کو بیٹھ کر پلانر اور ورک شیٹ بناؤ۔ صرف اس لیے کہ یہ نظام چلتا رہے۔ آزمائش کا دور پہلا وار کمزور کے رزق پہ کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کا ایک منفی تاثر کسی مستحق کے رزق پہ کاری ضرب لگا دے۔ بس ان تمام باتوں کے بعد ایک گزارش یہ ہے کہ اپنی امیدوں کی طرح اپنے ظرف کا پیمانہ بھی وسیع رکھیں۔
—–
from-humsub-pages