اردو کا جنازہ اور 48 سال پرانا سانحہ لسانی بل

9 جولائی سن 1972 کو کراچی میں ہونے والے لسانی فسادات سازش تھے یا کسی وقتی جذبے کا شاخسانہ ، مگر یہ حقیقت ہے کہ سندھی کو صوبے کی سرکاری زبان بنائے جانے کے خلاف کراچی میں خوفناک فسادات پھوٹ پڑے تھے

اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو نے سندھ اسمبلی سے سندھی کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دیے جانے کا بل کثرت رائے سے پاس کروا کر ، شہر کی اردو بولنے والی آبادی میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔

ضلع وسطی کی مشہور بستی لیاقت آباد المعروف لالو کھیت، اس حوالے سے میدان جنگ بنا ، دس نمبر لیاقت میں واقع مسجد شہدا انہی فسادات کی یادگار بھی ہے۔

اس مسجد کے احاطے میں اب سے 48 برس قبل اپنی لسانی ناموس کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بنا دیا گیا تھا اور آج بھی دس نمبر لیاقت آباد پر پانی کی ٹنکیوں اور جست کے ٹرنک بنانے والوں کے بیچوں بیچ واقع مسجد شہدا کے احاطے میں شہدا تحریک اردو کی قبریں موجود ہیں۔

البتہ، اب ایک چار دیواری کھینچ کر شہدا کی قبور والے اس احاطے کو مسجد کے دوسرے دروازے سے متصل کر دیا گیا ہے، اس سانحے میں درجنوں افراد لقمہ اجل بنے، سیکڑوں زخمی ہوئے

اس سے بھی بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس دور کا کراچی جو مذہبی ، لسانی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، نفرتوں کے ایک نا ختم ہونے والے عفریت کی ذد میں آگیا۔

ہر سال نو جولائی کراچی کے ان خونریز فسادات کی یاد دلاتا ہے مگر جہاں ایک طرف کچھ عاقبت نا اندیش سیاستدانوں کے غلط فیصلے نے اس خون آشام سانحے کو جنم دیا وہیں اس وقت کے صدر ذولفقار علی بھٹو نے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی الفور کچھ سندھی اور اردو بولنے والے دانشوروں کو اسلام آباد بلا کر ایک میز پر بٹھایا اور تیزی سے بھڑکتے جذبات کی آگ بجھانے میں مرکزی کردار ادا کیا

اس عہد کے مقبول شاعر رئیس امروہوی نے لسانی بل سے متاثر ہو کر اپنا مشہور ترانہ “اردو کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے” تخلیق کیا جس نے راتوں رات شہرت حاصل کی اور یہی اشعار مظاہرین کے جذبات کو زبان دینے کا بھی باعث قرار پائے۔

بعد ازاں معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے اسلام آباد بلائے گئے دانشوروں کے سرکاری وفد میں رئیس امروہوی صاحب بھی پیش پیش تھے۔ یہ ایک علیحدہ المیہ ہے کہ اس سانحے کو تقریبا” نصف صدی بیت جانے کے باوجود سندھی ذبان کو صوبے میں ہی اس کا جائز مقام نا مل سکا اور سرکاری کاغذوں میں اردو بھلے ہی مملکت خداداد پاکستان کی سرکاری زبان ہونے کا تاج اپنے سر پر سجائے ہوئے ہے مگر عملی طور پر انگریزی کو ہی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔

سُرخ فیتے نے پہلے ہی کیا کم تماشے دکھائے ہیں جو اس قضیئے میں بھی بیوروکریسی کے کردار پر روشنی ڈال کر بات کو طول دیا جائے۔ قصہ مختصر یہ کہ 9 جولائی 1972 کے سانحے کو یاد کریں یا ملک میں اردو اور صوبوں میں علاقائی زبانوں کی نا قدری کا رونا روئیں؟

چلیں “اردو کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے”حضرت رئیس امروہوی کو یاد کر لینا چاہیے۔

کیوں جان حزیں خطرہ موہوم سے نکلے​

کیوں نالہ حسرت دل مغموم سے نکلے​

آنسو نہ کسی دیدہ مظلوم سے نکلے​

کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے​

اردو کا غم مرگ سبک بھی ہے گراں بھی​

ہے شامل ارباب عزا شاہ جہاں بھی​

مٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھی​

یہ میت غم دہلی مرحوم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے​

اے تاج محل نقش بدیوار ہو غم سے​

اے قلعہ شاہی ! یہ الم پوچھ نہ ہم سے​

اے خاک اودھ !فائیدہ کیا شرح ستم سے​

تحریک یہ مصر و عرب و روم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے​

سایہ ہو اردو کے جنازے پہ ولی کا​

ہوں میر تقی ساتھ تو ہمراہ ہوں سودا​

دفنائیں اسے مصحفی و ناسخ و انشاء​

یہ فال ہر اک دفتر منظوم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے​

بدذوق احباب سے گو ذوق ہیں رنجور​

اردوئے معلیٰ کے نہ ماتم سے رہیں دور​

تلقین سر قبر پڑھیں مومن مغفور​

فریاد دل غالب مرحوم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے​

ہیں مرثیہ خواں قوم ہیں اردو کے بہت کم​

کہہ دوکہ انیس اس کا لکھیں مرثیہ غم​

جنت سے دبیر آ کے پڑھیں نوحہ ماتم​

یہ چیخ اٹھے دل سے نہ حلقوم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے​

اس لاش کو چپکے سے کوئی دفن نہ کر دے​

پہلے کوئی سر سیداعظم کو خبر دے​

وہ مرد خدا ہم میں نئی روح تو بھر دے​

وہ روح کہ موجود نہ معدوم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے​

اردو کےجنازے کی یہ سج دھج ہو نرالی​

صف بستہ ہوں مرحومہ کے سب وارث و والی​

آزاد و نذیر و شرر و شبلی و حالی​

فریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلے​

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

Khalid-Firshory-jang-