……………….پیچ در پیچ معاملات

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور گورنر سندھ کو ہدایت کی ہے کہ کے الیکٹرک انتظامیہ سے جلد ملاقات کرکے عوامی مسائل کا حل ممکن بنایا جائے۔ انہوں نے کووڈ 19کے پیش نظر قوم سے عیدالاضحیٰ ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے سادگی سے منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لاپروائی برتنے سے وائرس تیزی سے پھیلے گا۔ یہ بات بجا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کی کامیاب حکمتِ عملی سے دنیا کے مقابلے میں کم سے کم ہلاکتوں کے ضمن میں کورونا بڑی حد تک کنٹرول میں رہا اور ہم ان ملکوں میں شامل ہیں جہاں اس وبا کی شدت کم ہو رہی ہے۔ بہتری اسی میں ہے کہ کسی بھی سطح پر ایسے اقدام یا لاپروائی سے اجتناب کیا جائے جو کسی بڑے نقصان کا باعث بنے۔ بہرحال قدرتی وسائل کی بدولت پاکستان کی معیشت میں اتنی لچک ہے کہ کورونا کے باعث اب تک ہونے والے معاشی نقصانات کا کم سے کم وقت میں ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حکومت کو اس وقت جس اضافی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی شدت پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے کورونا سے بھی بڑھ کر ثابت ہو سکتی ہے۔ آٹے اور چینی کے بعد ملک میں یکا یک پیٹرول بحران نے جو سر اٹھایا اس کا لاہور ہائیکورٹ نے بجا طور پر نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس قاسم خان نے اس بحران سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لئے وفاقی حکومت سے یہ کہتے ہوئے ارکان کے نام طلب کیے ہیں کہ اگر حکومت نے مطمئن نہ کیا تو یہ نام عدالت خود تجویز کرے گی۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ان احکامات کی روشنی میں ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال گردش کرنا قدرتی بات ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل کے لئے اوگرا نے ہر ماہ کی یکم تاریخ مقرر کر رکھی ہے پھر وہ کونسی مجبوری تھی جوچار دن پہلے ہی قیمتوں میں اچانک اور یکدم 25روپے فی لیٹر کا اضافہ کر کے جہاں گزشتہ 24دن سے سپلائی نہ ہونے سے فلنگ اسٹیشن بند پڑے تھے یکا یک وہاں پیٹرول کی لہر بحر ہو گئی اور صرف مہینے کے آخری چار دنوں میں لاکھوں لیٹر پیٹرول پر اربوں نہیں تو کروڑوں کا ناجائز منافع ضرورہوا ہے۔ جسے بنیاد بنا کر تحقیقاتی کمیشن مطلوبہ نتیجے پر پہنچتے ہوئے ذمہ دار افراد کو بےنقاب کرے گا۔ جہاں تک بجلی کی رسد و طلب میں توازن کے باوجود شہر قائد میں ہونے والی شدید ترین لوڈشیڈنگ کا معاملہ ہے جس سے نہ صرف شہری، طالب علم، بلکہ صنعت و تجارت کا پہیہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور یہ معاملہ اپنی شدت کے باعث جمعرات کے روز قومی اسمبلی میں زیر بحث آیا اور شدید ہنگامے کا باعث بنا، حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تیز جملوں کا تبادلہ ہوا اور نتیجہ پھر بھی لاحاصل رہا۔ بحیثیت مجموعی آٹا، چینی، پیٹرول سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو پر لگ جانا، یہ سب ایسے عوامل ہیں جن کی کڑیاں ایک دوسرے سے ملتی نظر آتی ہیں اور سال رواں کے آغاز ہی میں ملک میں منافع خور، ذخیرہ اندوز، اسمگلنگ اور بدعنوان مافیا ایسا متحرک ہوا جو ہزار حکومتی کوششوں کے باوجود دیدہ دلیری سے کام لے رہا ہے۔ ادھر یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو فراہم کردہ متعدد حکومتی سہولیات و مراعات کے باوجود اس کی سیل کے ہدف کے حصول میں 49فیصد کی کمی باعث تشویش ہے جون کے مہینے کے لئے سیل کا ہدف 10 ارب 85کروڑ مقرر تھا لیکن اس کے مقابلے میں محض پانچ ارب 50کروڑ حاصل ہو سکے۔ اسی طرح ادویات کی قیمتوں میں ہونے والا بے ہنگم اضافہ غریب عوام کو اس مخمصے میں ڈال گیا ہے کہ وہ زندہ رہنے کے لئے ادویات اور خوراک میں سے کس کا انتخاب کریں۔ بحیثیت مجموعی متذکرہ سارے معاملات ایسے پیچ درپیچ ہیں کہ حکومت کو اس پر باقاعدہ ترجیحی بنیادوں پر غور و خوض کی ضرورت ہے

Courtesy jang news