سوچی سمجھی سازش کے تحت نان اشیو کو اشیو بنا کر ملک میں کرونا وائرس، بجلی بحران، آٹا اور چینی اسکینڈل، پیٹرول مافیا کے ہاتھوں بلیک میلنگ، پی آئی اے سمیت تمام اشیوز سے توجہ ہٹائی جارہی ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزراء سعید غنی اور سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نان اشیو کو اشیو بنا کر ملک میں کرونا وائرس، بجلی بحران، آٹا اور چینی اسکینڈل، پیٹرول مافیا کے ہاتھوں بلیک میلنگ، پی آئی اے سمیت تمام اشیوز سے توجہ ہٹائی جارہی ہے۔ موجودہ نااہل،نالائق اور سلیکٹیڈ حکومت کے

وزراء کی بیانات نے اس ملک کو عالمی سطح پر بدنام کردیا ہے اور ان کے سیلیکٹڈ وزیر اعظم اس وقت پاکستان کے ٹرمپ بنے ہوئے ہیں اور وہ ان کے فلسفہ پر عمل پیرا ہیں۔ یہ نامعلوم موٹرسائیکل کی بات سمجھ نہیں آئی، یہ خود کہتے ہیں عزیربلوچ قاتل ہے تو پھر علی زیدی عزیر کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں گواہ کیوں نہیں بن جاتے۔ لیاری کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف نے بھی عزیر بلوچ کو ان کی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی اور خود موجودہ صدر پاکستان، گورنر سندھ اور علی زیدی نے ایک موجودہ ان کے رکن قومی اسمبلی کے بنگلے میں ان کی دعوتیں کی۔ عمران خان اور ان کی جماعت دہشتگردوں کا سیاسی ونگ بنا ہوا ہے اور اس کے تمام شواہد موجود ہیں۔ کراچی سمیت صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے حوالے سے نالوں کی صفائی کے کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس بار کے ایم سی، لوکل گورنمنٹ اور نیسپاک مل کر کام کررہے ہیں اور اس کے لئے باقاعدہ ایسی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے

کہ ہر سال اس طرح کے معاملات نہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار ان دونوں صوبائی وزراء کے سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات سندھ روشن شیخ اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ آج پوری دنیا میں پی آئی اے کی فلائٹس پر پابندی کے باعث وہ نقصان اس ملک کو ہورہا ہے، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور یہ صرف اور صرف ان نااہل، نالائق اور سیلکٹیڈ وزراء کے بیانات کے باعث ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اسٹیل مل کی طرح موجودہ حکومت کسی کے اشارے پر پی آئی اے کو بھی تباہ کرکے اپنے اے ٹی ایم کو دینا چاہتی ہے اور ان کے پس پشت کوئی خطرناک اسباب ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ لاہورہائی کورٹ نے پی آئی اے، چینی کمیشن سمیت کئی چیزوں کا نوٹس لیا ہے اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ کے خلاف جن شوگرملزوالوں نے اپیل کی ہے، اس میں جہانگیرترین اورخسروبختیاربھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالرکی قیمت اورآٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ راتوں رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 سے 27 فیصد اضافہ پیٹرولیم مافیا کے دباؤ پر کردیا جاتا ہے۔ تو چینی اسکینڈل کے نام پر اس ملک کے غریب عوام کو 300 ارب کا ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ اس وقت پنجاب میں آٹے کا بحران شدت اختیار کررہا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ اس کے اثرات سندھ میں بھی آسکتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے نالائق اور نااہل وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس میں کمی آئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کرونا وائرس متاثرین میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ پاکستانی ٹرمپ اب امریکن صدر ٹرمپ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور انہوں نے ٹیسٹ کم کردئیے ہیں۔ اس وقت امریکی ٹرمپ اورخان صاحب میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 سال قبل کی جے آئی ٹی کو آج صرف اس لئے اشیو بنایا جارہا ہے کہ ان تمام اشیوز سے عوام کی نظروں کو ہٹا دیا جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ علی زیدی کہتا ہے کہ ان کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار لفافہ دے گئے، جس میں جے آئی ٹی رپورٹس تھی جو انہیں 3 سال قبل مل گئی تھی اور وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ عزیربلوچ قاتل ہے تو وہ کیوں ان کے جاری کیسز میں گواہ نہیں بن جاتے۔ انہوں نے کہا کہ 164 کے بیان کو جواز بنایا جارہا ہے تو پھر پی ٹی آئی کے ایم پی اے اسراراللہ گنڈاپور کے بھائی نے 164کابیان دیا، جس میں ان کے بھائی کے قتل میں علی امین گنڈاپور جو وفاقی وزیر ہیں اس کا بھائی ودیگر ملوث ہیں تو پھر اس پر وہ کیوں خاموش ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جے آئی ٹی تین آئی ہیں، جن میں عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیا ٹاؤن شامل ہیں تو پھر بلدیہ ٹاؤن سانحہ کی جے آئی ٹی پرکیوں خاموشی ہے اس لئے کہ اس میں کو ملوث ہے اس میں ان کے اتحادی شامل ہیں اور نفیس اتحادیوں کا محمد انوربھارت سے پیسے لینے کااقراربھی کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود پی ٹی آئی کے غیر ملکی فنڈنگ کاکیس جس میں اسرائیل اوربھارتیوں نے ان کو پیسے دیئے ہیں، اس پر بات کیوں نہیں کی جاتی۔تین ملین ڈالرعلی زیدی نے چندے کے کھانے کی کوشش کی اس پر کیوں خاموشی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ خود عزیربلوچ کہہ چکا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی نے شمولیت کے لئے رابطہ کیا۔گورنرعمران اسماعیل صدرمملکت عارف علوی اورعلی زیدی نے کمیٹی بنائی تھی اور اس کمیٹی کو امن کمیٹی سے رابطے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کا مطلب عزیر بلوچ کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے حکومت مخالف ملک بھر میں دھرنے دئیے تو کراچی میں سی ویو پر بھی دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے میں امن کمیٹی کے رہنما آتے رہے۔ امن کمیٹی کے لوگ اسٹیج پر بیٹھتے رہے، حبیب جان جس کا جے آئی ٹی میں نام موجود ہے وہ ان دھرنوں سے ٹیلی فونک خطاب کرتا رہا۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے ایم پی اے کی دعوت پر چلی گئی تو آج اس کو اشیو بنایا جارہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں بھی اس دعوت میں تھا جبکہ میرا نام جے آئی ٹی میں نہیں تھا۔ سعید غنی نے سابق اسپیکر فہمیدہ مرزا کی جانب سے گذشتہ روز ایک نجی چینل میں انٹرویو میں اس بات کے کہنے پر کہ ان کا منہ نہ کھلوایا جائے کہا کہ محترمہ آپ منہ کھولیں اور ہم آپ کو جواب بھی دیں گے اور حقائق بھی بتائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ آپ کو عالم اسلام کی پہلی خاتون اسپیکر بی بی شہید نے نہیں بلکہ آصف علی زرداری نے بنایا تھا۔ آپ کے میاں کو وزیر داخلہ آصف علی زرداری نے بنایا تھا۔جب ذوالفقار مرزا کو پارٹی سے ہٹایا گیا تو محترمہ نے اسپیکر شپ نہیں چھوڑی بلکہ انہوں نے اور ان کے بیٹے نے 2013 کے انتخابات میں بھی ٹکٹ مانگا۔ سعید غنی نے علی زیدی اورفہمیدہ مرزا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے سامنے ٹی وی شومیں بیٹھیں اور میں اس میں ان کے تمام سوالوں کے جواب دوں گا۔ سابق ونگ کمانڈر رینجرز کے بیان پر انہوں نے کہا کہ رینجرز کے ونگ کمانڈر نے جس دعوت کا ذکر کیا ہے۔وہ دعوت ایم پی اے کی تھی، عزیر بلوچ کی دعوت نہیں تھی۔ ہم نے عزیر بلوچ کو ملنا تھا کہ تو رات میں جا کر مل سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں ڈی رینجر سے درخواست کرتا ہوں کہ جو لوگ ریٹائرڈ ہوگئے ہیں ان کو غیر ذمہ دانہ بیان نہیں دینا چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں تو بہت ساری چیزوں کا چشم دید گواہ ہوں۔ ہم نے کراچی کو امن کے لیے کام کیا۔ہم کیا لیاری میں لوگوں کو مرنے دیتے ہیں۔اگر حکومتیں ڈائیلاگ کرتی ہیں تو امن کے لئے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے صوفی محمد سے بھی ڈائیلاگ کیا۔عمران خان نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا۔خود عمران خان کا نام ٹی ٹی پی نے دیا تھا کہ ہماری طرف سے یہ مذاکرات کرے گا۔سعید غنی نے کہا کہ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ عمران خان دہشتگردوں کے سیاسی ونگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر نے جو بھی اقدامات کیے تو امن قائم کرنے کے لئے کئے۔ذوالفقار مرزا نے جب حالات خراب کردئیے تھے تو ان سے وزارت لی گئی۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کا لفافہ عوام کے گلے پڑا ہوا ہے۔پتا کریں یہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار ہیں کون۔اس وزیر کو معلوم ہے موٹر سائیکل کون ہے۔انہوں نے کہا کہ نبیل گبول نے کہا کہ ان کے گھر بھی ایک لفافہ آیا تھا۔اس پر لکھا تھا لو یو اور اس لفافے میں علی زیدی کے نام ایک لو لیٹر تھا۔لفافے بدل گیا۔آصف علی زرداری کے سوال پر انہوں نے کہا کہ محترمہ نے تیس سال سیاست کی اور کبھی وصیت نہیں لکھی۔لیکن جب وہ آخری بار ملک واپس آئی تو انہوں نے اپنی وصیت لکھی تھی اور اس وصیت میں لکھا تھا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ پارٹی کا سربراہ کون ہوگا اور جب تک یہ فیصلہ نہ ہو آصف علی زرداری زرداری کو سرابرہ بنانے کا کہا۔سعید غنی نے کہا کہ محترمہ کی شہادت کے ایک یا دور بعد سینٹرل ایگزیٹو کمیٹی کے اجلاس میں اس وصیت کو کھولا گیا اورآصف علی زرداری کو پارٹی کا سربراہ بنانے پر اتفاق ہوا، لیکن آصف علی زرداری نے منع کردیا۔آصف علی زرداری نے کہا تھا بلاول بھٹو زرداری پارٹی کو قیادت کریں گے۔البتہ پڑھائی کے دوران پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کریں گے۔ کے الیکٹرک کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلے خود پی ٹی آئی والے کہتے رہے کہ یہ ابراج میں آصف علی زرداری کے شیئر ہیں۔جبکہ اب حقیقت سب کے سامنے کھل کر آگئی ہے کہ عارف تقوی کون ہے اور عارف نقوی نے دو تہائی الیکشن کے اخراجات کس کے برداشت کیے۔انہوں نے کہا کہ عارف نقوی نے لندن میں گرفتاری کے بعد ریفرنس عمران خان کا نام اور نمبر لکھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے دھرنے کا ڈرامہ نہ کریں اور سب کو معلوم ہے کہ ابراج کے خلاف پی ٹی آئی کچھ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو کراچی کے عوام کا اتنا ہی درد ہے تو وہ وزیر اعظم کو کہیں کہ فور ی طور پر کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ قبل ازیں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت اس سال مون سون کی بارشوں سے قبل ہی نالوں کی صفائی کے کام کا آغاز کرچکی ہے البتہ کرونا کے باعث اس میں تاخیر ہوئی ہے تاہم اس بار نالوں کی صفائی بالخصوص کراچی شہر میں کے ایم سی کے زیر انتظام 38بڑے نالوں کی صفائی کے کام کا آغاز ہوچکا ہے اور ان کے تمام چوکنگ پوائنٹس کو کھول دیا گیا ہے جبکہ نالوں میں موجود کچڑے کو نکال کر لینڈ فل سائیڈ تک پنچانے سمیت ان نالوں کی اس طرح صفائی کی جائے کہ تمام کچڑہ نکال لیا جائے اس میں کے ایم سی کے ساتھ ساتھ لوکل گورنمنٹ کے محکمہ اورنیسپاک کا ادارہ بھی کام کررہاہے۔تینوں ادارے ا سکو کلیئر کریں گے اور جب تک یہ کام مکمل نہیں ہوگا کسی کو رقم کی ادائیگی نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ ڈی ایم سیز کے زیر انتظام آنے والوں نالوں کے لئے چیئرمین ڈی ایم سیز، میونسپل کمشنرز اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز مل کر کام کررہے ہیں اور اس کے لئے وزیراعلیٰ سندھ نے فنڈز جاری کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نالوں کی صفائی کے حوالے سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ ورلڈ بینک کی طرف سے پروگرام ہے۔ورلڈ بینک کے پیسے آنے میں دیر ہے۔یہ سندھ حکومت کا پروجیکٹ ہے۔یہ ورلڈ بینک کی گرانٹ نہیں ہے بلکہ یہ ورلڈ بینک کا قرضہ ہے، جس کو سندھ حکومت ادا کرے گی۔