خسارے پر قابو پانے میں غیر ضروری سرگرمیوں نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے

خسارے پر قابو پانے میں غیر ضروری سرگرمیوں نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔
آمدنی بڑھانے کی سرتوڑکوششیں معیشت کو گہرے دلدل میں دھکیل رہی ہیں ۔
خطے کے دوسرے ممالک کی اکنامک مینجمنٹ پاکستان سے بہتر ہے ۔ میاں زاہد حسین
mian zahid hussain sme 8-5-2020

(0 1 جولائی2020)
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے حکومت کی جانب سے خسارے پر قابو پانے اور آمدنی بڑھانے کی کوششوں میں ضرورت سے زیادہ سرگرمیوں نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ کرونا وائرس اور لاک ڈاءون نے دنیا بھر میں معیشت کو بٹھا دیا ہے مگر یہاں ٹیکس کے ناقابل حصول اہداف مقرر کئے جا رہے ہیں جس سے فائدے کے بجائے مزید نقصان ہو گا ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت خطے کے درجنوں ممالک کو بھی کئی دہائیوں سے خسارے کا سامنا ہے مگر انکی حکومتیں ہنگامی و انقلابی اورمتنا زع اقدامات کے ذریعے معیشت کو تلپٹ کرنے کے بجائے اس کا مناسب انتظام کر رہی ہیں اور ان ملکوں کی ترقی انکی کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے ۔ ہم گزشتہ32 سالوں میں ادائیگیوں کو متوازن رکھنے اور دیوالیہ پن سے بچنے کے لئے 13 بارآئی ایم ایف سے قرضہ لے چکے ہیں جبکہ اسی دوران سری لنکا نے چھ بار، بنگلہ دیش نے چار بار اور بھارت نے صرف ایک بار قرضہ لیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک کی اکنامک مینجمنٹ پاکستان سے بدرجہا بہتر ہے ۔ بھارت کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی 1990 سے کرنٹ اکاءونٹ کے زبردست خسارے کا شکار ہیں مگر ان مسائل نے انکے اوسان خطا نہیں کئے ۔ گزشتہ 20سالوں میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے اپنے بنیادی خسارے اور قرضوں کا بہتر استعمال کیا جس نے بھارت ،بنگلہ دیش کو اکنامک ہاءوس اور سری لنکا کو سماجی ترقی کی روشن مثال بنا ڈالا جبکہ ہماری معیشت دلدل میں ڈوبتی چلی گئی ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت خسارے سے پریشان نہ ہو اور ٹیکس کے اہداف کم کرتے ہوئے مقامی سرمایہ کاروں کو بہتر ماحول فراہم کرے تو کاروباری برادری ملک کو مسائل سے نکال لے گی اورترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے گی ۔