آہ قاضی عمران مرحوم

آہ قاضی عمران مرحوم!
انا للہ و انا الیہ راجعون۔


قاضی عمران احمد دوسال سے معاشی تباہی کا شکار ہوتے ہوئے بھی ایماندارانہ صحافت اور بعض اوقات کئی کئی ماہ کی تنخواہ کے بغیر فرض نباہتے ہوئے آج ہم سے جدا ہوگئے۔
دوسال میں معاشی تباہی نے قاضی عمران احمد کو شوگر،ہائی بلیڈ پریشر اور ہائپر ٹینشن کا مریض بنادیا، پھر کورونا نے حملہ کردیا، یہ وہی کورونا تھا جس سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور آج اللہ کو پیارے ہوئے۔
دوسال میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے عامل صحافیوں کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا۔
کئی بار حکومت کی توجہ مبذول کرائی مگر مجال ہے کہ ٹس و مس ہو۔
اپریل مئی میں حکومتی اہلکاروں سے کئی بار کہاکہ ہمارے کچھ عامل صحافی شدید معاشی بدحالی کا شکار ہیں، وہ ہاتھ نہیں پھیلا سکتے ہیں۔ سفید پوش ہیں۔ نام آپ کو دیں گے آبرو مندانہ انداز میں مدد کریں مگر آج تک جواب نہیں ملا ۔
ہم کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے اور کب تک ظالم و نااہل حکمرانوں اور مالکان کے ظلم کا شکار ہوتے رہیں گے؟
چند اداروں کے سوا(الحمد للہ چند میں میرا ادارہ بھی ہے) باقی سب نے کئی کئی ماہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کو معمول بنایا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم قاضی عمران احمد کی کامل مغفرت اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے
Abdul-Jabbar-Nasir-