لوڈشیڈنگ کے معاملے پر عوامی نمائندوں کی شعلہ بیانیاں

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ سندھ حکومت کو کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر وفاق کو کراچی کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے تو پھر سندھ حکومت کیا کر رہی ہے؟

وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے غلطیاں کیں تو 2سال میں پی ٹی آئی نے کیا کیا؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کے الیکٹرک کے سامنے احتجاج اور دھرنا وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہے۔پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک نے منافع بھی کمایا لیکن کارکردگی اطمینان بخش نہیں اور یہ کمپنی کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار ہے۔

سندھ حکومت کو کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ پیپلزپارٹی نے کبھی کے الیکٹرک کے معاملات کو ترجیح نہیں دی۔

انہوں نے سوال کیا کہ سندھ حکومت کے نمائندے نیپرا میں بیٹھے ہوئے ہیں،کیا کررہے ہیں؟ انہیں اصل معاملے کاعلم نہیں ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا شہر کی سڑکوں پرپانی جمع ہے، ہولز سے گندا پانی نکل رہاہے، سیوریج کا نظام ناکارہ ہے۔ سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کابیڑا غرق کردیا۔

وزیرتوانائی سندھ امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے کا حل آئل کی فراہمی سے جڑا ہوا ہے تاہم اس کو حل کرنے میں سال سے زائد لگ سکتاہے۔

امتیاز شیخ نےکہا کہ کراچی کا معاملہ وفاق کی طرف سے بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔ کراچی میں بجلی کی طلب زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیامیں سستا تیل تھا لیکن حکومت نے مہنگا کیا، حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک کو مسائل کا سامناہے، لوڈشیڈنگ کے معاملے کاحل صرف کمیٹی کی تشکیل نہیں

Courtesy hum news