وزیراعظم عمران خان فرنٹ فٹ پر … تحریر رفیق شیخ

کراچی کے لیے ایک سو باسٹھ ارب روپے کے پیکیج کا اعلان اور سندھ میں متوازن سیاسی قوت کی تیاری جیسے اقدامات سے ایسا لگتاہے وزیراعظم عمران خان نے فرنٹ فٹ پر کھیلنا شروع کردیا ہے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے جو نتائج نکلتے ہیں وہ کپتان عمران خان سے بہتر کوئی نہیں جانتا یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں نے اپنے طور پر الٹی گنتی شروع کردی ہے اور نومبرتک کھیل کا حتمی فیصلہ ہونے کا دعوٰی بھی کر رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے ایک بات متفقہ طور کہی جاتی ہے کہ ان کے دماغ میں اگر کوئی بات جڑ پکڑ جائے تو پھر سب دلیلیں بے کار ہوجاتی ہیں وہ کرتے وہی ہیں جو دماغ میں آجائے خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں سندھ میں جس طرح عمران خان نے انٹری ڈالی یہ فیصلہ ان کا اپنا ہے یا اس میں کوئی مشاورت شامل ہے اس کا تو پتہ نہیں لیکن یہ ضرور ہے پی ٹی آئی کے لوگوں کی خواہش ضرور ہے کہ عمران خان سندھ میں پیپلز پارٹی اور اس کی حکومت سے ٹکراجائیں یہ وہ لوگ ہیں جو ایک بار نہیں کئی بار پارٹیاں بدل چکے ہیں اب بھی اگر انھیں ناکامی ہوئی تو انھیں کوئی دشواری نہیں ہوگی دوسری پارٹی میں جاتے ہوئے۔
پی ٹی آئی کے حلقوں میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وفاق،پنجاب،کے پی اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں اور اس طرف سے قیادت مطمئن ہے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جو عمران خان کا روز اوّل سے نشانہ بنی ہوئی ہے ان کی کوشش اور خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی کو حکومت سے باہر کرکے احتساب کے شکنجے میں اس طرح لایا جائے جس طرح مسلم لیگ ن ہے وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے لیے ایک سو باسٹھ ارب روپے کے جس پیکیج کا اعلان کیا ہے وہ کوئی بڑا اعلان نہیں ہے محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی کئی بار ایک سو بیس ارب روپے تک کے پیکیج کا اعلان کر چکے ہیں اس ہی پیکیج کو کم و بیش اور آگے پیچھے کرکے بیوروکریسی خان صاحب کے حولے کردیا اس کا انجام بھی ماضی کے پیکیج طرح ہوا تو آنے والے اسی پیکیج کی رقم بڑھا کر ایک مرتبہ پھر اعلان کردیں گے تاہم اس پیکیج کے اعلان سے پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم کا ساتھ مل گیا یہ عمران خان کی بڑی سیاسی کامیابی ہے اس پیکیج کے اعلان اور وزیراعظم عمران کے دورے کے دوران وزیر اعلٰی سندھ کا نظر نہ آنا ہے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ وفاق اور صوبے کے درمیان بھی بڑی لڑائی کا مظہر ہے ایک جانب کہا جارہا ہے کہ سندھ حکومت نے وفاق کی جانب سے سندھ کورقم نہ دیے جانے پر وزیراعظم کے دورے کا بائیکاٹ کیا ہے دوسری جانب کہا جارہا ہے کہ سندھ حکومت کو مدعو ہی نہیں کیا گیا صورت حال کچھ بھی ہو بظاہر عمران خان نے سندھ میں بڑی انٹری ڈال دی ہے جہاں تک وزیراعظم کے دورے میں صوبائی حکومت کی عدم شرکت کا تعلق ہے یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے جب کبھی و فاق اور صوبوں میں دو مختلف اور مخالف جماعتوں کی ح حکومتیں بنیں وہاں ایسا ہو اہے محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے دوران نواز شریف کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دورہ پنجاب کے موقعہ پر سرد مہری دکھایا کرتی تھی ایسا ہی نواز شریف کے ساتھ ان کی پہلی وفاقی حکومت کے دور میں سندھ میں ہوا جہاں وزیراعلٰی ان کے ساتھ نہیں ہوتے تھے
سندھ کی سیاست گزشتہ چار دہائیوں سے کئی جہتوں میں تقسیم ہے سب سے بڑی تقسیم دیہی اور شہری سندھ کی ہے پیپلز پارٹی چند خاندانوں کی روایتی نششتوں کے علاوہ دیہی سندھ کی بلا شبہ مالک رہی ہے اور شہری سندہ ایم کیو ایم کے پاس رہا ہے جب کبھی پیپلز پارٹی کو روکنے کی کوشش کی گئی تو شہری سندھ سے ایم کیو ایم اور دیہی سندھ سے خاندانی اور روایتی نششتیں رکھنے والوں کو ایک ساتھ جوڑ دیا گیا کبھی سند ھ نیشنل الائنس( ایس این اے) بنایا گیاتو کبھی سندھ ڈیموکریٹک الائنس ( ایس ڈی اے) بنا اور اب گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) میدان میں ہے کہا جاتا ہے اس فارمولے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ یا بااثر قوتوں کا ہاتھ ہوتا تھا کئی بار اسٹیبلشمنٹ کو کامیابی ہوئی اس نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے نہیں دی لیکن اس مرتبہ بوجوہ ایسا نہیں ہوا جی ڈی اے کامیاب نہیں ہو سکا سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکو مت بن گئی لیکن ایک سال نہیں ہوا کہ پھر جی ڈی اے کو متحرک کیا جارہا ہے اوراس مرتبہ عمران خان نے اس فارمولے اور فلسفے پر عمل کرنے کا علم اٹھایا ہے انھیں بااثر حلقوں کا سہارا میسّر ہے یا نہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا تاہم عمران خان نے گھوٹکی کے مہر خاندان کے ساتھ شراکت داری کی ہے جو جی ڈی اے کے اہم راہنما ہیں اور ہمیشہ سے حکومتوں کا حصہ رہے ہیں دو ہزار دو میں جب سندھ کی وزارت اعلٰی کے لیے کئی لوگ لابنگ کررہے تھے ایسے میں مہر خاندان کے ایک گمنام سے رکن علی محمد مہر کا نام وزارت اعلٰی کے لیے سامنے آیا جو یقیناًاسٹیبلشمنٹ کا انتخاب تھا اس امر کے باوجود وفاق اور سندھ میں دو مختلف اور کٹّر مخالف جماعتوں کی حکومتیں ہیں اس خاندان کے لوگ دونوں حکومتوں میں وزیر ہیں،انتخابات سے قبل جی ڈی اے کا جھکاؤ مسلم لیگ ن کی طرف تھا اب پی ٹی آئی مہر خاندان کے زریعہ اسے اپنے ساتھ ملاناچاہتی ہے سندھ کی سیاست میں ہر خاندان اپنی جگہ اپنے دائرے میں تو مضبوط اور مستحکم ہیں لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سیاسی طور پر بھی کسی دوسرے خاندان کو اپنا ہمنوا بناسکتے ہیں لہٰزا عمران خان کی سندھ میں بڑے تمطراق کے ساتھ ہونے والی انٹری سے پیپلز پارٹی کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے بہر حال ضروری ہے کہ وہ اپنا قبلہ درست کرے کیونکہ اگر عمران خان کو بااثرقوتوں کی آشیر باد حاصل ہے اور وہ سنجیدہ ہیں تو وہ پنچھی جو پیپلز پارٹی نے اپنے منڈیر پر بٹھائے ہیں انھیں اڑنے میں دیر نہیں لگے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں