ہم خادم الحرمین الشریف شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ کروناء وباء کی صورت میں سعودی حکومت نے نہ صرف اپنی عوام بلکہ یہاں موجود لاکھوں تارکین وطن اور اور انکے اہل خانہ کو بلا تفریق بھر پور خیال رکھا ہے

ہم خادم الحرمین الشریف شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ کروناء وباء کی صورت میں سعودی حکومت نے نہ صرف اپنی عوام بلکہ یہاں موجود لاکھوں تارکین وطن اور اور انکے اہل خانہ کو بلا تفریق بھر پور خیال رکھا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے کہ سعودی عوام اور یہاں مقیم غیر ملکی بھرپور انداز میں اس وباء سے محفوظ رہ سکیں،

یہ بات جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجید نے پاکستانی اخبارات کے نمائیندگان کے ہمراہ ایک پریس بریفینگ میں کہی، خالد مجید نے کہ سعودی حکومت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں سعودی عوام اور تارکین وطن حکومت کے بتائے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا۔ خالد مجید نے کہا کروناء وبا پاکستان کے قونصلیٹ کے لئے بہت بڑے چیلنجز لایا چونکہ سعودی عرب کے اس مغربی صوبے میں پاکستانیوں کی تعداد تمام دنیا میں پھیلے ہوئے پاکستانیوں کی تعداد سب زیادہ ہے۔اور ان مشکلات پر سعودی حکام، پاکستان کمیونٹی کے ذریع بھر پور تعاون سے قابو پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پروازوں کی بندش کے بعد یہاں رہ جانے والے 500 عمرہ زائرین کی واپسی پی آئی اے اور سعودی ائر لائنز کے تعاون سے ممکن ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ہزاروں پاکستان جو یہاں اپنے مسائل کی وجہ سے ملک جانا چاہتے تھے انکی فہرستں مرتب کی گئیں اور سعودی سول ایوی ایشن کے تعاون سے صرف جدہ قونصلیٹ کے زیر انتظام شہروں سے64 خصوصی پروازوں کے ذریعے 14000 سے زائد پاکستانیوں کو بھیجا گیا۔ اور اب روزآنہ ایک فلائٹ پاکستان جاتی ہے یہ فلائٹس یک طرفہ ہیں جس سے خواہش مند پاکستان جارہے ہیں وطن واپسی کے لئے ہماری ترجیحات میں وزٹ ویزا، خروج نہا ئی اور طبی ہنگامی صورتحال تھیں۔ ایسے لوگوں کی شناخت کے لئے ایک فارم سوشل میڈیا کے ذریعے سرکولیٹ کیا گیا۔، خالد مجید نے بتایا کہ اب جب سے سعودی عرب میں کرفیو اور پابندیوں میں نرمی آگئی ہے اور معمول کی زندگی شروع ہوگئی ہے، وطن واپسی کا دباؤ بھی کم ہو گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کی پابندیوں کے عرصے کے دوران بہت سے پاکستانی کمیونٹی ممبران کو دفاتر کی بندش، ملازمت سے سبکدوشی اور کسی قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے فقدان کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان آزمائشی اوقات میں ہم نے زیادہ سے زیادہ ضرورت مند اور بے سہارا پاکستانیوں میں کھانے کی چیزیں اور راشن بیگ تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ ہم اپنے متمول کمیونٹی ممبران اور تنظیموں کے بھی شکر گزار ہیں جو ہماری دعوت پر آگے آئے اور برادری کے افراد کی مدد کی۔قونصل جنرل خالد ماجد نے بتایا کہ پابندیوں میں نرمی اور کرفیو اٹھانے کے بعد، قونصلیٹ نے سعودی حکومت کے اعلان کردہ تمام احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی معمول کی قونصلر خدمات شروع کردی ہیں۔اور اسوقت تقریبا 4500 ہر ہفتہ پاکستانی قونصلر خدمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ہم نے جولائی سے مغربی خطے کے مختلف شہروں کے قونصلر دورہ بھی شروع کرد یئے ہیں، جس سے دوسرے شہروں میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی کو آسانی ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ کرفیو کے دوران بھی قونصلیٹ عوامی خدمت کے لئے کھلا تھا، اور ہم نے ڈیوٹی افسران کے رابطے کے نمبر نوٹیفائی کیے جو کمیونٹی کو چوبیس گھنٹے دستیاب تھے۔قونصل جنرل نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کورونا سے متاثرہ تمام مریضوں کو مفت طبی امداد دینے کے اعلان کرنے کی تعریف کی۔ خالد مجید نے کہا کہ قونصیلٹ اپنے ہم وطنوں کو تمام افسران، کمیونٹی اور میڈیا ک تعاون سے سہولیات کی فراہمی کوممکن بناسکی انہوں نے مملکت میں پاکستانی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے مملکت میں کورونا کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانی ڈاکٹروں کے لئے بھی دعا کی جنہوں نے لائن آف ڈیوٹی میں اپنی جان کی پروا کئے بغیر اپنا فرض نبھایا اور اپنی زندگی گنوا دی