کیا پاکستان میں کوئی بڑا شخص جرم نہیں کرتا؟

جی آئی ٹی کس بلا کا نام ہے۔
کیا پاکستان میں کوئی بڑا شخص جرم نہیں کرتا؟
سہیل دانش
جے آئی ٹی کس بلا کا نام ہے۔ جب یہ آتی ہے تو ایک واویلا مچ جاتا ہے۔ ایک کہرام برپا ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ نمبر ون جے آئی ٹی ہے۔ عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر سندھ اور وفاقی حکومتیں آپ میں الجھ پڑی ہیں۔ اس لڑائی میں ان کے باہر کی تلخی، اندر کی تلخی سے مل کر زہر بن چکی ہے اور یہ زہر دل کی ہر حرکت کے ساتھ ان کی رگوں سے الجھ رہا ہے، ان کی سانسوں سے جھگڑ رہا ہے۔
ٹی وی اینکرز اور قلمکاروں کو ایک دلچسپ موضوع مل گیا ہے۔ ہر کوئی اپنے زاویہ نگاہ سے اس کا جائزہ لے رہا ہے۔ نئی نئی تاویلیں بیان کر رہا ہے۔ اپنی اپنی عینک لگا کر اس کی تشریح کر رہا ہے۔ رینگتے ہوئے خدشات بھی بتا رہا ہے اور ابھرتے ہوئے اندیشوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جرائم کی ایک داستان ہے اور ایسی داستانوں اور چہروں پر بد نما داغوں سے ہماری قومی تاریخ بھری پڑی ہے۔ جس نے ہمارے تشخص کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ کوئی اگر انہیں کریدنے کی کوشش کرے گا اور یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ اصل حقیقت کیاہے تو اس پر یہ سچائی آشکار ہو گی کہ ان میں نظر آنے والے کھلونے کوئی اور ہیں اور ان میں چابی بھرنے والے کردار اور بھیانک چہرے کوئی دوسرے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا کہ پاکستان کی جیلوں میں بالائی طبقات سے تعلق رکھنے والے کتنے لوگ موجود ہیں۔ ہمارے طبقہ اشرافیہ کے لوگ جرم کے بعد تھانے میں کچھ دے دلا کر فارغ ہوجاتے ہیں، اپنی جگہ کوئی کمّی یا کوئی کارندہ پولیس کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ ججوں سے رابطہ کر لیتے ہیں، اگر وہاں تک کوئی ترکیب کارگر نہ ہو تو کروڑ دو کروڑ روپے میں صف اول کا کوئی وکیل حاصل کر لیتے ہیں۔ اگر یہ کمال بھی کام نہ آئے تو گواہوں کو خریدنا، شہادتیں ضائع کرنا اور متاثرہ پارٹیوں کو دھمکیوں اور بریف کیسوں سے متاثر کرنا کہاں مشکل ہے۔ لیکن ان تمام ہتھکنڈوں کے با وجود کسی بڑے شخص کو سزا ہو جائے تو پھر سیاسی اثرو رسوخ کی مدد سے پھانسی کو عمر قید اور عمر قید کو قبل از رہائی میں بدلنا ان بڑے لوگوں کے لئے ہر گز مشکل نہیں ہوتا۔ اس لئے مجھے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جہاں کوئی بڑا شخص جرم نہیں کرتا۔ دوسری طرف جب میں دیکھتا ہوں تو وہ قیدی ہیں جو ان قلعہ نما دیواروں، ان ٹھنڈی بیرکوں اور ان مہیب کال کوٹھریوں میں اپنے گناہوں، اپنے جرائم کے بجائے اپنی غربت، اپنی کمزوری، سماجی پوزیشن اور اپنے نا قابل ذکر شجرہ و نسب کی سزا بھگت رہے ہیں۔یہ کہنے کا مطلب ہر گز نہیں کہ یہ بے گناہ ہیں،جو لوگ واقعی مجرم ہیں انہیں اپنے کئے کی سزا ملنی چاہیئے۔ قید والوں کو قید کاٹنی چاہیئے، کوڑوں والوں کو ٹکٹکی کا ذائقہ چکھنا چاہیئے۔ پھانسی والوں کو پھانسی گھاٹ پہنچنا چاہیئے۔ جو لوگ اسٹریٹ کرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں، ان کو ہر قیمت پر گرفت میں لیکر برق رفتاری سے فیصلے ہونا چاہیئے۔جو بدمعاش اور رہزن چھینا جھپٹی میں لوگوں کی جان لے لیتے ہیں ان کا کیس اینٹی ٹریرسٹ کورٹ میں چلنا چاہئے اور انہیں پھانسی کے پھندے پر جھولنا چاہیئے۔ یاد رکھیں سزا سے ذیادہ سزا کا خوف اور ہیبت ناکی جرائم کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اگر کوئی خود اقرار جرم کر رہا ہے کہ اس نے 200لوگوں کا قتل کیا ہے تو ایسے شخص کو عبرت کی تصویر بنا دینا چاہیئے۔
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز سے ایک بار ڈیوڈ فروسٹ نے سوال کیا کہ سعودی عرب میں آپ لوگ ہاتھ کاٹنے اور گردن اڑانے کی جو سزا ئیں دیتے ہیں وہ بظاہر بڑی ظالمانہ لگتی ہیں۔ سعودی فرمانروا کا جواب تھا کہ ہمارے ہاں ایک سال میں جتنے جرائم ہوتے ہیں۔ امریکہ میں ایک گھنٹے میں اس سے ذیادہ جرائم ہوتے ہیں۔یہ صرف یہی سزا کا خوف ہے، جس نے ہمارے معاشرے کو پر امن رکھا ہوا ہے۔ کئی سال سے جب کراچی میں جرائم عروج پر تھے، قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا تو میں نے اپنے ایک دوست کے گھر کھانے کی دعوت پر مدعو دبئی پولیس کے چیف کرنل حارب سے پوچھا کہ آخر ہم اس شہر کو جو ایک وقت مثالی اورپر امن شہر تھا، اس شہر کے موجودہ جرائم پر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا اس کے لئے کڑی سزا کا تصور قائم کرنا پڑے گا۔ آپ جیل سے سنگین جرم میں سزا یافتہ دس افراد کو چوراہے پر لٹکا دیں۔اگر یہ نہیں کر سکتے تو جیل میں پھانسی کی فلم بنا کر ٹی وی پر دکھا دیں۔ آپ کے ہاں دیکھتے ہی دیکھتے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہو جائے گی۔نواز شریف کے دور میں جب ملٹری کورٹس نے سزائیں دینا شروع کیں تو جرائم کی شرح بہت کم رہ گئی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پپو نامی بچے کو اغواء اور اسکے بعد قتل کرنے کے الزام میں قذافی اسٹیڈیم میں کھلے عام قاتلوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور اس منظر کو ٹی وی پر براہ راست دیکھایا گیا تو پاکستان میں اگلے تین سال تک کسی بچے کے اغواء کی واردات نہیں ہوئی۔
1989میں اس وقت کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف نواز جنجوعہ نے اخبارات کے ایڈیٹر کو ایک بریفنگ کے لئے مدعو کیا۔ اپنے ایڈیٹر محترم نئیر علوی کی علالت کے باعث میں ان کی نمائندگی کر رہا تھا۔جنرل جنجوعہ نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی کے علاقے صدر میں ہونے والے کار میں رکھے گئے بم دھماکے میں ”را“ کا ہاتھ تھا۔انہوں نے بتایا کہ یہ گاڑی صدر کے علاقے میں صبح ساڑھے آٹھ بجے کھڑی کی گئی تھی او ر شام جس وقت یہ دھماکہ ہوا، گاڑی کھڑی کرنے والا دہشت گرد مونا باؤ کے راستے پاکستانی سرحد پار کر چکا تھا۔ جنرل جنجوعہ نے یہ بھی بتایا کہ 29ستمبر 1988کو حیدر آباد میں ہونے والے قتل عام میں ”جئے سندھ“ملوث تھی جبکہ 30ستمبر کو رد عمل میں کراچی کی ایک”لسانی جماعت“ کا ہاتھ تھا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ دونوں کا کنٹرول ایک ہی ہاتھ میں تھا۔ ڈان کے ایڈیٹر محترم احمد علی خان نے کور کمانڈر سے کئی دلچسپ سوالات کئے مگر یہ بات کسی اور تحریر کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔
مجھے اپنے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کی یہ بات سن کر ہنسی آ جاتی ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ قانون امیر اور غریب دونوں کے لئے برابر ہے۔تو پھر صرف یہ بتا دیں کہ وڈیروں، جاگیر داروں اور با اثر اور با اختیار لوگوں کو یہ حق کس نے دیا ہے جو انسانوں کو اپنے ڈیروں پر کتوں کی طرح باندھتے ہیں،زمین میں گاڑھ دیتے ہیں، پہاڑوں سے دھکہ دے دیتے ہیں، بھٹیوں کی چمنیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ جو انسانوں کو اپنے تلوؤں کو چاٹنے پر مجبور کرتے ہیں جو تعداد میں چند ہزار ہیں لیکن ملک کے اربوں کھا جاتے ہیں۔ ہر سال اربوں کی غیر ملکی شراب پی جاتے ہیں اور اتنے ہی پیسے جوئے میں ہار جاتے ہیں۔ جو منشیات کے ہزاروں اڈوں کے مالک ہیں جو بھتہ بھی لیتے ہیں اور جگا ٹیکس بھی دھونس اور دھاندلی سے لیتے ہیں، جو زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں اورغیر قانونی تعمیرات کرکے کروڑوں، اربوں کماتے ہیں۔ جو ننگی خواتین کا مارچ کراتے ہیں۔ جو تھانے خریدتے ہیں اور چوکیاں بیچتے ہیں۔ ان کے مزاج میں جو آتا ہے وہ کر گزرتے ہیں، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔لیکن مسجد سے جوتے چرانے، ڈنگر کھولنے، ہیروئن کی ایک پڑیا خریدنے، چند ہزار کا فراڈ کرنے، کسی کے گھر سے ٹی وی چوری کرنے والوں کو آپ جیل میں محبوس کر دیں، ان سے چکیاں پسوائیں، انہیں الٹا لٹکائیں، انہیں پھانسی پر چڑھائیں۔ اس پس منظر میں دیکھیں تو کیا آ پ کو ظلم و ذیادتی نظر آتی ہے یا نہیں۔ آخر ہمارا قانون ان تک کیوں نہیں پہنچ پاتا جن کا حلقہ جاگیر، مل، بزنس یا کوئی پارٹی ہوتا ہے، وہ تو دندناتے پھر رہے ہیں اور اسمبلی کی ڈیسک بجا رہے ہیں یا گھومنے والی کرسیوں پر جھول رہے ہیں۔
آپ جے آئی ٹی ضرور بنائیں، اس کی رپورٹس بھی شائع کریں لیکن علی گڑھ میں کیا ہوا۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے چہرے کو کس نے کھرچ دیا۔12مئی کو کیا ہوا،ساہیوال میں کیا ہوا، لاہور میں دن دہاڑے کس نے گولیاں چلائیں۔29ستمبر 1988کو میں نے خود سینٹ ایلزبتھ ہسپتال لطیف آباد نمبر7میں سینکڑوں لاشوں کو ہسپتال کے بر آمدے میں پڑا ہوا دیکھا تھا۔ میں نے بلدیہ کی فیکٹری میں آتشزدگی کے اگلے دن جلے ہوئے انسانوں کے خون کی بو سونگھی تھی۔ان جیسے اتنے واقعات ہیں کہ کتابوں کے کئی والیم لکھے جا سکتے ہیں۔ یہ نیوٹن یا آئن سٹائن کی کوئی تھیوری نہیں ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ انہوں نے نہ سلیمانی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں نہ وہ آسمان سے آگ برسا رہے تھے۔ اس لئے خدا کے واسطے جے آئی ٹیز کا سبق قوم کو نہ پڑھائیں۔ کچھ تو بتائیں کہ آج تک کسی کمیشن، کسی رپورٹ اور جے آئی ٹی کا کیا نتیجہ نکلا، کیا کسی مجرم کو کوئی سزا ملی۔ اگر یہ ممکن نہیں اور اگر پاکستان کے سارے ادارے، ساری قوتیں بے بس اور مجبور ہیں تو پھر کوئی ایک شخص ہی ایسا ہوجو انصاف کی کتاب پر یہ لکھ دے کہ ”پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کوئی بڑا شخص کوئی جرم نہیں کرتا“۔