22 گھنٹے گیم کھیلنے والے نوجوان کے ساتھ کیا ہوا؟

بیجنگ: چین میں روزانہ 22 گھنٹے تک کمپیوٹر پر گیم کھیلنے والے نوجوان کا بازو مفلوج ہوگیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے صوبے گوانگسی میں کرونا لاک ڈاؤن کے دوران روزانہ 22 گھنٹے تک کمپیوٹر پر گیم کھیلنے والے 15 سالہ نوجوان کا بازو مفلوج ہوگیا۔

مذکورہ نوجوان کی والدہ کا کہنا ہے کہ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران اسکول بند تھے اور زیاؤبن اپنے کمرے میں روزانہ تقریباً 22 گھنٹے گیم کھیلنے میں مشغول رہتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق زیاؤبن نویں کلاس کا طالب علم ہے، مسلسل گیم کھیلنے کی وجہ سے اس کا بازو بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے ہاتھ ہلانے سے قاصر ہے
زیاؤبن کی والدہ کے مطابق ان کے بیٹے نے اسکول کی بندش کے دوران زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں گزارا اور جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ کیا کررہا ہے تو اس نے جواب دیا کہ وہ آن لائن کلاس لے رہا ہے۔

والدہ کا کہنا تھا کہ میں نے اس کے دوستوں کے ساتھ آن لائن گفتگو دیکھی وہ آرام نہیں کررہا تھا اور دن میں صرف 2 گھنٹے ہی سو رہا تھا۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ غذائیت اور آرام کی کمی کی وجہ سے اس کے دماغ میں خون اور آکسیجن کی مقدار کم ہوگئی تھی اور اسے دماغی فالج ہوا ہے، نوجوان کو طبی امداد کی فراہمی جاری ہے