بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام کون اور کیوں تبدیل کرنا چاہتا ہے؟

غربت مٹاؤ پروگرام بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے حکمران جماعت نے اپنی سوچ کا اظہار کردیا ہے ۔پروگرام سے بےنظیر بھٹو کا نام ہٹانے کی مہم شروع کر دی گئی ہے اس مہم کا آغاز سندھ کے علاقے گھوٹکی سے کیا گیا جہاں وزیراعظم عمران خان کو سابق وزیراعلی سندھ علی محمد مہر نے دعوت پر مدعو کیا تھا بینظیر بھٹو کا نام انکم سپورٹ پروگرام سے ہٹانے کی خبریں کچھ اسطرح سامنے آئی کہ سندھ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد جی ڈی اے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اس پروگرام سے بے نظیر کا نام ہٹا دیا جائے تو اتحاد کی سیاست آگے بڑھ سکتی ہے اتحاد ارباب غلام رحیم مرتضیٰ جتوئی لیاقت جتوئی پیرپاگارا متحدہ قومی موومنٹ اور سندھی قوم پرست رہنماؤں پر مشتمل ہے یہ تمام وہ جماعتیں اور رہنما ہیں جو 2013 اور 2018 میں بری طرح شکست کھا چکی ہیں اور عوام کے ہاتھوں مسترد ہو چکی ہیں لیاقت جتوئی ارباب غلام رحیم اور علی محمد مہر صوبے کے وزیر اعلی رہے ہیں اور ان پر الزامات ہیں کہ وہ نامعلوم قوتوں کی حمایت سے وزیراعلیٰ بنوائے گئے تھے ۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کو یہ شکایت رہی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے پیپلز پارٹی کو فائدہ ہو رہا ہے تمام تر کوششوں کے باوجود جی ڈی اے 2018 کے الیکشن میں معمولی نشستیں حاصل کرسکا اور اس کے بڑے بڑے رہنما شکست کھا گئے 2002 میں گھوٹکی کے مہروں نے پیپلز پارٹی کو اقتدار سے محروم کیا تھا ان کے مقتدر حلقوں سے قریبی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں تاہم سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ وزیراعظم نے جس طرح جی ٹی اے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کو استعمال کیا اور یہ خبریں جس انداز سے میڈیا تک پہنچائی گئی ہیں وہ واضح اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی جی ڈی اے کو سیاسی طور پر کمزور کرنا چاہتی ہے ۔ایم کیوایم اور پیر پگارا کو زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لاکھوں کریب خواتین کو رقم ملتی ہے عمران خان کا ٹارگیٹ پیپلز پارٹی یا جی ڈی اے ۔۔۔۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام خطرے میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں