COVID-19 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ

COVID-19 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ
COVID-19 وبائی مرض نے غیر متوقع صورتحال کے بارے میں عالمی سطح پر سوچ کو تبدیل کیا ہے اور اس بحران کے دوران صارفین کے رویوں میں تبدیلی کے بارے میں صحت کی دیکھ بھال کے طریقوں، معاشی مفروضوں کے ساتھ ساتھ عام صورتحال کو بھی متاثر کیا ہے۔ مالیاتی، طبی اور سماجی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا وائرس کا حملہ نہ صرف اب بھی ہمارے پیچھے ہے بلکہ اس بات کا شکر ہے کہ یہاں اب بھی کافی امید ہے۔ پاکستان موجودہ بحران میں اکیلا نہیں ہے۔ تقریباً 20 ہزار COVID-19 کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک کے تمام صوبوں میں مکمل لاک ڈائون پانچویں ہفتہ میں داخل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس نے متعدد چیلنجز کو جنم دیا ہے لیکن بیک وقت کئی معاشی امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا استعمال ایک اہم پہلو ہے جو سرکاری آپریشنز ، کاروبار اور ان کی فنانشل سپلائی چین کے ساتھ ساتھ افراد کو ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینے میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ نئے صارفین اور پہلے سے سبسکرائبر کرنے کے بعد دوبارہ ایپلی کیشن کو استعمال کرنے والے صارفین کی جانب سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سروس ایزی پیسہ کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایزی پیسہ کی نئی ایکٹیویشن میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ واپس آنے والے پرانے صارفین کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایزی پیسہ کی جانب سے دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ COVID-19 بحران اور ملک بھر میں لاک ڈائون سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کے بعد ایپلی کیشن کے ذریعے روزانہ کے لین دین میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح صارفین کی جانب سے ملک میں معروف ای کامرس پلیٹ فارم دراز کے ای والٹس کے استعمال میں اوسطاً 8.2 گنا اضافہ دیکھا گیا۔موبائل والٹس اور بینکوں نے اپنی ایپلی کیشنز میں آن لائن شاپنگ خدمات کو شامل کیا ہے اور صارفین کو COVID-19 کے دوران اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لئے مکمل طور پر کسی چیز کو چھوئے بغیر تجربہ کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے ایئر ٹائم اور ڈیٹا بنڈل کی خریداری، بل اور فیسوں کی ادائیگیوں، رقوم کی منتقلی، کیو آر پے منٹس، تنخواہوں کی تقسیم اور زکواۃ کی ادائیگیوں وغیرہ سمیت اپنے فیچرز کو بھی بہتر بنایا ہے۔ پاکستانی معیشت کا زیادہ تر انحصار نقد رقوم پر ہے، تمام لین دین کا 80 فیصد ہارڈ کرنسی کے ذریعے انجام پاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ معیشت کے مختلف اسٹیک ہولڈروں نے اس بات کو سمجھا کہ صارفین کے طرز عمل میں نمایاں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ مالیاتی نظام کی فعالیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں اور مائیکرو فنانس انسٹی ٹیوشنز کو لاک ڈائون کا اعلان ہوتے ہی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں سے ہر قسم کے لین دین کی فیس کو ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بینکوں نے اس پر عمل کیا اور صارفین کو سہولت کی فراہمی کیلئے اپنی ایپلی کیشنز میں نئے ادائیگی کے فیچرز کو شامل کیا۔ مکمل طور پر ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھنے اور اس کے فوائد کو صحیح طریقے سے حاصل کرنے کیلئے ابھی بہت طویل سفر باقی ہے۔ ایک سہ جہتی نکتہ نظر کی ضرورت ہے، سب سے پہلے ہر پاکستانی کیلئے ڈیجیٹل والٹس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی تاکہ انہیں کیش کے متبادل کوئی دوسرا طریقہ فراہم کیا جا سکے۔ دوسرا ڈیجیٹل ادائیگیوں کو قبول کرنے والے ریٹیلرز اور ایس ایم ایز کی تعداد کو بڑھانا ہوگا جس سے عوام کو آسان اور محفوظ طریقے دستیاب ہوں گے۔ آخری یہ کہ کیش پر مبنی ٹرانزیکشنز کی حوصلہ شکنی اور مقامی مصنوعات پر کیش بیکس اور رعایت کی فراہمی کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مراعات کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ یہ کوششیں ایک ساتھ مل کر پاکستان میں مستحکم، شفاف اور مضبوط مالیاتی ایکو سسٹم کی طرف بتدریج لیکن فیصلہ کن تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں


Syed-Shoaib-Sharome-
nawaiwaqt-