مائنس ، پلس کی کہانی


مائنس ون، مائینس تھری، مائینس 160 کی باتیں شروع کرکے حزب اختلاف اور حکومت دونوں عوام کو مائنس کر رہے ہیں جن کا دماغ پہلے ہی مہنگائی ، بے روزگاری ، بجلی کی ناپیدی ، ملک میں روز روز کے نئے نئے اسکینڈلز کے باعث ’’مائنس ‘‘ ہوچلاہے۔ چونکہ بے روزگاری کے خوف ، اور پہلے سے موجود بے روزگاری نے اور بغیر کسی اضافی ّآمدنی کے روز مرہ کی لازمی اشیاء کی ہوشرباء مہنگائی نے عوام کو بلڈ پریشر ، و ذیا بیطیس کا مریض کردیا ہے ، اوپر سے ظلم یہ کہ مارکیٹ میں دوائیں دوکاندار بلا خوف یہ کہہ کر فروخت کرتے ہیں کہ نمبر1 دوائی چاہئے یا نمبر 2؟؟ شائد ہی کسی ملک میں دوائی بھی نمبر1 اور2 ہو، بہر کیف اسوقت پاکستان میں جو حالات ہیں وہ کم و بیش پہلی حکومتوںکے ادوار میں بھی رہے ہیں ۔ مگر موجودہ حکومت تو تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں اسطرح آئی تھی جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے ’ روٹی ، کپڑا اور مکان کا دلفریب نعرہ دیا تھا۔ تبدیلی کا نعرہ نہایت خوش کن تو ہے ان عوام کیلئے جو اپنے اور اپنی آنے والی نسل کیلئے بہتر و تابناک مستقبل کیلئے خواہاںہیں اور تھے ۔ نعرہ سحرکن تھا مگر اس کے باوجود موجودہ حکومت کو اسمبلی میں وہ تعداد میسر نہ آسکی کہ وہ بہ آسانی کوئی قانون سازی کرسکے ، ملک کے مستقبل کا کوئی لائحہ عمل مرتب کرسکے ، حکومتی اتحادی ،جن کا کام ہی حکومت کی مدد کرنا بہ عوض ’ اس ہاتھ لو ، اس ہاتھ دو ‘‘ ہوتا ہے اور دوران حکومت بھی مشکل حالات کو بھانپ کر ، حکومت کو کسی مسئلے پر پریشان دیکھ کر اپنے مطالبات کو مزید بڑھانا ہوتا ہے ۔ یہ عمل ہماری سیاست میں گزشتہ تقریبا پندرہ بیس سال سے جاری ہے جس کے نتیجے میں حکومتوںکی ناکامی کا تاثر بنتا ہے یا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ، رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے کہ جمہوریت ہمارے جیسے ملکو ںکیلئے نہیں ، وہ مافیا جنکا وزیر اعظم گزشتہ دوسال سے ذکر کر رہے ہیں وہ نہ صرف گراں فروشی ، ذخیرہ اندوزی ، کرپشن ، میں ملوث ہے بلکہ جمہوری نظام کے خلاف پروپیگنڈہ میں بھی پچاس فیصد یہ ہی لوگ ملوث ہیں اور اپنے ذرائع سے اس طرح کے ’’آئیڈیاز ‘‘ کو میدان میںپھینکتے ہیں ، ہر حکومت انتخابات سے قبل یہ ہی اعلان کرتی ہے کہ اس کے پاس ہر شعبے کے ماہرین موجود ہیں، پہلے ادوار میں بھی ایسا تھا اور آج کی حکومت کا بھی یہ ہی مسئلہ ہے اسلئے جب تحریک انصاف کو مسند اسلام آباد ملی تو وزیر اعظم نے اپنے آس پاس ایسے بہت ہی کم لوگوں کو پایا جنکا شمار ماہرین میں کیا جا سکتا ہے ۔ اس لئے ماہرین چاہے قانونی ہوں، چاہے معیشت داں ہوں ، انہیں’’درآمد ‘‘کیا گیا ، درآمد شدہ شخص سوٹ کیس لے کر آتا ہے حکومتوں کو ناکام کراکر وہی سوٹ کیس لے کر واپس چلا جاتا ہے ۔

پاکستان نہ اس کا ملک ہوتا ہے نہ اس کی دلچسپی۔ وزیر اعظم کی تقریر جس میں ’’ مائنس ون ‘‘ کا مسئلہ بیان کیا گیا ، یہ بات عوام کیلئے نئی تھی، حکومتیں ناکام ہوتی ہیں ، حزب اختلاف کا کام شور مچانا ہوتا ہے وہ شور مچاتی ہے مگر کوئی حکومت از خود ’’مائنس ‘‘کی داستان سنانی شروع کردے اس سے تاثر ملتا ہے کہ حکومت کو اپنے اراکین پر قابو یا اعتبار نہیںرہا ۔ کارکردگی تو ایسی ہی ہے جو حکومتی ناکامیوںکی نداء دیتی ہے ، عوام کو ریلیف نام کی کوئی چیز گزشتہ دوسال میں نہ مل سکی ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے غیر ملکی قرضے کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ قیام پاکستان ہی سے ہر حکومت اپنے منصوبوں کی فنڈنگ کیلئے قرضے لیتی رہی ہے۔ نواز لیگ حکومت کے خاتمے تک ملک پر 95.4بلین ڈالر قرضے واجب الادا تھے۔ آئی ایم ایف نے ایک سال پہلے پیش گوئی کی تھی کہ 2022-23ء میں موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے پر قرضوں کا حجم 130بلین ڈالر ہو جائے گا یعنی ان میں 36.3فیصد اضافہ ہوگا۔ پھر یہ قرضے چکانے بھی ہیں جن کیلئے مزید قرضے چاہئیں۔ ایسے حالات میں جب ملکی معیشت پہلے سے خراب ہے اور رہی سہی کسر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں نے نکال دی ہے تو ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان ان غیر ملکی قرضوں کی ادئیگی کیلئے قرضے دینے والے ممالک اور اداروں سے ریلیف کیلئے رابطہ کرے۔ پاکستان کی یہ کوششیں کامیاب رہی ہیں اور اسے جی 20ملکوں میں سے 15کی جانب سے 2ارب ڈالر کے مجموعی ریلیف میں اپنا کردار ادا کرنے کا اشارہ مل گیا ہے گردشی قرضے 2500ارب روپے سے بڑھ گئے، حالانکہ اس سے پہلے بھی ادائیگیاں کی گئی ہیں، اس کے باوجود یہ قرضے اس حد تک بڑھ گئے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اربوں روپے ان قرضوں پر سود بنتا ہے۔ یہ بات کہاں پہنچے گی معلوم نہیں۔ البتہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آنے والی حکومت بھی یہی کہے گی کہ سابقہ حکومت بہت مشکلات چھوڑ کے گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو کم آمدنی والے ہیں اور جنہیں بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے لیے پرانے قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف اور نئے قرضوں کے حصول میں نرم شرائط انتہائی ضروری ہیں۔ حکومت کی کوششوں سے ایسا ہونا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ 2ارب ڈالر کا ریلیف پاکستان کی معیشت کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اتنے بیرونی قرضے لے جنہیں اتار سکے۔

پی ٹی آئی کو چونکہ ایوان میں محض 12 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے اور یہ اکثریت اسے اپنی اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان کی معاونت سے حاصل ہوئی ہے اس لئے پی ٹی آئی کو اپنا اقتدار برقرار رکھنے کیلئے اپنے اتحادیوں کو کسی بھی قیمت پر ساتھ لے کر چلنے کی مجبوری لاحق ہے۔تحریک انصاف کی حکومت میںوہ لوگ بھی شامل ہیں جو جمہوریت کو گالی نکال کر ان وقتوںکو یاد کرتے ہیں جب ملک میں آمریت ہوا کرتی تھی ۔ پی آئی اے بدنامی فیم وزیر ہوا بازی یہ تقریر فرما چکے ہیں کہ جمہورت سے اچھا غیر جمہوری دور ہوتا ہے ۔ انہی جیسے لوگ پھر 5 جولائی منا کرغیر جمہوری ادوار کو کوستے بھی ہیں ۔ جسکے موجد اور وجہ یہی سیاست دان ہی ہوتے ہیں