گلگت بلتستان میں الیکشن کس انتظامی حکمنامے کے تحت؟

رپورٹ: عبدالجبارناصر
—–

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے نہ صرف 2 جولائی کو انتخابی شیڈول جاری ہو چکا، بلکہ 7 جولائی کو پبلک نوٹس کے ساتھ ہی انتخابی عمل بھی شروع ہوچکا ہے مگر ووٹرز فہرست سمیت بظاہر کوئی تیاری نہیں نظر نہیں آرہی ۔ نظام کون سا ہے یہ بھی واضح نہیں۔

اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے مشاورت کے لیے جمعرات کو تمام جماعتوں کے سربراہوں اور رہنمائوں کو اپنے دفتر میں مدعوکیا ہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ کئی اضلاع نے تیاری نہ ہونے اور کورونا وبا کے خطرات کے باعث انتخابات ملتوی کرنے کی سفارش کی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ریٹرننگ افسران خود تذبذب کا شکار ہیں کہ انتخابات گلگت بلتستان انتظامی حکم نامہ 2018ء کے مطابق ہورہے ہیں یا گلگت بلتستان انتظامی حکم نامہ 2019ء یا کسی اور نظام کے تحت؟

انتخابات ’’گلگت بلتستان اسمبلی ‘‘کے لیے ہورہے ہیں یا ’’گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی‘‘ کے لیے؟ 7 جولائی کو ریٹرننگ آفسران نے جو پبلک نوٹسز جاری کیے ہیں ، ان میں سے بعض نے ’’گلگت بلتستان اسمبلی ‘‘ اور بعض نے ’’گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی‘‘ کا نوٹس جاری کیا ہے۔ اسی طرح ووٹرز فہرست بھی تیارہے اور نہ ہی نظر ثانی ہوئی ہے۔انتخابی شیڈول کے مطابق 13 سے 16 جولائی تک کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے اور 18 اگست کو پولنگ ہوگی۔